
سید عاطف ندیم l ادارت
راولپنڈی: پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش داخلی سلامتی، دہشت گردی، گورننس اور قومی استحکام کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے گڈ گورننس بنیادی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اچھی حکمرانی کے بغیر نہ صرف عوامی مسائل حل نہیں ہو سکتے بلکہ قومی سلامتی کے اہداف کا حصول بھی ممکن نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کی گنجائش موجود نہیں، ان کے سامنے صرف دو راستے ہیں، یا تو وہ قانون کے مطابق ہتھیار ڈال دیں یا پھر سکیورٹی فورسز کی کارروائی کا سامنا کریں۔
جی ایچ کیو راولپنڈی میں جمعہ کو انسداد دہشت گردی، قومی سلامتی، گورننس، آزاد کشمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت مختلف قومی امور پر تفصیلی پریس بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اس وقت دہشت گردی، ہائبرڈ وارفیئر، غلط معلومات کی مہم اور داخلی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں، سیاسی قیادت اور عوام کے درمیان مکمل ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
گڈ گورننس ہی مسائل کا مستقل حل ہے
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے ایک حالیہ بیان کے حوالے سے کہا کہ وہ ان کی ذاتی رائے ہے، تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ گڈ گورننس کے بغیر ریاستی معاملات درست سمت میں نہیں چل سکتے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی سلامتی صرف عسکری اقدامات سے وابستہ نہیں بلکہ مؤثر حکمرانی، شفاف نظام، انصاف، قانون کی بالادستی اور عوامی خدمت سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا:
"اگر آج بھی مسائل حل نہیں ہو رہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں گڈ گورننس کے میدان میں مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔ اچھی حکمرانی پاکستان کے عوام کا بنیادی حق ہے، انہیں اس کی ضرورت بھی ہے اور وہ اس کے مستحق بھی ہیں۔”
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان نسل تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور باخبر ہے، لہٰذا انہیں ایک ایسا نظام فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے جو میرٹ، قانون اور شفافیت پر مبنی ہو۔
نیشنل ایکشن پلان پر مکمل اتفاق
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی حکمت عملی نیشنل ایکشن پلان (NAP) کے 14 نکات پر مشتمل ہے، جن پر ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق موجود ہے۔
ان کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے، انتہا پسندی کی روک تھام، سرحدی تحفظ، مالیاتی نگرانی اور ریاستی اداروں کی مضبوطی جیسے اہداف اسی قومی پالیسی کا حصہ ہیں، جن پر مکمل عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پانچ برس میں 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز
انسداد دہشت گردی کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پاکستان بھر میں 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ:
- بلوچستان میں 31 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔
- خیبرپختونخوا میں 7 ہزار 177 آپریشنز کیے گئے۔
- ملک بھر میں سکیورٹی فورسز نے اوسطاً روزانہ 194 آپریشنز کیے۔
- ان کارروائیوں کے دوران اوسطاً روزانہ تقریباً 10 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز مسلسل دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں اور ان کا عزم کسی صورت کمزور نہیں پڑا۔
رواں سال دہشت گردی میں 819 پاکستانی شہید
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ رواں سال دہشت گردی کے مختلف واقعات میں مجموعی طور پر 819 پاکستانی شہری اور اہلکار شہید ہوئے۔
ان کے مطابق شہداء میں:
- 303 فوجی اہلکار
- 322 عام شہری
شامل ہیں، جبکہ دیگر شہداء کا تعلق مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور عوام نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں اور پوری قوم ان شہداء کی مقروض ہے۔
2084 دہشت گرد مارے گئے
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مختلف کارروائیوں کے دوران 2084 مصدقہ دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں میں پاک فوج، فرنٹیئر کور، پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کردار ادا کیا۔
دہشت گردوں کے لیے صرف دو راستے
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ:
