سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے دفتر نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور جلد ایک امن معاہدے تک پہنچنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا ہے۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس میں قطر میں ہونے والے حالیہ مذاکرات، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کو یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی امن کے فروغ اور کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
قطر مذاکرات کے نتائج پر تبادلہ خیال
ذرائع کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستانی وزیراعظم کو قطر میں ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں ایران اور امریکہ کے درمیان بعض اہم معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم متعدد حساس نکات اب بھی زیرِ بحث ہیں۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریق جنگ بندی کو مستقل شکل دینے، جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی بحالی جیسے معاملات پر کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کی سخت شرائط، پابندیوں میں نرمی سے انکار
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کو اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنا ہوں گے اور اس کے بدلے پابندیوں میں فوری نرمی نہیں دی جائے گی۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے اور مذاکرات اس کی مجبوری بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق تہران کے پاس معاہدے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کا معاملہ مذاکرات میں امریکہ کی بنیادی “سرخ لکیر” ہے اور واشنگٹن اس معاملے پر کسی قسم کی نرمی دکھانے کے لیے تیار نہیں۔
انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اب تک ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر امریکہ مکمل طور پر مطمئن نہیں ہے اور دونوں ممالک ابھی کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔
وائٹ ہاؤس کی تصدیق
وائٹ ہاؤس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات مثبت انداز میں جاری ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکراتی ٹیم کو واضح ہدایات اور سرخ لکیریں دے رکھی ہیں، جن کے اندر رہتے ہوئے کسی ممکنہ معاہدے پر غور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران مستقبل میں جوہری ہتھیار تیار نہ کر سکے اور اس مقصد کے لیے سخت نگرانی اور تصدیقی نظام ناگزیر ہوگا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی امید افزا گفتگو
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی مذاکرات کے حوالے سے امید کا اظہار کیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ انہیں امید ہے ایران کسی بھی ممکنہ معاہدے کے تحت جوہری ہتھیار نہ بنانے پر آمادہ ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اصل چیلنج یہ ہے کہ آیا ایران ایسے نگرانی اور تصدیقی نظام کو قبول کرے گا یا نہیں جس سے عالمی برادری کو یقین ہو سکے کہ مستقبل میں معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔
جے ڈی وینس کے مطابق مذاکرات میں شامل تمام فریق اس بات سے آگاہ ہیں کہ خطے میں ایک نئی جنگ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
اختلافات اب بھی برقرار
سفارتی ذرائع کے مطابق اگرچہ مذاکرات میں بعض معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم کئی پیچیدہ مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔ ان میں ایران کے جوہری عزائم، لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں، اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور خطے میں اثر و رسوخ کے معاملات شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق دونوں فریق اس وقت ایک عبوری مفاہمتی یادداشت تیار کرنے پر غور کر رہے ہیں، جس کے تحت جنگ بندی برقرار رکھی جائے گی اور مذاکرات کاروں کو حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تقریباً ساٹھ دن کا وقت دیا جائے گا۔
پاکستان کا سفارتی کردار اہم
سیاسی و سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت خطے میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی قیادت سے مسلسل رابطے اور پاکستانی عسکری قیادت کی سفارتی سرگرمیوں کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی جامع معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا کی سیاسی اور اقتصادی صورتحال پر بھی مرتب ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں فریق جنگ سے گریز کرتے ہوئے سفارتی حل کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں، تاہم حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اب بھی کئی مشکل مراحل باقی ہیں۔



