
الخدمت فاؤنڈیشن میں این سی سی آئی اے لاہور کا سائبر کرائم آگاہی سیشن، آن لائن فراڈ اور ڈیجیٹل جرائم سے بچاؤ کے طریقوں پر تفصیلی بریفنگ
جعلی لنکس، فشنگ، سوشل میڈیا فراڈ اور سائبر بُلنگ کے بڑھتے خطرات سے شہریوں کو آگاہ کرنے پر زور؛ ڈپٹی ڈائریکٹرز وقاص سعید اور مدثر شاہ کی خصوصی شرکت، پیکا ایکٹ 2016 ترمیم شدہ 2025 کے تحت قانونی تحفظ اور کارروائی کے طریقہ کار سے آگاہ کیا گیا
سید قاسم بخاری-پاکستان
لاہور: نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لاہور سرکل کی جانب سے الخدمت فاؤنڈیشن میں سائبر کرائم سے متعلق خصوصی آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد شہریوں، سماجی اداروں اور فلاحی تنظیموں سے وابستہ افراد کو سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے خطرات، آن لائن مالیاتی فراڈ، سائبر ہتک عزت اور سائبر بُلنگ سے متعلق آگاہی فراہم کرنا اور ان جرائم سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر سے روشناس کرانا تھا۔
یہ سیشن وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کی ہدایات اور ڈائریکٹر جنرل نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی سید علی ناصر رضوی کی جانب سے عوامی آگاہی اور ڈیجیٹل خواندگی کے فروغ کے لیے جاری ہدایات کی روشنی میں منعقد کیا گیا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد عوام میں سائبر سکیورٹی سے متعلق شعور بیدار کرنا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے محفوظ استعمال کو فروغ دینا اور آن لائن جرائم کی روک تھام کے لیے اجتماعی ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا تھا۔
سیشن کے دوران این سی سی آئی اے لاہور کے افسران نے شرکاء کو جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ سامنے آنے والے سائبر خطرات، ڈیجیٹل مالیاتی دھوکہ دہی کے مختلف طریقوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والے جرائم کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
آن لائن مالیاتی فراڈ، جعلی لنکس اور فشنگ سے بچاؤ پر خصوصی بریفنگ
سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر وقاص سعید نے آن لائن مالیاتی فراڈ کے بڑھتے ہوئے رجحانات اور سائبر جرائم کے بدلتے ہوئے طریقہ کار پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ سائبر مجرم مختلف ڈیجیٹل ذرائع استعمال کرتے ہوئے شہریوں کو مالی نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں جعلی ویب سائٹس، مشکوک لنکس، فشنگ پیغامات، جعلی کالز، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور آن لائن لین دین کے دوران دھوکہ دہی جیسے طریقے شامل ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ فشنگ کے ذریعے سائبر مجرم خود کو کسی مستند ادارے، بینک، کمپنی یا قابلِ اعتماد شخصیت کے طور پر ظاہر کرکے صارفین سے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان معلومات میں بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، پاس ورڈز، ون ٹائم پاس ورڈ (OTP) اور دیگر مالیاتی معلومات شامل ہو سکتی ہیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر وقاص سعید نے شرکاء کو مشورہ دیا کہ کسی بھی غیر مصدقہ لنک پر کلک کرنے سے گریز کریں اور نامعلوم ذرائع سے موصول ہونے والے پیغامات، کالز یا ای میلز پر فوری اعتماد نہ کریں۔ اسی طرح کسی بھی شخص کے ساتھ اپنے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، پاس ورڈ یا OTP شیئر نہ کریں۔
انہوں نے محفوظ ڈیجیٹل لین دین کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آن لائن مالیاتی معاملات میں احتیاط، تصدیق اور مستند ذرائع کا استعمال شہریوں کو بڑے مالی نقصان سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
سوشل میڈیا فراڈ اور ڈیجیٹل مالیاتی جرائم سے تحفظ
آگاہی سیشن میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ہونے والے فراڈ اور ڈیجیٹل مالیاتی جرائم کے مختلف طریقوں پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔
شرکاء کو بتایا گیا کہ سائبر مجرم بعض اوقات جعلی سوشل میڈیا پروفائلز، کاروباری صفحات اور آن لائن اشتہارات کے ذریعے شہریوں کا اعتماد حاصل کرتے ہیں اور پھر انہیں مالی لین دین پر آمادہ کرکے دھوکہ دہی کا نشانہ بناتے ہیں۔
اس حوالے سے اس بات پر زور دیا گیا کہ آن لائن خریداری، سرمایہ کاری، کاروباری لین دین اور مالیاتی خدمات حاصل کرتے وقت متعلقہ ادارے یا فرد کی شناخت اور ساکھ کی تصدیق ضروری ہے۔
شرکاء کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر ذاتی معلومات، تصاویر اور دیگر حساس مواد شیئر کرتے وقت احتیاط برتنا چاہیے، کیونکہ ان معلومات کا غلط استعمال بھی سائبر جرائم کی ایک شکل بن سکتا ہے۔
سائبر ہتک عزت اور سائبر بُلنگ کے قانونی و سماجی اثرات
سیشن کے دوسرے اہم حصے میں ڈپٹی ڈائریکٹر مدثر شاہ نے سائبر ہتک عزت اور سائبر بُلنگ کے مسائل، ان کے سماجی و نفسیاتی اثرات اور متاثرہ افراد کے لیے دستیاب قانونی تحفظ کے طریقہ کار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے بتایا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کسی فرد کے خلاف توہین آمیز مواد کی تشہیر، جھوٹی معلومات پھیلانا، دھمکیاں دینا، ہراساں کرنا، ذاتی تصاویر یا معلومات کا غیر مجاز استعمال اور مسلسل تضحیک آمیز رویہ اختیار کرنا متاثرہ شخص کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