"دہشت گردوں کے ساتھ بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ریاست کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ دہشت گرد یا تو آئین اور قانون کے مطابق ہتھیار ڈال دیں یا پھر سکیورٹی فورسز انہیں انجام تک پہنچائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے اپنے قومی عزم پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
افغان شہری بعض حملوں میں ملوث
انہوں نے بتایا کہ رواں عرصے کے دوران 28 خودکش حملے ریکارڈ کیے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ٹانک اور کراچی میں ہونے والے بعض دہشت گرد حملوں کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان میں افغان شہری ملوث تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین کو کسی بھی دہشت گرد تنظیم یا نیٹ ورک کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔
بلوچستان کے حوالے سے منفی تاثر مسترد
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بعض حلقے جان بوجھ کر بلوچستان کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہاں سکیورٹی فورسز مسلسل کامیاب کارروائیاں کر رہی ہیں اور دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا اہم صوبہ ہے اور وہاں امن و ترقی کے لیے ریاستی ادارے مسلسل کام کر رہے ہیں۔
ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ "ہارڈ اسٹیٹ” کی اصطلاح کو بعض عناصر جان بوجھ کر غلط انداز میں پیش کرتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ:
"ہارڈ اسٹیٹ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ملک فوج چلا رہی ہے، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ریاست کے تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق چلیں اور قانون کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے۔”
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئین اور قانون سب کے لیے برابر ہے اور کوئی بھی فرد یا ادارہ قانون سے بالاتر نہیں۔
کشمیر پاکستان کا اٹوٹ حصہ ہے
کشمیر کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کے درمیان تعلق صرف جغرافیائی نہیں بلکہ تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور عوامی بنیادوں پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا:
"کشمیر تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ کشمیر ماضی میں بھی پاکستان کا اٹوٹ حصہ تھا، آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔”
انہوں نے کہا کہ کشمیر کا حتمی فیصلہ کشمیری عوام نے اپنی آزاد مرضی سے کرنا ہے کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں ظلم جاری
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک جابرانہ اور ظالمانہ نظام نافذ ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں کشمیری اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کرتا رہے گا۔
آزاد کشمیر کے حوالے سے مؤقف
پاکستان کے زیر انتظام آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض عناصر اپنے مطالبات منوانے کے لیے دباؤ اور احتجاج کا راستہ اختیار کرتے ہیں، جبکہ ریاست نے انہیں ہمیشہ آئینی اور جمہوری طریقہ اپنانے کا مشورہ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان سے کہا گیا کہ اگر وہ اپنے مؤقف کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو انتخابات میں حصہ لیں، اسمبلی میں آئیں اور جمہوری فورمز پر اپنی بات کریں۔
ان کے مطابق بعض عناصر کے اصل مقاصد اب عوام کے سامنے آ چکے ہیں۔
"کشمیر پاکستان کا لاڈلا بچہ ہے”
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا:
"کشمیر پاکستان کا لاڈلا بچہ ہے، سب سے زیادہ وسائل کشمیر کو دیے جاتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور عوامی فلاح کے لیے وفاقی حکومت مسلسل وسائل فراہم کر رہی ہے۔
ریاست سب سے مقدم
اپنی پریس بریفنگ کے اختتام پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی بقا، سلامتی اور ترقی ریاستی اداروں کی مضبوطی، قانون کی حکمرانی، قومی اتحاد اور عوامی تعاون سے وابستہ ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ہر پاکستانی کی اولین شناخت پاکستان ہے اور ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے ساتھ وفادار رہے۔
انہوں نے کہا:
"پاکستان ہی ہماری پہلی اور آخری شناخت ہے۔ ریاست ہم سب سے بڑھ کر ہے، کیونکہ ریاست کے وجود سے ہی سیاست، جمہوریت، ادارے اور معاشرہ قائم رہتا ہے۔”
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور دیگر ریاستی ادارے دہشت گردی کے مکمل خاتمے، آئین و قانون کی بالادستی، قومی سلامتی کے تحفظ اور پاکستان کے استحکام کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے رہیں گے۔



