پاکستاناہم خبریں

سعودی فتویٰ، ابراہیمی ہاؤس اور ابراہام اکارڈز: کیا ایک باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا؟

اسلام ایک مکمل اور آخری دین ہے اور اسے دیگر مذاہب کے ساتھ عقائدی طور پر یکساں قرار دینا اسلامی اصولوں سے متصادم ہے۔

حافظ شفیق الرحمان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

دنیا کی سیاست میں بعض اوقات ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو بظاہر مذہبی یا فکری نوعیت کے ہوتے ہیں، لیکن ان کے اثرات بین الاقوامی سفارت کاری، علاقائی سیاست اور ریاستی پالیسیوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ سعودی عرب کی مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء کی جانب سے "اتحادِ مذاہب” اور "ابراہیمی ہاؤس” کے خلاف جاری کیا گیا فتویٰ بھی ایک ایسا ہی واقعہ ہے جس نے نہ صرف مذہبی حلقوں بلکہ سیاسی اور سفارتی مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔

یہ فتویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ گزشتہ چند برسوں سے "ابراہام اکارڈز” کے نام سے معروف سفارتی عمل کے زیر اثر ہے۔ ان معاہدوں کے ذریعے کئی عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کیے اور خطے میں ایک نئی سیاسی صف بندی دیکھنے میں آئی۔ تاہم سعودی علماء کے اس تازہ مؤقف نے اس پورے بیانیے کے مذہبی پہلو کو ایک مرتبہ پھر مرکزِ بحث بنا دیا ہے۔

ابراہیمی ہاؤس کیا ہے؟

ابراہیمی ہاؤس متحدہ عرب امارات میں قائم ایک ایسا منصوبہ ہے جس میں ایک مسجد، ایک چرچ اور ایک یہودی عبادت گاہ کو ایک ہی کمپلیکس میں تعمیر کیا گیا۔ اس منصوبے کے حامی اسے بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری اور بقائے باہمی کی علامت قرار دیتے ہیں۔

لیکن ناقدین کا مؤقف ہے کہ مذاہب کے درمیان احترام اور مکالمہ اپنی جگہ اہم سہی، مگر عقائدی سطح پر مختلف ادیان کو ایک ہی مذہبی تصور میں سمو دینا اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا۔

سعودی فتویٰ کمیٹی نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسلام ایک مکمل اور آخری دین ہے اور اسے دیگر مذاہب کے ساتھ عقائدی طور پر یکساں قرار دینا اسلامی اصولوں سے متصادم ہے۔

فتویٰ کے اصل نکات

فتویٰ نمبر 19402 میں کئی بنیادی نکات بیان کیے گئے ہیں جن میں اسلام کی حتمیت، قرآن مجید کی آخری آسمانی کتاب کی حیثیت، حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت اور سابقہ مذاہب و شریعتوں کے منسوخ ہونے کا ذکر شامل ہے۔

کمیٹی نے واضح کیا کہ اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کو نجات کا راستہ قرار دینا یا تمام مذاہب کو یکساں حق پر سمجھنا اسلامی عقیدے کے خلاف ہے۔ فتویٰ میں یہ بھی کہا گیا کہ قرآن، تورات اور انجیل کو ایک ہی جلد میں شائع کرنا یا مختلف مذاہب کی عبادت گاہوں کو ایک مذہبی شناخت کے تحت یکجا کرنا جائز نہیں۔

سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا حصہ وہ تھا جس میں "اتحادِ مذاہب” کی دعوت کو ایک فتنہ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ اس کا نتیجہ اسلام اور کفر کے درمیان امتیاز کے خاتمے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

کیا یہ محمد بن سلمان کے وژن سے مختلف مؤقف ہے؟

بعض تجزیہ نگار اس فتویٰ کو سعودی عرب میں جاری سماجی اور سفارتی تبدیلیوں کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب کو ایک جدید اور کھلے معاشرے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ بین المذاہب مکالمے اور عالمی مذہبی رہنماؤں سے روابط بھی اسی حکمت عملی کا حصہ رہے ہیں۔

تاہم سعودی علماء کی جانب سے جاری کردہ اس فتویٰ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بین المذاہب احترام اور مکالمے کی حمایت کے باوجود سعودی مذہبی ادارے اسلامی عقائد کے حوالے سے اپنے روایتی مؤقف پر قائم ہیں۔

پاکستان کا مؤقف کیوں اہم ہے؟

پاکستان نے ابتدا ہی سے ابراہام اکارڈز میں شمولیت کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف واضح رہا ہے کہ فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ حل اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے قبل اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔

وزیر خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام متعدد بار یہ واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اس حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو سعودی علماء کے فتویٰ نے ان حلقوں کے مؤقف کو تقویت دی ہے جو ابراہام اکارڈز اور ابراہیمی ہاؤس جیسے منصوبوں کو اسلامی دنیا کی مذہبی شناخت کے لیے ایک چیلنج تصور کرتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کی سیاست پر ممکنہ اثرات

اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ فتویٰ ابراہام اکارڈز کے مستقبل پر اثر انداز ہوگا؟

مختصر جواب یہ ہے کہ سفارتی معاہدے اور مذہبی فتاویٰ دو مختلف دائروں میں کام کرتے ہیں۔ عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا انحصار زیادہ تر قومی مفادات، سلامتی، تجارت اور جغرافیائی سیاست پر ہے۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ عرب اور اسلامی دنیا میں مذہبی رائے عامہ ہمیشہ سے ایک اہم عنصر رہی ہے۔ اگر کسی پالیسی کے خلاف بڑے مذہبی اداروں کی جانب سے واضح مؤقف سامنے آتا ہے تو اس کے سیاسی اور سماجی اثرات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

نتیجہ

سعودی عرب کی مستقل فتویٰ کمیٹی کا یہ فیصلہ محض ایک مذہبی فتویٰ نہیں بلکہ ایک ایسا نظریاتی اعلان ہے جس نے "اتحادِ مذاہب”، "ابراہیمی ہاؤس” اور "ابراہام اکارڈز” کے گرد گھومنے والی بحث کو نئی سمت دے دی ہے۔

یہ فتویٰ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ عالمِ اسلام میں بین المذاہب مکالمے، سفارتی تعلقات اور عقائدی اصولوں کے درمیان ایک واضح فرق موجود ہے۔ جہاں ریاستیں اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے تحت فیصلے کرتی ہیں، وہیں مذہبی ادارے عقائد اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

آنے والے برسوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ مشرق وسطیٰ کی سفارتی پیش رفت اور اسلامی دنیا کے مذہبی بیانیے ایک دوسرے کے ساتھ کس حد تک ہم آہنگ رہتے ہیں، یا پھر یہ فتویٰ واقعی ایک ایسے باب کے اختتام کا اعلان ثابت ہوتا ہے جس پر گزشتہ چند برسوں سے مسلسل بحث جاری تھی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button