
پاکستان میں جوڑ میلہ کی تقریبات اختتام پذیر، بھارتی سکھ یاتری 10 روزہ مذہبی یاترا مکمل کرکے وطن واپس روانہ
پاکستان سے محبت، امن اور مذہبی رواداری کا پیغام لے کر جا رہے ہیں، بھارتی جتھا لیڈر
انصار ذاہد سیال-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
متروکہ وقف املاک بورڈ (ETPB) وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے زیر انتظام پانچویں سکھ گرو، گرو ارجن دیو جی کے جوڑ میلہ کی مذہبی تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کا 10 روزہ مذہبی دورہ اختتام پذیر ہوگیا۔ یاتری واہگہ بارڈر کے راستے واپس بھارت روانہ ہو گئے، جہاں انہیں الوداع کرنے کے لیے متروکہ وقف املاک بورڈ، پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام موجود تھے۔
واہگہ بارڈر پر منعقدہ الوداعی تقریب میں چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمر الزمان، پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی سردار رمیش سنگھ اروڑا، ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق، سیکرٹری جنرل پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی ستونت کور اور دیگر حکام نے بھارتی سکھ یاتریوں کو رخصت کیا۔
یاتریوں کا پاکستان کی مہمان نوازی اور انتظامات پر اظہار اطمینان
اس موقع پر بھارتی سکھ جتھے کے لیڈر سردار بھوپندر سنگھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان سے محبت، امن، بھائی چارے اور مذہبی رواداری کا پیغام لے کر واپس جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود سکھوں کے مقدس مذہبی مقامات پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، خوبصورت اور بہتر سہولیات سے آراستہ نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ یاتریوں کو جس عزت، احترام اور محبت کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا اور پورے دورے کے دوران جس انداز میں ان کی خدمت کی گئی، وہ ان کے لیے ہمیشہ یادگار رہے گی۔
سردار بھوپندر سنگھ نے حکومت پاکستان، متروکہ وقف املاک بورڈ، پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی اور تمام متعلقہ اداروں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات قابل ستائش ہیں۔
مقدس مقامات کی حفاظت اور تزئین و آرائش حکومت کی ترجیحات میں شامل
چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمر الزمان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق پاکستان میں اقلیتوں کے مذہبی مقامات کے تحفظ، تزئین و آرائش اور ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سکھ برادری کے مقدس گوردوارے نہ صرف مذہبی ورثہ ہیں بلکہ پاکستان کی بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کی روشن مثال بھی ہیں۔ حکومت پاکستان دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے تاکہ وہ اپنی مذہبی رسومات اور عبادات مکمل سکون اور احترام کے ساتھ ادا کر سکیں۔
قمر الزمان نے کہا کہ پاکستان اپنے تاریخی اور مذہبی ورثے کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور سکھ برادری کے مقدس مقامات کی بحالی اور ترقی کے منصوبے مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔
دنیا بھر کا سکھ پاکستان کے مقدس مقامات سے عقیدت رکھتا ہے، رمیش سنگھ اروڑا
پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں سکھ برادری ایک اقلیت ہے، تاہم دنیا بھر میں بسنے والے کروڑوں سکھوں کے دل پاکستان میں واقع اپنے مقدس مقامات کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ننکانہ صاحب، کرتارپور صاحب، پنجہ صاحب، گوردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور اور دیگر مقدس مقامات دنیا بھر کے سکھوں کے لیے غیر معمولی روحانی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ سکھ برادری کو عزت، احترام اور مذہبی آزادی فراہم کی ہے جس کے باعث دنیا بھر کے سکھ پاکستان کے بارے میں مثبت جذبات رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد دونوں ممالک کے عوام کے درمیان محبت، احترام اور باہمی تعلقات کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
دنیا بھر کے سکھ پاکستان کی یاترا کے منتظر رہتے ہیں، ناصر مشتاق
ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق نے کہا کہ بھارت سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم سکھ برادری پاکستان میں موجود مقدس مذہبی مقامات کی یاترا کے لیے بے حد شوق اور عقیدت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ اور متعلقہ ادارے یاتریوں کی خدمت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور ان کی رہائش، ٹرانسپورٹ، سیکیورٹی، طبی سہولیات اور لنگر کے بہترین انتظامات کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
ناصر مشتاق نے اس موقع پر اعلان کیا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کی تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت سے سکھ یاتریوں کا ایک اور جتھا 21 جون کو واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچے گا، جس کے استقبال اور قیام کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
یاتریوں نے بہترین سہولیات اور سیکیورٹی انتظامات کو سراہا
بھارتی سکھ یاتریوں نے واپسی کے موقع پر پاکستان میں فراہم کی جانے والی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پورے دورے کے دوران بہترین رہائش، معیاری ٹرانسپورٹ، بروقت طبی سہولیات، لنگر اور فول پروف سیکیورٹی فراہم کی گئی۔
یاتریوں نے کہا کہ پاکستان میں قیام کے دوران انہیں نہ صرف مذہبی آزادی حاصل رہی بلکہ مقامی عوام کی جانب سے بھی محبت اور احترام کا بھرپور اظہار کیا گیا، جس نے ان کے دل جیت لیے۔
محبتوں اور یادوں کے ساتھ واپسی
دس روزہ مذہبی یاترا مکمل کرنے کے بعد بھارتی سکھ یاتری جذباتی مناظر کے درمیان واہگہ بارڈر کے راستے اپنے وطن واپس روانہ ہوئے۔ متعدد یاتریوں نے کہا کہ وہ پاکستان سے خوبصورت یادیں، محبتیں اور روحانی سکون اپنے ساتھ لے کر جا رہے ہیں۔
الوداعی تقریب کے دوران کئی یاتریوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی انہیں پاکستان آنے اور اپنے مقدس مذہبی مقامات کی یاترا کا موقع ملتا رہے گا۔
مذہبی اور سیاحتی ماہرین کے مطابق سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات بہتر بنانے اور پاکستان کے مثبت تشخص کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جوڑ میلہ کی تقریبات کے کامیاب انعقاد اور یاتریوں کے اطمینان بخش تاثرات نے ایک بار پھر پاکستان کے مذہبی سیاحت، بین المذاہب ہم آہنگی اور اقلیتوں کے مذہبی حقوق کے تحفظ کے عزم کو اجاگر کیا ہے۔
یہ خبر قومی اخبار کے مذہبی، سیاحتی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے صفحے کے لیے تفصیلی فیچر نیوز کے انداز میں تیار کی گئی ہے۔



