سائنس و ٹیکنالوجیتازہ ترین

کوانٹم کمپیوٹنگ کا خطرہ بڑھ گیا، ماہرین نے ممکنہ عالمی سائبر سیکیورٹی بحران سے خبردار کر دیا

“آج سب کچھ محفوظ محسوس ہوتا ہے، لیکن Q-Day کے بعد اچانک سب غیر محفوظ ہو سکتا ہے۔”

واشنگٹن: دنیا بھر کے سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کوانٹم کمپیوٹنگ کی تیز رفتار ترقی مستقبل قریب میں ایک ایسے بڑے سائبر بحران کو جنم دے سکتی ہے جو موجودہ انٹرنیٹ سیکیورٹی نظام، بینکنگ نیٹ ورکس، سرکاری راز، طبی ریکارڈز اور ڈیجیٹل معیشت کو شدید خطرے میں ڈال دے گا۔

ماہرین کے مطابق “Q-Day” نامی ایک اہم مرحلہ تیزی سے قریب آ رہا ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جب کوانٹم کمپیوٹر اتنے طاقتور ہو جائیں گے کہ وہ آج دنیا بھر میں استعمال ہونے والے زیادہ تر خفیہ کاری (Encryption) نظام کو چند لمحوں یا گھنٹوں میں توڑ سکیں گے۔

“Q-Day” کیا ہے؟

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق “Q-Day” اس لمحے کو کہا جاتا ہے جب ایک مکمل اور مستحکم کوانٹم کمپیوٹر روایتی کرپٹوگرافی کو ناکارہ بنا دے گا۔

اس مرحلے پر وہ تمام ڈیٹا جو اس وقت محفوظ تصور کیا جاتا ہے، بشمول بینکنگ ٹرانزیکشنز، ای میلز، میڈیکل ریکارڈز، فوجی معلومات، کرپٹو کرنسی والٹس اور سرکاری مواصلات، خطرے میں آ سکتے ہیں۔

مائیکل موسکا، جو سائبر سیکیورٹی کمپنی evolutionQ کے شریک بانی اور سی ای او ہیں، نے خبردار کیا کہ:

“آج سب کچھ محفوظ محسوس ہوتا ہے، لیکن Q-Day کے بعد اچانک سب غیر محفوظ ہو سکتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ اس دن مخالف قوتیں یا سائبر مجرم ایسے کوانٹم کمپیوٹرز تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں جو موجودہ خفیہ کوڈز کو فوری طور پر توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

گوگل نے خطرے کی نئی ڈیڈ لائن دے دی

ٹیکنالوجی کمپنی Google نے حال ہی میں خبردار کیا کہ 2029 تک کوانٹم کمپیوٹرز بعض انکرپٹڈ سسٹمز کو توڑنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

یہ اندازہ پہلے کی پیش گوئیوں سے کہیں زیادہ قریب سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ ماضی میں ماہرین خیال کرتے تھے کہ ایسا ہونے میں شاید کئی دہائیاں لگ جائیں گی۔

گوگل نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ “پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی” کے ذریعے مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیاری کر رہا ہے تاکہ “کوانٹم دور” میں بھی انٹرنیٹ سیکیورٹی برقرار رکھی جا سکے۔

اسی طرح کلاؤڈ سروسز کمپنی Cloudflare نے بھی 2029 کو اپنی سیکیورٹی منتقلی کا ہدف قرار دیا ہے۔

موجودہ انٹرنیٹ سیکیورٹی کیسے خطرے میں ہے؟

آج دنیا بھر میں انٹرنیٹ، بینکنگ اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن کا بیشتر نظام RSA جیسے خفیہ کاری الگورتھمز پر انحصار کرتا ہے۔

RSA Cryptography ایک ایسا نظام ہے جو بڑے اعداد کے پیچیدہ ریاضیاتی مسائل پر مبنی ہوتا ہے۔ موجودہ کمپیوٹرز کے لیے ان مسائل کو حل کرنا انتہائی مشکل اور وقت طلب ہے، اسی لیے یہ سسٹم محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔

لیکن کوانٹم کمپیوٹرز اپنی غیر معمولی کمپیوٹنگ صلاحیت کے ذریعے ان پیچیدہ مسائل کو بہت کم وقت میں حل کر سکتے ہیں۔

کوانٹم کمپیوٹرز کیسے مختلف ہیں؟

روایتی کمپیوٹر معلومات کو “بٹس” کی صورت میں پروسیس کرتے ہیں، جہاں ہر بٹ یا تو 0 ہوتا ہے یا 1۔

اس کے برعکس کوانٹم کمپیوٹر “کیوبٹس” (Qubits) استعمال کرتے ہیں، جو بیک وقت 0، 1 یا دونوں حالتوں میں موجود رہ سکتے ہیں۔

0≤q≤10 \leq q \leq 1

اس اصول کو Quantum Superposition کہا جاتا ہے، اور یہی صلاحیت کوانٹم کمپیوٹرز کو انتہائی پیچیدہ حسابات بہت تیزی سے انجام دینے کے قابل بناتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہی طاقت مستقبل میں موجودہ خفیہ کاری نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

“Harvest Now, Decrypt Later” حکمت عملی

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بعض ممالک اور ہیکرز پہلے ہی “Harvest Now, Decrypt Later” حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔

اس طریقہ کار میں حساس انکرپٹڈ ڈیٹا آج چوری کر کے محفوظ کر لیا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں کوانٹم کمپیوٹر دستیاب ہونے پر اسے آسانی سے ڈکرپٹ کیا جا سکے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ آج چوری ہونے والا ڈیٹا آنے والے برسوں میں بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، چاہے وہ اس وقت محفوظ ہی کیوں نہ ہو۔

عالمی اداروں کی تشویش

کینیڈا میں قائم Global Risk Institute نے اپنی تازہ “Quantum Threat Timeline” رپورٹ میں کہا ہے کہ اگلے دس برسوں کے اندر ایک ایسا کوانٹم کمپیوٹر بن جانا “کافی ممکن” ہے جو موجودہ کرپٹوگرافی کو توڑ سکے۔

رپورٹ کے مطابق بہت سی حکومتیں، کمپنیاں اور ادارے اب بھی اس خطرے کی شدت کو پوری طرح نہیں سمجھ رہے، حالانکہ انہیں فوری تیاری کی ضرورت ہے۔

کن شعبوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے؟

ماہرین کے مطابق درج ذیل شعبے Q-Day سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں:

  • بینکنگ اور مالیاتی نظام
  • کرپٹو کرنسی اور بلاک چین
  • فوجی اور انٹیلی جنس کمیونیکیشن
  • صحت اور میڈیکل ریکارڈز
  • ای میل اور آن لائن کمیونیکیشن
  • کلاؤڈ کمپیوٹنگ
  • سرکاری ڈیٹا بیس
  • ای کامرس اور ڈیجیٹل ادائیگیاں

“پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی” کی دوڑ

دنیا بھر کی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور حکومتیں اب “Post-Quantum Cryptography” پر کام کر رہی ہیں، یعنی ایسے نئے انکرپشن سسٹمز جو کوانٹم کمپیوٹرز کے خلاف بھی محفوظ رہ سکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے چند سال ڈیجیٹل دنیا کے لیے انتہائی اہم ہوں گے، کیونکہ اگر بروقت نئے سیکیورٹی سسٹمز نافذ نہ کیے گئے تو Q-Day عالمی معیشت اور سائبر سیکیورٹی کے لیے ایک غیر معمولی بحران ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button