مدثر شاہ نے کہا کہ سائبر بُلنگ صرف آن لائن مذاق یا غیر سنجیدہ رویے تک محدود نہیں رہتی بلکہ بعض صورتوں میں یہ متاثرہ افراد کی ذہنی صحت، سماجی زندگی، عزتِ نفس اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ ایسے معاملات میں خاموش رہنے کے بجائے متعلقہ شواہد محفوظ کرنا، مشکوک اکاؤنٹس اور پیغامات کا ریکارڈ رکھنا اور قانونی رہنمائی حاصل کرنا اہم ہے۔
پیکا ایکٹ 2016، ترمیم شدہ 2025 کے تحت قانونی تحفظ سے آگاہی
ڈپٹی ڈائریکٹر مدثر شاہ نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016، ترمیم شدہ 2025 کے تحت دستیاب قانونی چارہ جوئی اور تحفظ کے طریقہ کار سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا۔
انہوں نے سائبر جرائم کی مختلف اقسام اور ان سے متعلق قانونی پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ہونے والے قابلِ تعزیر جرائم کی صورت میں متاثرہ شہری متعلقہ قانونی فورمز سے رجوع کر سکتے ہیں۔
اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ شہری سائبر ہراسانی، آن لائن دھمکیوں، جعلی پروفائلز، مالیاتی فراڈ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی صورت میں دستیاب شواہد ضائع نہ کریں اور متعلقہ حکام کو بروقت اطلاع دیں۔
شرکاء کو یہ بھی سمجھایا گیا کہ ڈیجیٹل دنیا میں آزادیِ اظہار کے ساتھ دوسروں کی عزت، نجی زندگی اور قانونی حقوق کا احترام بھی ضروری ہے۔
الخدمت فاؤنڈیشن کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے ملک گیر آگاہی کا منصوبہ
اس آگاہی سیشن کا ایک اہم مقصد الخدمت فاؤنڈیشن کو سائبر سیفٹی سے متعلق ضروری معلومات اور رہنمائی فراہم کرنا بھی تھا، تاکہ تنظیم اپنے وسیع این جی او نیٹ ورک، رضاکاروں اور کمیونٹی آؤٹ ریچ پروگرامز کے ذریعے سائبر کرائم سے متعلق شعور کو ملک بھر میں عام کر سکے۔
الخدمت فاؤنڈیشن ملک کے مختلف علاقوں میں فلاحی، سماجی اور انسانی خدمت کے منصوبوں کے ذریعے کام کرتی ہے اور اس کے رضاکار مختلف کمیونٹیز تک رسائی رکھتے ہیں۔ ایسے میں سائبر سکیورٹی سے متعلق آگاہی کو اس کے فلاحی نیٹ ورک کے ذریعے عام شہریوں تک پہنچانے کے امکانات کو اہم قرار دیا گیا۔
سیشن میں اس امر پر زور دیا گیا کہ سائبر جرائم کی روک تھام صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے معاشرے کے تمام طبقات، تعلیمی اداروں، فلاحی تنظیموں، کاروباری اداروں اور عام شہریوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار اور کمیونٹی نیٹ ورک شہریوں کو آن لائن فراڈ، جعلی لنکس، سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور ڈیجیٹل ہراسانی سے متعلق بنیادی احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
محفوظ ڈیجیٹل معاشرے کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت
سیشن کے دوران اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ شہریوں میں ڈیجیٹل خواندگی اور سائبر سکیورٹی سے متعلق بنیادی معلومات کا ہونا ناگزیر ہے۔
ماہرین کی جانب سے اس امر کی اہمیت اجاگر کی گئی کہ شہریوں کو صرف انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں آن لائن خطرات کی شناخت، ذاتی معلومات کے تحفظ، مضبوط پاس ورڈز کے استعمال، دو مرحلہ جاتی تصدیق اور محفوظ مالیاتی لین دین کے اصولوں سے بھی آگاہ ہونا چاہیے۔
خصوصاً نوجوانوں، خواتین، طلبہ، بزرگ شہریوں اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے سائبر کرائم آگاہی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ان کی سرگرمیاں اور آن لائن لین دین انہیں مختلف نوعیت کے خطرات سے دوچار کر سکتے ہیں۔
شرکاء کی جانب سے این سی سی آئی اے لاہور کی کاوش کو سراہا گیا
سیشن کے اختتام پر شرکاء نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی لاہور کی جانب سے سائبر کرائم کے خلاف عوامی آگاہی کے لیے کی جانے والی اس کاوش کو سراہا۔
شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ سائبر جرائم کی روک تھام، ڈیجیٹل خواندگی کے فروغ اور محفوظ آن لائن ماحول کی تشکیل کے لیے این سی سی آئی اے کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایسے آگاہی سیشنز کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جانا چاہیے تاکہ شہریوں کو سائبر جرائم کے نئے طریقوں، قانونی حقوق اور تحفظ کے مؤثر ذرائع سے مسلسل آگاہ رکھا جا سکے۔
این سی سی آئی اے لاہور کی جانب سے منعقدہ یہ سرگرمی سائبر کرائم کی روک تھام، عوامی شعور میں اضافے اور مختلف سماجی اداروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
مجموعی طور پر الخدمت فاؤنڈیشن میں منعقدہ یہ آگاہی سیشن اس اہم پیغام کا عکاس ہے کہ محفوظ ڈیجیٹل معاشرے کی تشکیل کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں، فلاحی تنظیموں اور شہریوں کے درمیان تعاون، بروقت آگاہی اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رویہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
وائس آف جرمنی اردو نیوز (پاکستان)



