اہم خبریں

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں جزوی پیش رفت، فوری امن معاہدے کا امکان مسترد

سیاسی مبصرین کے مطابق امریکی بیانات میں اس تبدیلی کو سفارتی دباؤ کی حکمتِ عملی قرار دیا جا رہا ہے تاکہ مذاکرات کے دوران امریکہ اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنا سکے۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

ایران نے کہا ہے کہ  امریکہ کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات میں کئی اہم اور متنازعہ امور پر پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم ابھی ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی کہ دونوں ممالک کے درمیان عنقریب کسی جامع امن معاہدے یا باضابطہ ڈیل کا اعلان کیا جا سکے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں لیکن متعدد بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں، جن کے باعث کسی فوری پیش رفت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

ایرانی دارالحکومت تہران سے پیر 25 مئی کو موصولہ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مختلف سفارتی ذرائع کے ذریعے کئی بار امن تجاویز، پیغامات اور ممکنہ معاہدوں کے نکات کا تبادلہ کیا جا چکا ہے۔ ان مذاکرات کے دوران بعض معاملات میں دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت پیدا ہوئی ہے، تاہم ایرانی حکام کے مطابق کئی کلیدی معاملات پر اختلافات اب بھی موجود ہیں۔

ٹرمپ کا بیان اور امریکی حکمتِ عملی

امریکی صدرٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور دونوں فریق ایک مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد عالمی سطح پر یہ تاثر پیدا ہوا کہ واشنگٹن اور تہران جلد کسی بڑے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔

تاہم اتوار 24 مئی کو صدر ٹرمپ نے اپنے ایک نئے بیان میں اس تاثر کو نرم کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کے معاملے میں جلد بازی نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق واشنگٹن چاہتا ہے کہ کوئی بھی ممکنہ ڈیل مکمل طور پر امریکی مفادات، علاقائی سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کی جائے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق امریکی بیانات میں اس تبدیلی کو سفارتی دباؤ کی حکمتِ عملی قرار دیا جا رہا ہے تاکہ مذاکرات کے دوران امریکہ اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنا سکے۔

ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی کی وضاحت

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب تک ہونے والی پیش رفت کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کسی امن معاہدے پر عنقریب دستخط ہونے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا:“ابھی تک ایسی کوئی صورتحال پیدا نہیں ہوئی کہ ہم حتمی معاہدے کی تاریخ یا اس کے فوری امکانات کے بارے میں اعتماد کے ساتھ کچھ کہہ سکیں۔”

اسماعیل بقائی کے مطابق بعض معاملات میں اتفاقِ رائے ضرور سامنے آیا ہے لیکن کئی حساس نکات اب بھی زیرِ بحث ہیں اور ان پر مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی ایک ممکنہ دستاویز یا ایم او یو کے مختلف حصوں پر بات چیت جاری ہے، تاہم ابھی تک مذاکرات کسی حتمی مرحلے میں داخل نہیں ہوئے۔

جوہری پروگرام اب بھی سب سے حساس معاملہ

ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ جنگ کے خاتمے اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری بات چیت میں ابھی تک ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات شامل نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق تہران اپنے جوہری پروگرام کو قومی سلامتی اور خودمختاری کا معاملہ سمجھتا ہے اور اس پر کسی قسم کے دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

ماہرین کے مطابق یہی مسئلہ ایران اور امریکہ کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ تصور کیا جاتا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی کئی برسوں سے ایران کے جوہری پروگرام پر تحفظات کا اظہار کرتے آئے ہیں، جبکہ ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ایران کی امریکہ کو وارننگ

ایرانی ترجمان نے واشنگٹن کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے مذاکرات کے دوران اپنا موجودہ مؤقف تبدیل کیا یا نئی شرائط عائد کرنے کی کوشش کی تو امن معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں مزید پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتی ہیں۔

“سفارتی عمل اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب دونوں فریق حقیقت پسندانہ، سنجیدہ اور مستقل مزاج رویہ اپنائیں۔”اسماعیل بقائی کے مطابق:“سفارتی عمل اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب دونوں فریق حقیقت پسندانہ، سنجیدہ اور مستقل مزاج رویہ اپنائیں۔”

انہوں نے کہا کہ تہران مذاکرات کو مثبت انداز میں آگے بڑھانا چاہتا ہے لیکن قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر ممکنہ اثرات

سیاسی اور سفارتی ماہرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آتی ہے تو اس کے اثرات خطے میں جاری تنازعات، تیل کی عالمی منڈی، علاقائی اتحادوں اور سلامتی کی صورتحال پر بھی مرتب ہوں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے بیانات میں محتاط امید کا عنصر موجود ہے، تاہم اعتماد کی کمی، علاقائی تنازعات، پابندیوں کا معاملہ اور جوہری پروگرام جیسے حساس مسائل اب بھی کسی بڑے معاہدے کی راہ میں اہم رکاوٹ سمجھے جا رہے ہیں۔

عالمی برادری کی نظریں مذاکرات پر مرکوز

عالمی طاقتیں اور بین الاقوامی سفارتی حلقے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری رابطوں کو انتہائی اہمیت دے رہے ہیں۔ کئی ممالک اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہوگی بلکہ عالمی سطح پر معاشی اور سیاسی استحکام میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔

تاہم موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی اور کسی جامع معاہدے تک رسائی کے لیے ابھی مزید وقت، سفارتی کوششوں اور مسلسل مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button