روئٹرز کے ساتھ
پاکستان اس وقت بیرونی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ اسے افغانستان کے ساتھ کشیدگی اور ایران جنگ میں ثالثی جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
شہباز شریف اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات کے بعد جاری کردہ اس مشترکہ بیان میں کہا گیا، ’’دونوں فریقوں نے طے شدہ ماڈل کے تحت چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کی ترقی میں تیسرے فریقوں کی شمولیت کا خیرمقدم کیا۔‘‘
دونوں ممالک نے سی پیک، جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو (بی آر آئی) کا ایک اہم منصوبہ ہے، کے ”اعلیٰ معیار‘‘ کو فروغ دینے، گوادر پورٹ کو ترقی دینے اور سڑکوں اور بندرگاہی روابط کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
ان منصوبوں میں درہ خنجراب اور شاہراہ قراقرم کی اپ گریڈیشن بھی شامل ہے، جو چین اور پاکستان کے درمیان زمینی رابطے کا اہم راستہ ہے۔
پاکستان نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ وہ چینی کارکنوں اور سرمایہ کاری کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اور تعاون کو مزید مضبوط کرے گا۔ بیجنگ کے لیے یہ ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ ماضی میں پاکستان میں چینی شہریوں اور منصوبوں پر متعدد شدت پسندانہ حملے ہو چکے ہیں۔

علاقائی سفارت کاری
چین نے کہا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کو ممکن بنانے اور اسلام آباد میں امن مذاکرات کرانے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتا ہے۔
دونوں ممالک نے مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے پانچ نکاتی منصوبے کو جلد اپنانے کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ وہ اس مقصد کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔
پاکستان نے ‘ون چائنہ پالیسی‘ کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعادہ کیا اور جمہوری نظام کے تحت چلنے والے جزیرے تائیوان کو چین کا ”ناقابل تقسیم حصہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کسی بھی صورت میں تائیوان کی آزادی کی مخالفت کی۔
تائیوان چین کے ان دعووں کو مسترد کرتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ اس جزیرے کے مستقبل کا فیصلہ صرف وہاں کے عوام ہی کر سکتے ہیں۔
پاکستان نے افغانستان کے ساتھ مکالمت کو فروغ دینے کے لیے چین کی کوششوں کا بھی خیرمقدم کیا۔ دونوں ممالک نے اس بات کی مخالفت کی کہ تحریک طالبان پاکستان یا مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ جیسے گروہ کسی بھی ملک کی سرزمین کو علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے یا مسلح حملوں کے لیے استعمال کریں۔



