
مصنف: ژینس تھوراؤ
اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جرمنی میں متعدد یہودی باشندوں نے زبانی ہراسانی، دھمکیوں اور نفرت انگیز رویوں کی شکایات درج کرائیں۔ بعض افراد کو سوشل میڈیا پر جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی موصول ہوئیں۔
آر آئی اے ایس جرمن حکومت کے مالی تعاون سے چلنے والی ایک تنظیم ہے، جو 2018 میں برلن میں قائم کی گئی تھی۔ اس کا مقصد ملک بھر میں رپورٹ ہونے والے سامیت دشمن واقعات کا اندراج اور تجزیہ کرنا ہے۔ اس تنظیم کے علاقائی دفاتر جرمنی کی 16 میں سے 11 وفاقی ریاستوں میں موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2025 کے اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جرمنی میں اینٹی سیمیٹزم اب بھی ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے، جس کے باعث یہودی برادری کو مختلف نوعیت کے امتیازی سلوک، نفرت انگیز رویوں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تاہم اس تنظیم نے واضح کیا کہ اس رپورٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار پورے جرمن معاشرے کی نمائندگی نہیں کرتے۔
یہ تنظیم ان واقعات کو مختلف زمروں میں تقسیم کرتی ہے، جن میں یہودی باشندوں اور اداروں کو نشانہ بنانے والے واقعات، ایسے افراد اور ادارے جنہیں یہودی سمجھا گیا یا ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا گیا، اور بعض دیگر غیر یہودی باشندوں یا اداروں سے متعلق واقعات بھی شامل ہیں۔ ان واقعات کو نوعیت اور مبینہ محرکات کی بنیاد پر بھی درجہ بند کیا جاتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے حالات کے اثرات
آر آئی اے ایس کے مطابق جرمنی میں یہود دشمنی کے واقعات میں نمایاں اضافہ سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد دیکھنے میں آیا۔ اس حملے میں 1,200 سے زائد اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔
اس کے بعد غزہ پٹی میں شروع ہونے والی جنگ میں 73 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی متعدد بین الاقوامی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن نے اسرائیل کے جنگی طرزِ عمل کو ‘نسل کشی‘ قرار دیا ہے، جبکہ اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔
آر آئی اے ایس کے محققین کا کہنا ہے کہ جرمنی میں بعض یہودی باشندوں نے شکایت کی کہ انہیں اس وقت بھی یہود دشمنی پر مبنی نفرت انگیز پیغامات موصول ہوئے، جب وہ خود اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کر رہے تھے۔
اس تنظیم نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کئی طرح کی حالیہ سیاسی پیش رفت، مثلاً اسرائیل حماس فائربندی بھی جرمنی میں سامیت دشمنی کے واقعات کی تعداد، وقت یا شدت میں کوئی نمایاں کمی لانے میں ناکام رہی۔
رپورٹ کے مطابق ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسرائیل کی حکومت یا اس کی پالیسیوں پر تنقید اور اینٹی سیمیٹزم کو ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں، تاہم کسی بھی یہودی شہری کو اسرائیلی حکومت کے اقدامات کا ذمہ دار ٹھہرانا یا اس بنیاد پر نشانہ بنانا واضح طور پر امتیازی اور نفرت انگیز رویہ شمار کیا جاتا ہے۔



