
رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن سیکٹر کو دی گئی مراعات سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، محمد علی میاں
خصوصی انٹرویو میں محمد علی میاں نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں ایسا بجٹ پیش کرنا ایک اہم پیش رفت ہے جو کاروباری طبقے کے اعتماد کی بحالی کے لیے سازگار ماحول فراہم کر سکتا ہے
قاسم بخاری-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر محمد علی میاں نے وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے لیے پیش کیے گئے بجٹ کو مجموعی طور پر متوازن، کاروبار دوست اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے مختلف شعبوں کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے، جس کے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
ریڈیو پاکستان کے نمائندے قاسم بخاری کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں محمد علی میاں نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں ایسا بجٹ پیش کرنا ایک اہم پیش رفت ہے جو کاروباری طبقے کے اعتماد کی بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ اور معاشی نمو کے لیے سازگار ماحول فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بعض اہم شعبوں خصوصاً رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی صنعت کے لیے کیے گئے اقدامات کاروباری برادری کی دیرینہ مطالبات سے ہم آہنگ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں جائیداد کے شعبے کو ریلیف دینے کے لیے ٹیکسوں میں کی جانے والی کمی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ان کے مطابق فائلرز کے لیے جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنا اور جائیداد کی فروخت پر ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد مقرر کرنا ایک مثبت اقدام ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنے گا۔
محمد علی میاں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبہ مختلف مالیاتی اور ٹیکس پالیسیوں کے باعث دباؤ کا شکار رہا، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑ گئی تھی۔ تاہم نئی ٹیکس رعایتوں سے اس شعبے میں دوبارہ سرگرمی پیدا ہونے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعمیراتی صنعت ملکی معیشت کا ایک بنیادی ستون ہے کیونکہ یہ تقریباً 40 سے زائد صنعتوں سے براہ راست اور بالواسطہ طور پر منسلک ہے۔ ان صنعتوں میں سیمنٹ، سریا، اسٹیل، اینٹوں کی صنعت، الیکٹریکل سامان، پینٹ، سینیٹری ویئر، لکڑی، شیشہ، ٹائلز اور دیگر متعدد شعبے شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تعمیراتی شعبہ ترقی کرتا ہے تو اس کے اثرات معیشت کے دیگر شعبوں تک بھی پہنچتے ہیں۔ اس سے صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے، کاروباری سرگرمیاں تیز ہوتی ہیں اور ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں تعمیراتی شعبے کو معاشی ترقی کا ایک اہم محرک تصور کیا جاتا ہے۔
سابق صدر لاہور چیمبر نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومتی اقدامات سے نہ صرف مقامی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی جائیداد اور تعمیراتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی طرف راغب ہوں گے، جس سے ملکی معیشت کو مزید استحکام ملے گا۔
محمد علی میاں نے کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بجٹ میں کئی مثبت اقدامات شامل کیے گئے ہیں، تاہم کاروباری لاگت میں مزید کمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ توانائی، مالیاتی اخراجات، ٹیکس نظام اور ریگولیٹری تقاضوں سے متعلق مسائل پر مزید توجہ دی جانی چاہیے تاکہ صنعتوں اور کاروباری اداروں کو عالمی سطح پر مسابقتی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کا انحصار برآمدات میں اضافے پر ہے اور حکومت نے برآمدات پر مبنی معیشت کا جو وژن پیش کیا ہے، اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے کاروباری برادری کو مزید سہولیات فراہم کرنا ہوں گی۔ ان کے مطابق برآمدی شعبے کو طویل المدتی پالیسیوں، آسان مالیاتی سہولیات اور پیداواری لاگت میں کمی کے ذریعے عالمی منڈیوں میں مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔
محمد علی میاں نے کہا کہ پاکستان کو درآمدات پر انحصار کم کرنے اور برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنے کے لیے صنعتوں کی جدید کاری، نئی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کے استعمال اور کاروباری اصلاحات پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حکومت اپنی کاروبار دوست پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھتی ہے تو اس سے نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ اقتصادی ترقی کی رفتار بھی تیز ہو سکتی ہے۔
انہوں نے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مؤثر رابطے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی کے عمل میں کاروباری برادری کی مشاورت کو مزید فروغ دیا جانا چاہیے تاکہ زمینی حقائق اور صنعتوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جا سکیں۔
اقتصادی ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ تعمیراتی شعبے اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو دی جانے والی ٹیکس مراعات سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر ان اقدامات کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت میں کمی، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور برآمدی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تو پاکستان کی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔
کاروباری حلقوں کی جانب سے مجموعی طور پر وفاقی بجٹ 2026-27 کے بعض اقدامات کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ پالیسیوں کے تسلسل، معاشی استحکام اور سرمایہ کار دوست ماحول کی فراہمی ہی ان اقدامات کے حقیقی ثمرات حاصل کرنے کی ضمانت ہوگی۔



