سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان قیمتی پتھروں اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے اور یہ شعبہ برآمدات میں نمایاں اضافے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ قیمتی پتھروں کی کان کنی، پراسیسنگ اور برآمدات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے فوری اور جامع حکمت عملی ترتیب دی جائے۔
یہ بات انہوں نے پیر کے روز ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، جس میں ملک میں قیمتی پتھروں کے شعبے کی ترقی، جدید خطوط پر استوار کرنے اور تین سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام سے متعلق پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں دستیاب قیمتی پتھروں کو اگر جدید ٹیکنالوجی اور مہارت کے ذریعے پراسیس کیا جائے تو ان کی عالمی منڈی میں قدر کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف خام مال برآمد کرنے کے بجائے ویلیو ایڈیشن کے ذریعے تیار شدہ مصنوعات کو عالمی مارکیٹ تک پہنچایا جائے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت قیمتی پتھروں کی کٹائی، تراش خراش اور جیولری میں استعمال کے قابل بنانے کے لیے تین جدید سینٹرز آف ایکسیلینس قائم کر رہی ہے۔ ان مراکز کا قیام گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں کیا جا رہا ہے۔ متعلقہ علاقوں میں اراضی کی نشاندہی مکمل یا آخری مراحل میں ہے۔
وزیراعظم نے واضح ہدایت دی کہ ان سینٹرز کے قیام میں شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور تمام مراحل بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے ہارون اختر اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس شعبے کی ترقی کے لیے ان کے اقدامات قابل تحسین ہیں۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان سینٹرز میں نہ صرف جدید مشینری فراہم کی جائے گی بلکہ مقامی افراد کو بین الاقوامی معیار کی تربیت بھی دی جائے گی تاکہ وہ قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ میں مہارت حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ کان کنی کے ایسے طریقے متعارف کرائے جا رہے ہیں جن سے قیمتی پتھروں کا ضیاع کم سے کم ہو۔
حکام نے آگاہ کیا کہ مقامی آبادیوں کو اعتماد میں لے کر مشترکہ منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں، جن کے تحت تقریباً ایک ہزار افراد کو جدید کان کنی کی تربیت دی جا رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے بلکہ اس صنعت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا بھی ہے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ جولائی 2026 میں پاکستان میں قیمتی پتھروں کی پہلی بین الاقوامی نمائش منعقد کی جائے گی، جس میں دنیا بھر سے سرمایہ کاروں، خریداروں اور ماہرین کو مدعو کیا جائے گا۔ اس نمائش کا مقصد پاکستان کے قیمتی پتھروں کو عالمی سطح پر متعارف کرانا اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔
مزید برآں، سری لنکا اور چین کے تعاون سے افرادی قوت کی تربیت کے پروگرامز بھی شروع کیے جا رہے ہیں، جن کے ذریعے پاکستانی ماہرین کو جدید تکنیک سے روشناس کرایا جائے گا۔
وزیراعظم نے وزارت منصوبہ بندی کو ہدایت کی کہ قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے بعد برآمدات بڑھانے کے لیے ایک جامع اور قابل عمل لائحہ عمل جلد از جلد تیار کرکے پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شعبہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، بشرطیکہ اسے درست سمت میں ترقی دی جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، مصدق ملک، جام کمال خان، علی پرویز ملک، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چیف سیکریٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت قیمتی پتھروں کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، برآمدات میں اضافے اور مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے گی۔



