پاکستاناہم خبریں

سابق افغان رکنِ پارلیمنٹ بکتاش سیاوش کی طالبان حکومت پر شدید تنقید، رجیم کے مستقبل پر سوالات اٹھا دیے

طالبان حکومت اکثر ایسے دعوؤں کو مسترد کرتی رہی ہے اور اپنے مؤقف میں یہ کہتی ہے کہ ملک میں امن و استحکام قائم ہے

سید عاطف ندیم-ادارت

افغانستان کی موجودہ سیاسی صورتحال، طالبان حکومت کی داخلی و خارجی پالیسیوں اور انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی سطح پر جاری بحث کے دوران سابق افغان رکنِ پارلیمنٹ بکتاش سیاوش نے طالبان حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ طرزِ حکمرانی طویل مدت تک برقرار نہیں رہ سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے اندر اور بیرونِ ملک موجود متعدد سیاسی رہنما، کارکن اور مزاحمتی حلقے طالبان حکومت کے خلاف متحرک ہو رہے ہیں۔

افغان نشریاتی ادارے افغانستان انٹرنیشنل کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں بکتاش سیاوش نے طالبان کی پالیسیوں کو افغانستان کے مستقبل، اسلامی تشخص اور انسانی حقوق کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی حکمرانی نے دنیا میں اسلام کے بارے میں ایک منفی تاثر پیدا کیا ہے، حالانکہ اسلام امن، انصاف، علم اور انسانی وقار کا دین ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کی جانب سے خواتین کی تعلیم اور ملازمت پر پابندیاں، میڈیا پر سخت قدغنیں، فنونِ لطیفہ اور ثقافتی سرگرمیوں کی محدودیت، سیاسی اختلافِ رائے کے لیے کم گنجائش اور سماجی آزادیوں پر پابندیاں ایسے اقدامات ہیں جن کی وجہ سے عالمی سطح پر افغانستان کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

بکتاش سیاوش نے دعویٰ کیا کہ طالبان کی موجودہ حکمتِ عملی کا مقصد اسلام کو ایک ایسے مذہب کے طور پر پیش کرنا ہے جو خواتین، جدید تعلیم، فنون اور انسانی آزادیوں کے خلاف ہو، جبکہ ان کے مطابق اسلام کی حقیقی تعلیمات اس تصور کی نفی کرتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں طالبان حکومت ایک مخصوص مدت تک برقرار رہ سکتی ہے تاکہ، ان کے بقول، پس پردہ موجود قوتیں اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔ تاہم انہوں نے پیش گوئی کی کہ جب یہ مقاصد مکمل ہو جائیں گے تو طالبان حکومت کا وجود بھی ختم ہو جائے گا۔ یہ رائے بکتاش سیاوش کی ذاتی سیاسی تشخیص ہے۔

مزاحمتی تحریکوں کی سرگرمیوں کا حوالہ

سابق رکنِ پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان مخالف مزاحمتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو ان کے مطابق اس بات کی علامت ہے کہ افغان معاشرے کا ایک حصہ موجودہ حکومت سے مطمئن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم افغان سیاسی شخصیات بھی افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے متبادل سیاسی نظام پر غور کر رہی ہیں۔

اگرچہ طالبان حکومت اکثر ایسے دعوؤں کو مسترد کرتی رہی ہے اور اپنے مؤقف میں یہ کہتی ہے کہ ملک میں امن و استحکام قائم ہے، تاہم طالبان مخالف گروہ مختلف اوقات میں اپنی کارروائیوں اور بیانات کے ذریعے حکومت کو چیلنج کرتے رہے ہیں۔

عالمی برادری کے تحفظات

افغانستان میں اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے متعدد بین الاقوامی اداروں، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے خواتین کی تعلیم، ملازمت، آزادیِ اظہار، عدالتی نظام اور بنیادی انسانی حقوق سے متعلق طالبان حکومت کی متعدد پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

خواتین کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی، متعدد غیر سرکاری اداروں میں خواتین کی ملازمت پر قدغن اور میڈیا پر عائد مختلف پابندیاں عالمی سطح پر تنقید کا باعث بنی ہیں۔ کئی ممالک نے انہی وجوہات کی بنیاد پر طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے سے گریز کیا ہے۔

افغانستان کے مستقبل پر غیر یقینی صورتحال

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان اس وقت ایک پیچیدہ سیاسی اور معاشی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف طالبان حکومت خود کو ملک کی واحد قانونی انتظامیہ قرار دیتی ہے، جبکہ دوسری جانب بعض سابق حکومتی شخصیات، سیاسی رہنما اور طالبان مخالف گروہ موجودہ نظام پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن، سیاسی استحکام اور اقتصادی بحالی کے لیے ایک جامع سیاسی مکالمہ، تمام افغان طبقات کی شمولیت، بنیادی انسانی حقوق کا احترام اور عالمی برادری کے ساتھ مثبت روابط انتہائی اہم ہوں گے۔

دوسری جانب طالبان حکومت بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکی ہے کہ وہ افغانستان میں امن، سلامتی اور اسلامی اصولوں کے مطابق نظامِ حکومت چلا رہی ہے، جبکہ اپنے ناقدین کے الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

افغانستان کی موجودہ صورتحال پر مختلف سیاسی حلقوں کی آراء ایک دوسرے سے مختلف ہیں، تاہم یہ بات واضح ہے کہ ملک کا مستقبل، سیاسی استحکام اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات آنے والے برسوں میں افغانستان کی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button