نشتر ہسپتال ملتان میں ایچ آئی وی اسکریننگ کے بغیر سرجری کا انکشاف، متعدد ڈاکٹرز اور نرسیں معطل
تمام معطل شدہ افسران اور ملازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب کو رپورٹ کریں۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
نشتر ہسپتال ملتان میں ایک مریض کی ایچ آئی وی اسکریننگ کے بغیر سرجری کیے جانے کے معاملے پر محکمہ صحت پنجاب نے سخت کارروائی کرتے ہوئے متعدد ڈاکٹرز اور طبی عملے کو معطل کر دیا ہے، جبکہ متعلقہ ڈاکٹروں کی تربیتی پروگرامز بھی فوری طور پر روک دیے گئے ہیں۔
محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں غفلت، نااہلی اور انتظامی بدانتظامی سامنے آنے پر ذمہ داران کے خلاف فوری ایکشن لیا گیا۔
کن افراد کو معطل کیا گیا؟
محکمہ صحت نے سینیئر رجسٹرار سرجری ڈاکٹر فاریہ احمد اور چارج نرس ردا زاہرا کو فوری طور پر معطل کر دیا۔
اس کے علاوہ:
- ڈاکٹر شہباز انور (میڈیکل آفیسر)
- ڈاکٹر محمد علی جان
- ڈاکٹر محمد نعیم اختر
کو بھی نااہلی، غفلت اور بدانتظامی کے الزامات پر فوری معطل کر دیا گیا۔
تربیتی پروگرام بھی روک دیے گئے
محکمہ صحت نے صرف انتظامی کارروائی تک محدود رہنے کے بجائے متعلقہ ڈاکٹروں کی اسپیشلائزیشن ٹریننگ بھی معطل کر دی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق:
- ڈاکٹر ثانیہ سعید کی FCPS کیمیکل پیتھالوجی ٹریننگ
- ڈاکٹر ارسا عارف کی MS جنرل سرجری ٹریننگ
- ڈاکٹر محمد نعیم اختر کی FCPS آرتھوپیڈک سرجری ٹریننگ
فوری طور پر روک دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ اقدام اس لیے کیا گیا تاکہ واقعے کی مکمل تحقیقات تک متعلقہ افراد کسی حساس طبی ذمہ داری کا حصہ نہ رہیں۔
PEEDA ایکٹ کے تحت کارروائی
محکمہ صحت کی جانب سے جاری احکامات میں کہا گیا ہے کہ تمام معطلیاں Punjab Employees Efficiency, Discipline and Accountability Act 2006 کی دفعہ 6 کے تحت عمل میں لائی گئی ہیں۔
یہ کارروائی انتظامی بنیادوں پر کی گئی ہے اور مکمل انکوائری رپورٹ آنے کے بعد مزید سخت اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
تمام معطل شدہ افسران اور ملازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب کو رپورٹ کریں۔
واقعہ کیسے سامنے آیا؟
ذرائع کے مطابق معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک مریض کی سرجری سے قبل لازمی ایچ آئی وی اسکریننگ نہ ہونے کا انکشاف ہوا۔
طبی حلقوں کے مطابق سرجری سے پہلے مریض کی HIV اسکریننگ انتہائی اہم طبی پروٹوکول کا حصہ سمجھی جاتی ہے تاکہ مریض، ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکریننگ کے بغیر سرجری نہ صرف طبی غفلت شمار ہوتی ہے بلکہ اس سے انفیکشن کنٹرول کے نظام پر بھی سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
صوبائی وزیر صحت کا سخت ردعمل
پنجاب کے صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہسپتالوں میں علاج معالجے کے دوران کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ مریضوں کی جانوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خواجہ سلمان رفیق نے مزید کہا کہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں طبی پروٹوکولز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
طبی حلقوں میں تشویش
واقعے کے بعد طبی اور عوامی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف مریضوں کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے نظام کی کمزوری کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔
طبی ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ہسپتالوں میں حفاظتی پروٹوکولز، لیبارٹری ٹیسٹنگ اور سرجیکل نگرانی کے نظام کو مزید سخت بنایا جائے۔



