امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر اضافی ٹیرفس عائد کرنے کا منصوبہ
رپورٹ کے مطابق مجوزہ ٹیرفس فی الحال عوامی مشاورت اور جائزے کے مرحلے میں ہیں، لہٰذا انہیں فوری طور پر نافذ نہیں کیا جائے گا۔
اے ایف پی،روائٹرز کے ساتھ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2 اپریل 2025 کو واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں نئے ٹیرفس کے اعلان کے موقع پر خطاب کر رہے ہیںامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2 اپریل 2025 کو واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں نئے ٹیرفس کے اعلان کے موقع پر خطاب کر رہے ہیں
بدھ کے روز جاری کردہ ایک رپورٹ میں امریکی تجارتی نمائندے (یو ایس ٹی آر) کے دفتر نے کہا کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ 60 معیشتیں ایسی ہیں جو جبری محنت سے تیار شدہ اشیاء کی تجارت یا برآمد پر پابندی کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے میں ناکام رہی ہیں، جس سے امریکی تجارت متاثر ہو رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ ٹیرفس فی الحال عوامی مشاورت اور جائزے کے مرحلے میں ہیں، لہٰذا انہیں فوری طور پر نافذ نہیں کیا جائے گا۔
تجویز کے تحت پاکستان، کینیڈا، میکسیکو، تائیوان، برطانیہ اور یورپی یونین کے رکن ممالک سے درآمد ہونے والی اشیاء پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ امریکی حکام کے مطابق ان ممالک نے جبری محنت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے بعض اقدامات اور وعدے کیے ہیں، تاہم ان پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، برازیل اور سوئٹزرلینڈ سمیت 45 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ امریکی بیان میں کہا گیا ہے کہ ان ممالک نے جبری محنت سے تیار شدہ اشیاء کی درآمد پر پابندی کو مؤثر انداز میں نافذ نہیں کیا۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو فروری میں امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ایک نیا قانونی راستہ فراہم کر سکتا ہے، جس میں ان کی طرف سے متعدد سابقہ ٹیرف اقدامات کو بڑی حد تک غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیرفس نافذ ہو گئے تو امریکہ کے کئی اہم تجارتی شراکت دار متاثر ہوں گے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ اس پیش رفت سے عالمی تجارتی منڈیوں میں بے یقینی بڑھنے اور امریکہ کے دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔


