یورپتازہ ترین

جرمنی کے بینکوں میں اربوں یورو لاوارث پڑے، غیر فعال اکاؤنٹس پر ملک گیر بحث چھڑ گئی

وارثوں کی عدم رسائی، ڈیجیٹل بینکاری اور قانونی خلا کے باعث اربوں یورو برسوں سے غیر استعمال؛ مرکزی رجسٹر کے قیام کی تجویز زیر غور

ٹموتھی روکس

برلن: جرمنی اس وقت ایک ایسے مالیاتی اور قانونی مسئلے کا سامنا کر رہا ہے جس نے سیاست دانوں، بینکاری شعبے، قانونی ماہرین اور عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ملک بھر کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں اربوں یورو مالیت کی رقم ایسے اکاؤنٹس میں موجود ہے جو کئی برسوں بلکہ بعض صورتوں میں دہائیوں سے غیر فعال پڑے ہیں۔ ان اکاؤنٹس کے مالکان یا تو انتقال کر چکے ہیں یا ان سے رابطہ ممکن نہیں رہا، جبکہ ان کے قانونی وارث بھی اکثر ان اثاثوں سے لاعلم ہیں۔

یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جرمن حکومت بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے، اقتصادی دباؤ اور سرکاری اخراجات میں کمی کے چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری جانب اربوں یورو کی خطیر رقم مالیاتی نظام میں موجود ہونے کے باوجود عملی طور پر غیر استعمال شدہ پڑی ہے اور اس کے مستقبل کے بارے میں واضح قانونی لائحہ عمل موجود نہیں۔

اربوں یورو کا پراسرار سرمایہ

جرمنی کی وزارتِ تحقیق کی جانب سے 2021 میں جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے مختلف بینکوں اور مالیاتی اداروں میں موجود غیر فعال یا فراموش شدہ اکاؤنٹس میں تقریباً 4.2 ارب یورو موجود تھے۔ تاہم متعدد آزاد ماہرین اور مالیاتی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اصل رقم اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے اور بعض اندازوں کے مطابق یہ حجم 9 ارب یورو تک پہنچ چکا ہے۔

بینکنگ سیکٹر کی جانب سے اس حوالے سے کوئی جامع یا سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے، جس کے باعث اصل رقم کے تعین میں اب بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق یہ رقم صرف بینک اکاؤنٹس تک محدود نہیں بلکہ اس میں بچت اسکیمیں، سرمایہ کاری فنڈز، سیکیورٹیز، بیمہ پالیسیوں کی رقوم اور دیگر مالیاتی اثاثے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

غیر فعال اکاؤنٹس کیوں وجود میں آتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق غیر فعال اکاؤنٹس کا مسئلہ دنیا کے کئی ممالک میں موجود ہے، لیکن جرمنی میں آبادی کے عمر رسیدہ ہونے اور پیچیدہ مالیاتی نظام کے باعث یہ مسئلہ زیادہ نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔

اکثر افراد زندگی کے مختلف مراحل میں متعدد بینک اکاؤنٹس کھولتے ہیں۔ ملازمتوں کی تبدیلی، رہائش کی منتقلی، سرمایہ کاری کے مختلف منصوبے یا بچت کے مقاصد کے لیے بنائے گئے اکاؤنٹس وقت گزرنے کے ساتھ پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

بعض اوقات اکاؤنٹ ہولڈر انتقال کر جاتا ہے اور اس کے اہل خانہ کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ مرحوم کے مختلف بینکوں میں کتنے اکاؤنٹس موجود تھے۔ نتیجتاً یہ اکاؤنٹس برسوں تک غیر فعال رہتے ہیں اور ان میں موجود رقوم کسی کے استعمال میں نہیں آتیں۔

ڈیجیٹل بینکاری نے مسئلہ مزید پیچیدہ بنا دیا

بینکاری ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ماضی میں بینک اسٹیٹمنٹس، کاغذی فائلیں، پاس بکس اور ڈاک کے ذریعے آنے والی معلومات خاندان کے دیگر افراد کو بھی اکاؤنٹس کے بارے میں آگاہ کر دیتی تھیں۔ لیکن اب بینکاری کا زیادہ تر نظام موبائل ایپس، آن لائن پورٹلز اور ای میل اکاؤنٹس تک محدود ہو چکا ہے۔

اگر کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے اہل خانہ کو موبائل فون، ای میل اکاؤنٹ یا آن لائن بینکنگ تک رسائی نہ مل سکے تو اکاؤنٹس کی موجودگی کا سراغ لگانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے سہولت تو فراہم کی ہے لیکن وراثتی معاملات میں نئی پیچیدگیاں بھی پیدا کر دی ہیں۔

کرپٹو اثاثے اور نئی مشکلات

حالیہ برسوں میں کرپٹو کرنسیوں اور ڈیجیٹل اثاثوں کی مقبولیت نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

بٹ کوائن، ایتھیریم اور دیگر کرپٹو اثاثوں کے ساتھ ساتھ این ایف ٹیز (NFTs) جیسے ڈیجیٹل اثاثے بھی اب لوگوں کی مالی ملکیت کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ تاہم ان اثاثوں کا ریکارڈ روایتی بینکنگ نظام میں موجود نہیں ہوتا۔

اگر کسی شخص کے وارثوں کے پاس متعلقہ ڈیجیٹل کیز، پاس ورڈز یا اکاؤنٹس تک رسائی نہ ہو تو لاکھوں یورو مالیت کے اثاثے ہمیشہ کے لیے ناقابلِ رسائی ہو سکتے ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں ڈیجیٹل وراثت کا مسئلہ مزید اہمیت اختیار کرے گا۔

بینکوں کی ذمہ داری کہاں تک؟

جرمنی میں اس وقت کوئی ایسا جامع قانونی نظام موجود نہیں جو غیر فعال اکاؤنٹس کے حوالے سے بینکوں کی ذمہ داریوں کو واضح طور پر متعین کرتا ہو۔

اسی وجہ سے مختلف بینک اپنی اپنی پالیسیوں کے تحت کام کرتے ہیں۔ بعض بینک اکاؤنٹ ہولڈر یا اس کے ورثا کو تلاش کرنے کے لیے اضافی اقدامات کرتے ہیں جبکہ بعض صرف محدود سطح پر کوششیں کرتے ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق واضح قوانین کی عدم موجودگی کے باعث بعض اکاؤنٹس کئی دہائیوں تک غیر فعال رہ سکتے ہیں اور ان میں موجود رقوم مالیاتی نظام میں جمود کا شکار رہتی ہیں۔

کیا حکومت ان رقوم پر دعویٰ کر سکتی ہے؟

اس سوال نے جرمنی میں ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دیا ہے کہ اگر کسی اکاؤنٹ کا مالک یا وارث سامنے نہ آئے تو ان رقوم کا کیا کیا جائے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ جرمن قوانین کے تحت حکومت صرف اسی صورت میں کسی شخص کے اثاثوں پر دعویٰ کر سکتی ہے جب وراثتی قوانین کے مطابق ریاست قانونی وارث قرار پائے۔

اس لیے حکومت کو خودکار طور پر ان رقوم کا مالک قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے ان غیر استعمال شدہ رقوم کو عوامی فلاحی منصوبوں یا سماجی ترقیاتی پروگراموں کے لیے استعمال کرنے کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔

مرکزی رجسٹر کا مطالبہ

اس مسئلے کے حل کے لیے متعدد قانونی اور مالیاتی ماہرین ایک مرکزی غیر فعال اکاؤنٹس رجسٹر کے قیام کی حمایت کر رہے ہیں۔

برلن میں قائم ورثا کی تلاش سے متعلق پیشہ ور تنظیم "وی ڈی ای ای” کی بورڈ رکن بیاٹریس آئزن شمٹ کے مطابق ایک مرکزی رجسٹر ورثا کے لیے انتہائی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق اس وقت اگر کسی شخص کے وارثوں کو شبہ ہو کہ مرحوم کے مختلف بینکوں میں اثاثے موجود ہیں تو انہیں ہر بینک یا مالیاتی ادارے سے الگ الگ رابطہ کرنا پڑتا ہے، جو نہ صرف وقت طلب بلکہ مہنگا اور پیچیدہ عمل بھی ہے۔

بیاٹریس آئزن شمٹ کا کہنا ہے کہ مرکزی رجسٹر کے ذریعے چند لمحوں میں معلوم کیا جا سکے گا کہ کسی شخص کے نام پر کس مالیاتی ادارے میں اکاؤنٹ یا اثاثہ موجود ہے۔

رازداری کے قوانین بڑی رکاوٹ

اگرچہ مرکزی رجسٹر کے قیام کی حمایت بڑھ رہی ہے، لیکن جرمنی کے سخت ڈیٹا پروٹیکشن اور رازداری کے قوانین اس منصوبے کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھے جا رہے ہیں۔

شہری آزادیوں کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ایسا رجسٹر مالیاتی معلومات کے تحفظ اور شہریوں کی نجی زندگی کے حق سے متعلق نئے سوالات پیدا کر سکتا ہے۔

دوسری جانب حامی حلقوں کا استدلال ہے کہ مناسب قانونی نگرانی اور سخت حفاظتی اقدامات کے ذریعے ان خدشات کو دور کیا جا سکتا ہے۔

مسئلہ حل نہ ہوا تو کیا ہوگا؟

ماہرین کے مطابق اگر جرمنی نے اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی واضح اور جدید قانونی فریم ورک متعارف نہ کرایا تو آنے والے برسوں میں غیر فعال اکاؤنٹس اور لاوارث اثاثوں کی مالیت مزید بڑھ سکتی ہے۔

ڈیجیٹل معیشت، بڑھتی عمر کی آبادی اور پیچیدہ مالیاتی نظام کے باعث یہ مسئلہ صرف بینکاری شعبے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ وراثت، ٹیکنالوجی، قانون اور معیشت کے باہمی تعلق کا ایک اہم چیلنج بن جائے گا۔

اسی لیے جرمنی میں اس وقت یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ اربوں یورو مالیت کی اس خاموش دولت کا اصل حق دار کون ہے اور اسے اس کے حقیقی مالکان یا قانونی وارثوں تک پہنچانے کے لیے کون سا نظام اختیار کیا جانا چاہیے۔ یہی بحث آنے والے مہینوں میں جرمن پارلیمان اور مالیاتی اداروں کے ایجنڈے پر نمایاں رہنے کی توقع ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button