وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، مشتبہ حملہ آور ہلاک، امریکی سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ پر
فائرنگ کا واقعہ مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً 6 بجے پیش آیا، جب ایک شخص وائٹ ہاؤس کے قریب واقع چیک پوائنٹ پر پہنچا۔
By Voice of germany Urdu News Team
Published : May 24, 2026 at 7:51 AM IST
واشنگٹن: امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں واقع وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے ایک سنسنی خیز واقعہ نے پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔ امریکی سیکریٹ سروس کے مطابق ایک مسلح شخص نے وائٹ ہاؤس کے قریب قائم سکیورٹی چیک پوسٹ پر اچانک فائرنگ شروع کر دی، جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو ہلاک کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق واقعہ مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً 6 بجے پیش آیا، جب ایک شخص وائٹ ہاؤس کے قریب 17ویں اسٹریٹ اور پنسلوانیا ایونیو کے مقام پر واقع چیک پوائنٹ پر پہنچا۔ اس نے اپنے بیگ سے ریوالور نکال کر وہاں تعینات سیکریٹ سروس اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ عینی شاہدین کے مطابق 15 سے 30 راؤنڈ تک گولیوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
امریکی سکیورٹی اہلکاروں نے فوری کاروائی کرتے ہوئے جوابی فائرنگ کی، جس میں حملہ آور شدید زخمی ہو گیا۔ اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم دورانِ علاج اس کی موت ہو گئی۔ بعد ازاں امریکی میڈیا نے حملہ آور کی شناخت 21 سالہ نیسیر بیسٹ کے طور پر کی۔ سیکریٹ سروس کے مطابق اس واقعہ میں ان کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا، البتہ ایک راہگیر زخمی ہوا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ حملہ آور کی گولی سے زخمی ہوا یا سکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی کے دوران گولی لگنے سے متاثر ہوا۔
واقعہ کے وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے اندر موجود تھے، تاہم حکام کے مطابق ان کی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ فائرنگ کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس کمپلیکس کو عارضی طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا جبکہ نارتھ لان کے علاقے کو خالی کرا کے سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔ واقعہ کے دوران وائٹ ہاؤس کی کوریج کرنے والے صحافی بھی موقع پر موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق فائرنگ کی آوازیں سنتے ہی صحافیوں میں بھگدڑ مچ گئی، جس کے بعد سیکریٹ سروس اہلکاروں نے انہیں فوری طور پر پریس بریفنگ روم میں منتقل کر دیا۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے بھی واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آئی کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور سیکریٹ سروس کے ساتھ مل کر تحقیقات میں حصہ لے رہی ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ واقعہ کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور جلد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔



