
امریکی میڈیا کی طرف سے ٹرمپ کی ایران کو دی گئی ’رعایتوں‘ کی تقریباﹰ متفقہ طور پر مذمت
’وائٹ ہاؤس نے ایک ایسی فائر بندی پر اتفاق کر لیا، جس میں امریکہ کے جنگ سے پہلے کے مقاصد میں سے کوئی بھی پورا نہیں ہوا,امریکی ٹی وی نیٹ ورک ’ایم ایس ناؤ‘
امریکی میڈیا کی رپورٹوں میں ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے تہران کے ساتھ طے کردہ ابتدائی جنگ بندی معاہدے میں اسلامی جمہوریہ کو دی گئی ’رعایتوں‘ کی تقریباﹰ متفقہ طور پر مذمت کی جا رہی ہے۔
واشنگٹن سے نیوز ایجنسی اے ایف پی کی جمعرات 18 جون کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق امریکی ذرائع ابلاغ زیادہ تر یہ کہہ رہے ہیں کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمتی دستاویز کی صورت میں اب جو ڈیل کی گئی ہے، اس کے چند نمایاں ترین پہلو یہ ہیں: جنگ شروع کرنے سے پہلے کے اہداف ترک کر دیے گئے، ایران کی طاقت میں اضافہ ہو گیا اور ساتھ ہی جنگی کارروائیوں کے نام پر دسیوں بلین ڈالر جھونک دیے گئے۔

اس معاہدے پر امریکی صدر ٹرمپ نے بدھ کی رات فرانس میں اپنے اعزاز میں صدر ماکروں کی طرف سے دیے گئے ایک عشائیے کے دوران دستخط کیے تھے، جن کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اس میمورنڈم پر ڈیجیٹل دستخط کر دیے تھے۔
اس جنگ بندی کا مقصد مشرق وسطیٰ میں اس جنگ کو کسی طرح ختم کرنا تھا، جس کی زد میں خطے کے کئی ممالک آ گئے تھے اور ساتھ ہی عالمی معیشت کے لیے بھی شدید نوعیت کے مسائل پیدا ہو گئے تھے۔
اے ایف پی کے مطابق اپنے دورہ یورپ سے واپسی پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ مقامی وقت کے مطابق جمعرات کو بعد دوپہر جب واشنگٹن پہنچیں گے، تو انہیں ایک مختلف حقیقت کا سامنا ہو گا: یہ حقیقت کہ انہیں اس جنگ کے حامیوں اور مخالفین دونوں کی طرف سے متوقع طور پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایران کے ساتھ اس عبوری امن ڈیل کے بارے میں امریکی ٹی وی نیٹ ورک ’ایم ایس ناؤ‘ نے اپنی نشریات میں کہا، ’’وائٹ ہاؤس نے ایک ایسی فائر بندی پر اتفاق کر لیا، جس میں امریکہ کے جنگ سے پہلے کے مقاصد میں سے کوئی بھی پورا نہیں ہوا اور ساتھ ہی ایران کو بہت بڑی مالیاتی رعایتیں بھی دے دی گئیں۔‘‘



