کالمزپیر مشتاق رضوی

ایرانی صدرکا دورۀ پاکستان، ایک نیا تاریخی باب ۔۔!پیر مشتاق رضوی

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ "امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ خطے میں نیا دور لائے گا"۔ یہ دورہ اسی نئے دور کی بنیاد رکھ رہا ہے۔بدلتے عالمی حالات میں پاکستان ایک "ایماندار سہولت کار" کے طور پر ابھرا ہے

ایرانی صدر مسعود پزشکیان 23 جون 2026 کو ایک روزہ دورے پر پاکستان تشریف آئے یہ دورہ کئی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے یہ دورہ ایران امریکہ کےدرمیان سوئٹزرلینڈ کے شہر برجن اسٹاک میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے فوراً بعد ہوا۔ ان مذاکرات میں دونوں فریقین نے 60 دن میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کے روڈمیپ پر اتفاق کیا۔ پاکستان اور قطر کی ثالثی سے "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” پر دستخط ہوئے۔ صدر پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کی "ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی” پر شکریہ ادا کیا۔ پاکستان اب "ایماندار اور مخلص سہولت کار” کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے کہ وہ امریکہ-ایران جیسے پیچیدہ تنازعے میں قابلِ اعتماد ثالث بنا۔28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے۔ اس کے بعد 12 روزہ ایران-اسرائیل جنگ بھی ہوئی۔ یہ صدر پزشکیان کا جنگ کے بعد پہلاغیرملکی دورہ تھا پاکستان نے اس جنگ میں ایران کی حمایت کی تھی اور ایرانی پارلیمنٹ میں "Thanks to Pakistan” کے نعرے لگے۔ اب جنگ بندی کے بعد پہلا دورہ پاکستان کا ہونا، ایران کا پاکستان پر بھر پور اعتماد ظاہر کرتا ہے۔ صدر پزشکیان نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد "بین الاقوامی قانون کے تحت یادداشت پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانا” ہے اس معاہدے کے تحت امریکہ 12 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی فنڈز جاری کرے گا اور 21 اگست تک ایرانی تیل پر پابندیاں عارضی طور پر نرم کی جائیں گی۔ آبنائے ہرمز کھولنے اور خطے میں امن بحال کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔ پاکستان اس پورے عمل کا ضامن اور نگران بن کر ابھرا ہے۔ دونوں ممالک نے تجارت، توانائی، سرحدی سیکیورٹی اور علاقائی رابطوں پر بات کی۔ ایران CPEC میں شامل ہونے کا خواہاں ہے اور اسے یورپ تک رسائی کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ دونوں ملکوں کی تجارت 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف ہ امریکی پابندیوں میں نرمی سے ایران-پاکستان گیس پائپ لائن جیسے منصوبوں پر پیش رفت کا راستہ کھل سکتا ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدر پزشکیان سے ملاقات کی اور علاقائی امن اقدامات پر تبادلہ خیال ہوا۔ ایرانی صدر نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کے "تعمیراتی اور ذمہ دارانہ کردار” کو سراہا افغانستان، دہشت گردی، اور بلوچستان- سیستان سرحد پر مشترکہ سیکیورٹی کے لیے یہ رابطہ اہم ہے۔ یہ دورہ پاکستان کے لیے سفارتی جیت کا شاندار اظہار ہے پاکستان صرف ایران کا ہمسایہ نہیں رہا، بلکہ امریکہ-ایران کشیدگی کم کرنے والا اہم ملک بن گیا جنگ کے بعد مغربی ایشیا میں امن کا روڈمیپ اسلام آباد سے شروع ہوا۔ اسے "اسلام آباد MoU” کہا جا رہا ہ یوں پاکستان کو علاقائی اور عالمی لیڈرشپ کا اعزاز حاصل ہوا پابندیاں نرم ہونے سے توانائی اور تجارت کے نئے دروازے کھلیں گے پاکستان نے ایران سعودی امریکہ سب سے تعلقات برقرار رکھتے ہوئے خود کو خطے کا ناگزیر ملک ثابت کیا۔ آج قائد اعظم کافرمان سچ ثابت ہوا "پاکستان کو جتنی ضرورت امریکہ کی ہے امریکہ کو اس سے زیادہ ضرورت پاکستان کی ہے”
