مشرق وسطیٰتازہ ترین

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑی پیش رفت، 60 روزہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے پر معاہدہ متوقع

امریکی حکام نے فارمولے کو ’’ریلیف فار پرفارمنس‘‘ قراردیا ہے، یعنی ایران کو معاشی ریلیف اس وقت دیا جائے گا جب وہ عملی اقدامات کریگا۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

Published : May 24, 2026 at 1:33 PM IST

Updated : May 24, 2026 at 2:00 PM IST

واشنگٹن: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے اور اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک ایک اہم معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں، جس کے تحت 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کو آزادانہ طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے Axios نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ معاہدے کا ابتدائی مسودہ تقریباً تیار ہو چکا ہے اور اس کا اعلان جلد متوقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹائے گا اور بحری جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت یقینی بنائے گا، جبکہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں نرم کرتے ہوئے محدود مدت کے لیے ایران کو آزادانہ تیل فروخت کرنے کی اجازت دے گا۔ یہ رعایت ابتدائی طور پر 60 دن کے لیے دی جائے گی۔ امریکی حکام نے اس فارمولے کو ’’ریلیف فار پرفارمنس‘‘ قرار دیا ہے، یعنی ایران کو معاشی ریلیف اس وقت دیا جائے گا جب وہ عملی اقدامات کرے گا۔ معاہدے کے مسودے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے، یورینیم افزودگی محدود کرنے اور زیادہ افزودہ یورینیم کے ذخائر کم کرنے جیسے نکات بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق وسیع تر پابندیوں کے خاتمے اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی پر حتمی مذاکرات جنگ بندی کے دوران جاری رہیں گے، تاہم ان پر عمل درآمد صرف مکمل اور تصدیق شدہ معاہدے کے بعد ہی ہوگا۔ اس دوران خطے میں تعینات امریکی افواج اپنی موجودہ پوزیشن پر برقرار رہیں گی اور مکمل معاہدے کی صورت میں ہی انخلا پر غور کیا جائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ ’’زیادہ تر معاملات طے پا چکے ہیں‘‘ اور معاہدہ جلد سامنے آ سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، بحرین اور ترکی سمیت کئی علاقائی ممالک کے رہنماؤں سے بات چیت ہوئی ہے۔

پاکستان بھی اس سفارتی عمل میں اہم کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایران کے پاکستان میں سفیر رضا امیری مقدم نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ مثبت پیش رفت ہو رہی ہے اور پاکستان کی ثالثی کوششیں قابلِ قدر ہیں۔ انہوں نے پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی کی تہران واپسی کے بعد ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ امن مذاکرات کا دور پاکستان میں منعقد ہو سکتا ہے۔ اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوگی بلکہ عالمی تیل منڈیوں اور معیشت پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button