
خبررساں ادارے
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر ایک اعلیٰ سطحی سیاسی و سکیورٹی وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے، جہاں ان کا استقبال ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کیا۔ اس اہم دورے کو خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں اور ممکنہ مذاکراتی پیش رفت کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی خبررساں ادارے کے مطابق جنرل عاصم منیر کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد تہران ایک اہم پیغام لے کر پہنچا ہے، جسے واشنگٹن کی جانب سے بھیجا گیا بتایا جا رہا ہے، اور اس پر ایرانی قیادت کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق یہ اعلیٰ سطحی وفد نہ صرف موجودہ علاقائی صورتحال پر بات چیت کرے گا بلکہ آئندہ ممکنہ مذاکرات کے خدوخال بھی طے کرنے کی کوشش کرے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک سہولت کار کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے اور فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور مکالمے کو فروغ دینے کیلئے سرگرم ہے۔
اس سے قبل پاکستان سے باخبر ذرائع نے تصدیق کی تھی کہ ایک اعلیٰ سطحی سیاسی و سکیورٹی وفد اسلام آباد سے تہران کیلئے روانہ ہوا ہے، جس میں اہم حکومتی اور سکیورٹی شخصیات شامل ہیں۔ اس دورے کا مقصد ایران کے ساتھ براہ راست مشاورت کے ذریعے آئندہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بات کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جلد ہی اسلام آباد میں منعقد ہو سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے ابھی تک باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، جبکہ سفارتی سطح پر مشاورت جاری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنرل عاصم منیر کا یہ دورہ نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کے ذریعے پاکستان خطے میں ایک فعال سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان نہ صرف علاقائی استحکام کیلئے سنجیدہ ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک ذمہ دار شراکت دار کے طور پر اپنا کردار مضبوط بنا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق تہران میں ہونے والی ملاقاتوں میں علاقائی سکیورٹی، دوطرفہ تعلقات، اور جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے ممکنہ اقدامات پر بھی تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید ہے بلکہ پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی عالمی سطح پر مزید تقویت مل سکتی ہے۔



