
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ موجودہ قومی اور بین الاقوامی حالات میں پاکستان کو وحدت، اتحاد اور قومی یکجہتی کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں پاکستان کو ایسی تاریخی کامیابی حاصل ہوئی ہے جس کی مثال موجودہ صدی کی جنگی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے، اور یہ کامیابی اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم، قوم کی دعاؤں اور ملکی عسکری و سیاسی قیادت کی دانشمندانہ حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
فیصل آباد میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے زیر اہتمام منعقدہ ایک اہم سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان آج نہ صرف داخلی استحکام کی جانب گامزن ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک ذمہ دار اور مؤثر ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عزت، وقار اور کامیابی سے نوازا ہے اور ملک کی قیادت نے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مثالی کردار ادا کیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان کا کردار قابل تحسین
حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق مسلم دنیا کے مختلف ممالک پاکستان کو ایک غیر جانبدار، قابل اعتماد اور ذمہ دار اسلامی ریاست کے طور پر دیکھتے ہیں جو امت مسلمہ کے درمیان اتحاد اور مفاہمت کے فروغ کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امت مسلمہ کے مسائل کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے اور آج بھی مختلف علاقائی تنازعات کے حل میں پاکستان کی سفارتی اہمیت بڑھ رہی ہے۔
پاکستان میں مثالی مسلکی ہم آہنگی موجود ہے
چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ پاکستان ان چند مسلم ممالک میں شامل ہے جہاں مختلف مکاتب فکر کے درمیان قابلِ رشک مذہبی ہم آہنگی اور تعاون موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں متعدد مرتبہ ملک میں شیعہ سنی اختلافات پیدا کرنے اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کی کوششیں کی گئیں، لیکن تمام مکاتب فکر کے علماء، مشائخ اور مذہبی قیادت نے متحد ہو کر ان سازشوں کو ناکام بنایا۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے مختلف مذہبی رہنماؤں خصوصاً علامہ ساجد علی نقوی اور دیگر اکابرین کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان شخصیات نے ہمیشہ امت مسلمہ کے اتحاد، بین المسالک ہم آہنگی اور قومی استحکام کے لیے قابل قدر کردار ادا کیا ہے۔
ایران کے معاملے پر قومی اتحاد کا مظاہرہ
انہوں نے کہا کہ ایران پر حملوں اور خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران بھی پاکستان کے شیعہ اور سنی عوام نے اتحاد و یکجہتی کا عملی مظاہرہ کیا۔
ان کے مطابق پاکستان کے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے امت مسلمہ کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے ایک آواز ہو کر اپنا موقف پیش کیا، جس سے دنیا کو واضح پیغام ملا کہ پاکستانی قوم مذہبی اختلافات سے بالاتر ہو کر امت مسلمہ کے اجتماعی مفادات کے لیے متحد ہے۔
مقدساتِ اسلام کے احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں
حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ خلفائے راشدینؓ، اہل بیت اطہارؓ، صحابہ کرامؓ اور ازواج مطہراتؓ تمام مسلمانوں کے لیے باعث احترام ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقدساتِ اسلام کی توہین کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی اور تمام مکاتب فکر کے علماء اس حوالے سے متفق ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مذہبی خطابات اور مجالس میں احترام، اعتدال اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان نہ پہنچے۔
پیغامِ پاکستان اور ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کی ضرورت
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "پیغامِ پاکستان” اور متفقہ قومی ضابطہ اخلاق ملک میں امن، رواداری، مذہبی ہم آہنگی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے ایک جامع قومی دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام علماء، خطباء، ذاکرین اور مذہبی شخصیات پر لازم ہے کہ وہ ان رہنما اصولوں پر عمل کریں۔ ان کے مطابق جو عناصر قومی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کریں گے، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ معاشرے میں انتشار اور نفرت انگیزی کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔
حضرت امام حسینؓ پوری امت مسلمہ کے مشترکہ رہنما ہیں
محرم الحرام کی آمد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ کی شخصیت پوری امت مسلمہ کے لیے اتحاد، حق گوئی، صبر، قربانی اور استقامت کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر مسلمان اپنے حسینی ہونے پر فخر کرتا ہے اور واقعہ کربلا پوری انسانیت کے لیے ظلم کے خلاف جدوجہد اور حق کی سربلندی کا پیغام دیتا ہے۔
انہوں نے تمام مکاتب فکر سے اپیل کی کہ محرم الحرام کے دوران امن، برداشت، بھائی چارے اور قومی اتحاد کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ ملک بھر میں مذہبی ہم آہنگی کی فضا برقرار رہے۔
کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے
کشمیر کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کشمیری عوام پاکستانی قوم کے دل کے قریب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ کشمیری عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد اور حمایت اپنی جگہ، تاہم پاکستان مخالف بیانات، انتشار انگیزی اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
احتجاجی گروپوں سے مذاکرات کی میز پر واپسی کی اپیل
حافظ طاہر محمود اشرفی نے آزاد کشمیر کی سیاسی، مذہبی اور سماجی قیادت سمیت مختلف احتجاجی گروپوں سے اپیل کی کہ وہ معاملات کے حل کے لیے مذاکرات اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کریں۔
انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج اور جمہوری اظہار رائے ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم ریاستی اداروں پر حملے، تشدد، املاک کو نقصان پہنچانا اور قانون شکنی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتے۔
ان کے مطابق اختلافات کو مذاکرات، آئینی طریقہ کار اور جمہوری روایات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاکہ خطے میں امن اور استحکام برقرار رہے۔
دشمن اتحاد کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں
اپنے خطاب کے اختتام پر حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان، کشمیر اور امت مسلمہ کے دشمن ہمیشہ اتحاد کو نقصان پہنچانے اور داخلی انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے تمام مکاتب فکر کے علماء، مشائخ، سیاسی و سماجی رہنماؤں، دانشوروں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ قومی یکجہتی، مذہبی ہم آہنگی، امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ پوری قوم اختلافات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے متحد ہو جائے تاکہ ملک کو درپیش داخلی اور خارجی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔



