بین الاقوامیاہم خبریں

بھارت دہشت گردی اور اس کے ’معاون نظام‘ کو شکست دینے کے اپنے عزم پر’پہلے کی طرح ثابت قدم‘ہے، مودی

اس فوجی تنازعے میں دونوں جانب مجموعی طور پر 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اے ایف پی کے ساتھ

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت دہشت گردی اور اس کے ‘معاون نظام‘ کو شکست دینے کے اپنے عزم پر’پہلے کی طرح ثابت قدم‘ہے۔ مودی کا یہ بیان پاکستان کے ساتھ جھڑپوں کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر سامنے آیا ہے۔

جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات گزشتہ سال اس وقت شدید خراب ہو گئے تھے، جب 22 اپریل کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک حملے میں 26 افراد ہلاک ہو گئےتھے، جن میں سے زیادہ تر ہندو سیاح تھے۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں کی بدترین کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔

بھارت نے اس حملے کے پیچھے پاکستان کی حمایت کا الزام عائد کیا تھا، جسے اسلام آباد نے مسترد کر دیا تھا۔ اس کے بعد دونوں جانب سے سفارتی اقدامات اور شدید فوجی کشیدگی دیکھنے میں آئی تھی۔

یہ تنازعہ اس وقت مزید بڑھ گیا تھا، جب بھارت نے 7 مئی 2025 کو پاکستان میں ان مقامات پر حملے کیے، جنہیں اس نے”دہشت گردوں کے کیمپ‘‘ قرار دیا تھا۔

اس کے جواب میں اسلام آباد نے بھی فوری کارروائی کی، جس کے نتیجے میں دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان فضائی حملے، ڈرون حملے اور شدید مارٹر گولہ باری ہوئی تھی۔

نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف فوجی کارروائیوں، جسے بھارت نے ”آپریشن سندور‘‘ کا نام دیا تھا، کا جمعرات کے روز ایک سال مکمل ہونے پر کہا، ”ہم دہشت گردی کو شکست دینے اور اس کے معاون نظام کو تباہ کرنے کے اپنے عزم پر پہلے کی طرح ثابت قدم ہیں۔‘‘

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ملکوں کے درمیان فائربندی کرانے کا اعلان کیا تھاتصویر: Hindustan Times/Samuel Corum/Ahmad Kamal/picture allianc

’آپریشن سندور‘

مودی کی ہندو قوم پسند حکومت نے’سندور‘ کو ان خواتین کے انتقام کی علامت کے طور پر استعمال کیا، جن کے شوہر 22 اپریل کے حملے میں مارے گئے تھے۔ دراصل ہندو خواتین شادی شدہ ہونے کی علامت کے طور پر اپنے ماتھے پر سندور لگاتی ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا، ”بھارت نے ان لوگوں کو بھرپور جواب دیا، جنہوں نے پہلگام میں بے گناہ بھارتیوں پر حملہ کرنے کی جرأت کی۔ پوری قوم ہماری افواج کی بہادری کو سلام پیش کرتی ہے۔‘‘

اس فوجی تنازعے میں دونوں جانب مجموعی طور پر 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے اس جھڑپ کے دوران بھارت کے پانچ جنگی طیارے مار گرائے تھے، جن میں فرانس کے تیار کردہ تین جدید رافال جنگی طیارے بھی شامل تھے، اور یہ تمام طیارے اس وقت بھارتی فضائی حدود میں تھے۔ بھارت نے کسی بھی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے دوران گولہ باری کے نتیجے میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ضلع بارہمولہ کے علاقے اڑی میں ایک تباہ شدہ گھر کے اندر موجود لوگ
بھارت اور پاکستان کے درمیان جھڑپ میں دونوں جانب مجموعی طور پر 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھےتصویر: Basit Zargar/ZUMA Press/picture alliance

پاکستان کا ردعمل

ادھر جمعرات کو پاکستان نے ایک بیان میں، جس میں اس جھڑپ کی سالگرہ کا ذکر کیا گیا جسے اسلام آباد ”معرکہ حق‘‘ قرار دیتا ہے، کہا کہ وہ کسی بھی حملے کے خلاف اپنا بھرپور دفاع کرے گا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ”ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ اپنے وطن کو لاحق کسی بھی خطرے کا مقابلہ قومی اتحاد، غیر متزلزل عزم اور تمام دستیاب وسائل کی طاقت سے کیا جائے گا۔‘‘

بھارت کا نام لیے بغیر اس بیان میں مزید کہا گیا، ”گزشتہ سال جب ہم پر جارحیت مسلط کی گئی تو پاکستان نے تحمل، عزم اور اخلاقی اصولوں کے ساتھ کارروائی کی۔ ہمارا جواب متوازن، ذمہ دارانہ اور درست تھا، جو جذبات نہیں بلکہ اصولوں کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔‘‘

دونوں ہمسایہ ممالک نے 10 مئی کو چار روزہ تنازعہ ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا اور اس فائر بندی کا اعلان سب سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا۔

جب ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اس کا اعلان کیا، تو اس کے چند منٹ بعد اسلام آباد اور نئی دہلی کے حکام نے بھی فائر بندی کی تصدیق کر دی تھی۔

تاہم بھارت مسلسل یہ موقف اختیار کرتا رہا ہے کہ یہ فائر بندی براہ راست اسلام آباد کے ساتھ طے پائی تھی۔

طویل فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک اگنی-5 میزائل بھارت کے یومِ جمہوریہ کی پریڈ کے دوران نئی دہلی میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا
اگنی میزائل کا جدید ترین ورژن بھارت کو ان چند ممالک کی صف میں شامل کر دے گا، جن کے پاس اتنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل موجود ہیںتصویر: Manish Swarup/AP/picture alliance

جدید ترین بھارتی بیلسٹک میزائل تجربے کی تیاری

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ بھارت اندرون ملک تیار کردہ بیلسٹک میزائل اگنی کے جدید ترین ماڈل کا تجرباتی فائر کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ‘اگنی‘ سنسکرت زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ‘آگ‘ ہے، اور یہ میزائل متعدد جوہری وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

نریندر مودی کی ہندو قوم پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اگنی-6 میزائل کی مار 10,000 کلومیٹر (6,200 میل) تک ہے۔

بی جے پی کے مطابق یہ میزائل بھارت کو ان چند ممالک کی صف میں شامل کر دے گا، جن کے پاس اتنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل موجود ہیں۔

بیان میں کہا گیا، ”یہ میزائل بھارت کی سلامتی کو ناقابل شکست بنا دے گا اور ہمیں دنیا کی طاقتور ترین اقوام میں شامل کر دے گا۔‘‘

اس میزائل تجربے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق خلیج بنگال کی فضا میں ایک وارننگ زون کے لیے ‘نوٹس ٹو ایئر مشنز‘ جاری کر دیا گیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button