اہم خبریںبین الاقوامی

سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں بڑا تعطل، امریکی دھمکیوں پر ایرانی وفد کا واک آؤٹ، مشرقِ وسطیٰ امن عمل غیر یقینی صورتحال سے دوچار

ٹرمپ کے سخت بیانات پر تہران کا شدید ردعمل، ایرانی چیف مذاکرات کار نے امریکہ کو نتائج سے خبردار کر دیا

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice Of Germany Urdu News team

لوسرن/سوئٹزرلینڈ: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے مستقل خاتمے اور امریکہ و ایران کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے سوئٹزرلینڈ میں جاری اہم مذاکرات اس وقت شدید تعطل کا شکار ہو گئے جب ایرانی وفد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات اور فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد مذاکراتی عمل سے واک آؤٹ کر دیا۔

ہمارے رپورٹر نے بتایا کہ امریکی صدر کے توہین آمیز بیان کے بعد ایرانی وفد مذاکرات کے ہال سے نکل آیا اور اپنی رہائشگاہ کی جانب چلا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین طے شدہ اسلام آباد سمجھوتے کے تحت دھمکی آمیز بیان اور لفاظیوں کو معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔

ایرانی مذاکرات کار ٹیم کے سربراہ اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے ٹرمپ کو زبان سنبھال کر بات کرنے کو کہا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ایران، بیان بازیاں نہیں کرتا بلکہ میدان عمل میں اپنی طاقت دکھاتا ہے۔صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے بھی دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ ایران دباؤ میں آنے والا نہیں ہے۔

ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق ایرانی وفد نے ثالثی کرنے والے ممالک کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد مذاکراتی مقام چھوڑ دیا، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر اس اہم سفارتی عمل کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

مذاکرات کے دوران اچانک بحران

خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا آغاز مثبت ماحول میں ہوا تھا اور دونوں فریق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے کے امکانات پر غور کر رہے تھے۔

تاہم مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر تہران لبنان میں موجود حزب اللہ اور دیگر گروہوں کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات نہیں کرتا تو امریکہ ایران کے خلاف مزید سخت کارروائی کر سکتا ہے۔

امریکی صدر کے اس بیان کو ایرانی قیادت نے مذاکراتی ماحول کے منافی قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

ایرانی وفد کا احتجاجاً واک آؤٹ

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی وفد نے مذاکراتی مقام پر ثالثی کرنے والے ممالک میں سے ایک کے وفد کے ساتھ ہنگامی ملاقات کی، جس کے بعد ایرانی نمائندے عمارت سے روانہ ہو گئے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تہران کا مؤقف ہے کہ مذاکرات کے دوران دھمکی آمیز بیانات اعتماد سازی کے عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ایسے ماحول میں بامقصد بات چیت آگے بڑھانا مشکل ہو جاتا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق امریکی صدر کے بیانات نے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول کو متاثر کیا اور اس کے نتیجے میں وفد نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے مذاکراتی مقام چھوڑ دیا۔

باقر قالیباف کا سخت ردعمل

ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر غالب نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے بیانات میں احتیاط برتنی چاہیے۔

انہوں نے کہا: "بہتر ہوگا کہ وہ اپنے بیانات میں محتاط رہیں۔ ہماری مسلح افواج ہر قسم کی صورتحال کا مختلف انداز میں جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ وہ کچھ بھی کہیں، عملی اقدامات ہم کرتے ہیں۔”

ان کے اس بیان کو ایران کی جانب سے واضح انتباہ قرار دیا جا رہا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

حزب اللہ کے معاملے پر امریکی دباؤ

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران پر زور دیا تھا کہ وہ لبنان میں موجود حزب اللہ کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ان گروہوں کو کنٹرول نہ کیا تو امریکہ مزید سخت اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔

واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ خطے میں استحکام کے لیے ایران کو اپنے اتحادی مسلح گروہوں کی حمایت کم کرنا ہوگی، جبکہ ایران مسلسل اس الزام کو مسترد کرتا آیا ہے کہ وہ خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار ہے۔

اسرائیل کا مؤقف بھی سخت

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں اس وقت تک موجود رہیں گی جب تک سکیورٹی صورتحال اس کا تقاضا کرتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش ناکام بنائی جائے گی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں یہ عزم بھی دہرایا کہ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

جوہری پروگرام مذاکرات کا حصہ نہ بن سکا

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق مذاکرات کے پہلے دور میں ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی باضابطہ گفتگو نہیں ہوئی۔

ذرائع کے مطابق تقریباً 80 منٹ تک جاری رہنے والے ابتدائی مذاکرات میں زیادہ تر توجہ علاقائی سلامتی، لبنان کی صورتحال، جنگ بندی اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر مرکوز رہی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ جوہری پروگرام پر بات نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریق پہلے اعتماد سازی کے اقدامات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

مذاکرات کا مستقبل غیر واضح

ایرانی وفد کے واک آؤٹ کے بعد یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے یا انہیں غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا جائے گا۔

ثالثی کرنے والے ممالک کی جانب سے دونوں فریقوں کے درمیان رابطے جاری رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ مذاکراتی عمل مکمل طور پر ناکام نہ ہو۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے گھنٹے اور دن اس بات کا تعین کریں گے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان یہ مذاکرات آگے بڑھتے ہیں یا ایک نئے بحران کا شکار ہو جاتے ہیں۔

جے ڈی وینس کی امیدیں دھندلا گئیں

مذاکرات کے آغاز پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس ملاقات کو "تاریخی” قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ امریکہ اور ایران تعلقات میں ایک نیا باب کھول سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا:

"اصل سوال یہ ہے کہ ہم مل کر مزید کیا حاصل کر سکتے ہیں؟ کیا ہم ایک نیا باب شروع کر سکتے ہیں؟ کیا ہم مشرقِ وسطیٰ کے تعلقات کو مستقل طور پر تبدیل کر سکتے ہیں؟”

تاہم ایرانی وفد کے واک آؤٹ اور بڑھتی ہوئی لفظی جنگ کے بعد ان امیدوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

عالمی برادری کی نظریں مذاکرات پر مرکوز

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے یہ مذاکرات مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل، امریکہ اور ایران کے تعلقات، لبنان کی صورتحال اور خطے کے وسیع تر امن عمل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔

ایرانی وفد کے واک آؤٹ نے سفارتی عمل کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ عالمی برادری اس امید میں ہے کہ ثالثی کی کوششوں کے ذریعے دونوں فریق دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے اور خطے کو مزید کشیدگی سے بچانے کے لیے کوئی مشترکہ راستہ تلاش کیا جا سکے گا۔

نوٹ: یہ خبر آپ کے فراہم کردہ متن کی بنیاد پر اخباری انداز میں مرتب کی گئی ہے۔ اس میں شامل واقعات اور بیانات متعلقہ فریقوں سے منسوب ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button