پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے سمیڈا کا بڑا اقدام، وومن انٹرپرینیورشپ پالیسی منظوری کے قریب

خواتین کو معاشی دھارے میں شامل کرنا دراصل پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کے مترادف ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان وائس آف جرمنی اردو نیوز،قاسم بخاری ریڈیو پاکستان کے ساتھ

سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (SMEDA) کی بورڈ ممبر اور وزیرِاعظم کی اسٹیئرنگ کمیٹی برائے ایس ایم ایز کی رکن آسیہ سائل نے کہا ہے کہ ادارہ خواتین میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ریڈیو پاکستان کو خصوصی انٹرویو
ریڈیو پاکستان کے نمائندے قاسم بخاری کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں آسیہ سائل نے بتایا کہ خواتین کو قومی دھارے میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور سمیڈا اس سلسلے میں عملی اقدامات کر رہا ہے تاکہ خواتین نہ صرف کاروبار شروع کریں بلکہ انہیں پائیدار بنایا جا سکے۔

پاکستان کی پہلی وومن انٹرپرینیورشپ پالیسی
انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی وومن انٹرپرینیورشپ پالیسی تیار کر کے وفاقی کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ پالیسی خواتین کو کاروباری مواقع، تربیت، مالی وسائل اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

معیشت میں خواتین کا کردار ناگزیر
آسیہ سائل نے کہا کہ سمیڈا کا خاص فوکس خواتین اور چھوٹے کاروباروں پر ہے کیونکہ وزیرِاعظم شہباز شریف اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ملک کی 50 فیصد آبادی کو معاشی سرگرمیوں میں شامل کیے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو معاشی دھارے میں شامل کرنا دراصل پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کے مترادف ہے۔

خواتین کے لیے فنانس تک رسائی بڑا چیلنج
انہوں نے مزید بتایا کہ خواتین کو کاروبار کے لیے مالی وسائل تک رسائی حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، خاص طور پر کولیٹرل (ضمانت) کی شرط ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے سمیڈا ایسے اقدامات کر رہا ہے جن کے تحت خواتین کو بغیر کولیٹرل کے قرضے فراہم کیے جا سکیں گے۔

سمیڈا میں جینڈر انکلوژن ڈیپارٹمنٹ کا قیام
آسیہ سائل کے مطابق سمیڈا میں جینڈر انکلوژن ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے جہاں خواتین کو کاروبار شروع کرنے اور اسے آگے بڑھانے کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین “شی اسٹارٹ اپ ایڈوائزری” جیسی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں جہاں ماہرین ان کی بزنس پلاننگ، مارکیٹنگ اور فنانسنگ کے حوالے سے مدد کرتے ہیں۔

ذاتی ادارے میں بھی خواتین کو ترجیح
ایک سوال کے جواب میں آسیہ سائل نے بتایا کہ ان کی اپنی تنظیم میں بھی خواتین کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ادارے کے کلچر میں خواتین کو بااختیار بنانے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل چار خواتین اس بات کی عملی مثال ہیں کہ خواتین قیادت میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔

خواتین کو بااختیار بنانا وقت کی ضرورت
انہوں نے زور دیا کہ اگر خواتین کو مناسب مواقع، وسائل اور رہنمائی فراہم کی جائے تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ ملکی معیشت کی ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سمیڈا آئندہ بھی خواتین کی کاروباری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور انہیں خودمختار بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button