
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد میزائل پلیٹ فارمز کی تیاری کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ ایک ابتدائی معاہدہ تقریباً تیار ہے، تاہم چند بنیادی نکات اب بھی باقی ہیں ،جو اگر ایرانی فریق نے لچک نہ دکھائی تو اس مذاکراتی دور میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
کیا مذاکرات ہونے والے ہیں؟
اس دوران ایرانی سرکاری میڈیا نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ تہران فی الحال واشنگٹن کے ساتھ نئی مذاکراتی نشست میں شرکت کا ارادہ نہیں رکھتا۔ایرانی نشریاتی ادارے نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ فی الوقت ایران اور امریکہ کے درمیان آئندہ مذاکراتی دور میں شرکت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔دوسری جانب خبر رساں ایجنسیوں فارس اور تسنیم نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کہا کہ تہران نے ابھی تک شرکت یا عدم شرکت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا اور یہ کہ مجموعی فضا کو زیادہ مثبت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی پابندیوں کا خاتمہ مذاکرات کے آغاز کے لیے ایک بنیادی شرط ہے۔
اس کے برعکس باخبر ایرانی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایک ایرانی وفد منگل کو پاکستان پہنچے گا تاکہ امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کیے جا سکیں۔سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ذرائع نے توقع ظاہر کی کہ یہ وہی وفد ہوگا جو گزشتہ مذاکراتی دور میں شریک تھا، جس میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل تھے۔
ٹرمپ کا اعلان
یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ پیر کے روز ایک وفد پاکستانی دارالحکومت بھیج رہے ہیں تاکہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے حوالے سے مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے۔
مذاکراتی وفد بھیجنے کے اعلان کے ساتھ ہی ٹرمپ نے اتوار کو ایک بار پھر ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دے گا۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل” پر لکھا: امریکہ ایران کے ہر پاور پلانٹ اور ہر پل کو تباہ کر دے گا۔
دوسری جانب پاکستانی حکام نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ممکنہ امریکہ ایران مذاکرات کے پیش نظر پاکستان سیکیورٹی کے سخت انتظامات کر رہا ہے، جس کے تحت 10 ہزار اضافی سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جن میں خصوصی فورسز اور اسنائپرز بھی شامل ہوں گے۔
پہلا دور
دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی کی مدت تین دن بعد ختم ہو رہی ہے، یہ جنگ بندی امریکہ اور اسرائیل ایک طرف، اور ایران دوسری طرف کے درمیان طے پائی تھی، جس نے 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ میں فائر بندی کر دی تھی۔
یاد رہے کہ اسلام آباد نے گذشتہ ہفتے ہفتہ کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی کی تھی، جس کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کی، تاہم یہ مذاکرات کسی معاہدے پر منتج نہیں ہو سکے۔
اس کے باوجود پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے اور جنگ کے خاتمے کے لیے کسی حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔



