
سید عاطف ندیم-ادارت
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے شروع کیا گیا آپریشن "11 گرج” گزشتہ دو ماہ سے بھرپور انداز میں جاری ہے، جس کے دوران متعدد کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) میں دہشت گرد تنظیم "فتنہ الخوارج” سے وابستہ عناصر کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں میں کئی دہشت گرد ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ ان کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن "11 گرج” جدید انٹیلی جنس معلومات، زمینی کارروائیوں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے نہایت منظم انداز میں جاری ہے۔ فورسز دہشت گردوں کی نقل و حرکت، ان کے سہولت کاروں اور محفوظ پناہ گاہوں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہیں تاکہ دہشت گردی کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران کیے گئے مختلف آپریشنز میں نہ صرف متعدد دہشت گرد مارے گئے بلکہ کئی مشتبہ سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جن سے تفتیش جاری ہے۔ کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود، خودکار ہتھیار، بارودی مواد، مواصلاتی آلات اور دیگر عسکری سامان بھی برآمد کیا گیا ہے، جسے مزید تحقیقات کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ضلع باجوڑ کے علاقے شاکرو میں ہونے والی ایک اہم انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو انتہائی مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ کارروائی میں دہشت گردوں کے متعدد مراکز تباہ کیے گئے جبکہ اطلاعات کے مطابق کئی خوارج ہلاک اور زخمی ہوئے۔ کارروائی کے بعد علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی جاری رکھا گیا تاکہ کسی ممکنہ فرار ہونے والے دہشت گرد کو گرفتار کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن "11 گرج” کے دوران دہشت گردوں کی جانب سے مختلف مقامات پر نصب کیے گئے دیسی ساختہ بم (IEDs) بھی بروقت تلاش کرکے ناکارہ بنا دیے گئے یا محفوظ طریقے سے تباہ کر دیے گئے، جس سے سیکیورٹی اہلکاروں اور مقامی شہریوں کی جانوں کو لاحق ممکنہ خطرات کو مؤثر انداز میں ختم کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں میں زمینی دستوں کے ساتھ ساتھ جدید نگرانی کے نظام، خصوصاً کواڈ کاپٹرز (Quadcopters) اور دیگر فضائی وسائل کا مؤثر استعمال کیا جا رہا ہے۔ فضائی نگرانی کے ذریعے دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں انہیں اپنی محفوظ پناہ گاہیں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ سیکیورٹی فورسز ہر کارروائی انتہائی احتیاط اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دے رہی ہیں تاکہ مقامی آبادی کے جان و مال کا ہر ممکن تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ آپریشنز کی منصوبہ بندی اس انداز میں کی جاتی ہے کہ دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جائے جبکہ عام شہری کسی بھی قسم کے نقصان سے محفوظ رہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مقامی آبادی بھی دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں سیکیورٹی اداروں سے تعاون کر رہی ہے، جس کے باعث دہشت گردوں کی نقل و حرکت محدود ہو رہی ہے اور ان کے سہولت کاروں کی نشاندہی میں بھی مدد مل رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوامی تعاون دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ذرائع نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے مکمل خاتمے، خوارج کے نیٹ ورک کی بیخ کنی اور خیبرپختونخوا میں پائیدار امن کے قیام تک اپنی کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست دشمن عناصر کے خلاف ہر سطح پر کارروائی جاری رہے گی اور کسی بھی دہشت گرد یا اس کے سہولت کار کو قانون کی گرفت سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔
سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ آپریشن "11 گرج” کا بنیادی مقصد دہشت گردوں کی کارروائیوں کو ناکام بنانا، ان کی تنظیمی صلاحیت کو ختم کرنا، عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا اور خیبرپختونخوا میں امن و استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور دہشت گردی کے خلاف یہ مہم اپنے منطقی انجام تک جاری رہے گی۔