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ "امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ خطے میں نیا دور لائے گا”۔ یہ دورہ اسی نئے دور کی بنیاد رکھ رہا ہے۔بدلتے عالمی حالات میں پاکستان ایک "ایماندار سہولت کار” کے طور پر ابھرا ہے۔ صدر مسعود پزشکیان کے دورہ پاکستان اور "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” MoU کے بعد پاکستان کی سفارتی حیثیت کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ 28 فروری 2026 کو امریکہ -اسرائیل کے حملوں اور 12 روزہ ایران-اسرائیل جنگ کے بعد ایران کو فوری جنگ بندی کی ضرورت تھی پاکستان کی ثالثی سے جنگ رکی اور مزید تباہی ٹلی۔ اسلام آباد MoU کے تحت امریکہ نے ایران کے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ یہ ایران کی معیشت کے لیے بڑا ریلیف ہے۔21 اگست 2026 تک ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں عارضی طور پر نرم کر دی گئیں۔ اس سے ایران کو اربوں ڈالر کی آمدن ہو گی۔ جنگ کے بعد صدر پزشکیان کا پہلا غیرملکی دورہ پاکستان کا ہونا اور پاکستان کی حمایت سے ایران کا عالمی تنہائی سے نکلنا ممکن ہوا۔ ایرانی پارلیمنٹ میں "Thanks to Pakistan” کے نعرے اس اعتماد کا ثبوت ہیں۔ ایران چین-پاکستان اقتصادی راہداری CPEC میں شامل ہو کر یورپ تک رسائی چاہتا ہے۔ امن معاہدے سے یہ راستہ کھل سکتا ہے۔پاکستان کی سفارتی کوششوں سےمشرق وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ ٹلا اور دنیا خفناک معاشی تباھی و بربادی سے بچ گئ اایران-اسرائیل جنگ پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتی تھی۔ پاکستان کی ثالثی سے امریکہ کو ایک بڑی علاقائی جنگ سے بچنے کا راستہ ملا۔ دنیا کی 30% تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔ MoU میں اسے کھلا رکھنے پر اتفاق ہوا جس سے عالمی تیل منڈی میں استحکام آیا۔سفارتی چینل بحال ہوۓ، براہ راست بات چیت کے بجائے پاکستان جیسے قابلِ اعتماد ملک کے ذریعے امریکہ نے ایران سے "باعزت نکلنے ” کا راستہ نکالا۔اس سے قبل پاکستان نے امریکہ کو افغانستان سے باعزت نکلنے کا محفوظ راستہ فراھم کیا تھا صدرپزشکیان نےپاکستان کے وزیراعظم میان شہباز شریف کی "ثالثی” کا کھل کر شکریہ ادا کیا۔یورپی اتحادیوں کا دباؤ کم ہوا یورپ ایران-امریکہ کشیدگی سے تیل کی قیمتوں اور مہاجرین کے بحران سے پریشان تھا۔ معاہدے سے یورپ کو بھی ریلیف ملا۔تیل کی قیمتوں میں استحکام:* جنگ کے خطرے سے تیل 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا تھا۔ امن روڈمیپ کے بعد قیمتیں نیچے آئیں۔ پاکستان سمیت تمام درآمدی ممالک کو فائدہ ہوا۔ایٹمی کشیدگی میں کمی ہوئی ایران کا ایٹمی پروگرام دوبارہ مذاکرات کی میز پر آیا۔ "60 روزہ روڈمیپ” سے فوری خطرہ ٹل گیا۔ پاکستان نے دنیا کی تاریخ میں نئی سفارتی روایت ڈالی "اسلام آباد MoU” نے ثابت کیا کہ بڑی طاقتوں کے درمیان ثالثی صرف مغربی ممالک ہی نہیں کر سکتے۔ ایک جنوبی ایشیائی ملک بھی یہ کردار ادا کر سکتا ہے جبکہ افغانستان-وسطی ایشیا استحکام پیدا ہو گا ایران-پاکستان تعلقات بہتر ہونے سے افغان سرحد، بلوچستان-سیستان میں دہشت گردی اور اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ کارروائی ممکن ہو گی۔ امریکہ، ایران، چین، سعودی عرب، قطر سب پاکستان پر اعتماد کر رہے ہیں۔ پاکستان "نہ امریکہ کا نہ ایران کا” بلکہ "امن کا” ملک بن کر سامنے آیا۔امریکہ کی طرف سے پابندیاں نرم ہونے سے ایران-پاکستان گیس پائپ لائن، بجلی کی درآمد، اور بارٹر ٹریڈ کے منصوبے دوبارہ زندہ ہو سکتے ہیں۔ دونوں ملک تجارت 10 ارب ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں۔ سرحد پر امن سے بلوچستان میں سرمایہ کاری اور CPEC کے مغربی روٹ پر کام تیز ہو گا۔پاکستان کے اس بیانیے کی جیت ہوئی کہ دنیا نے دیکھا کہ پاکستان "دہشت گردی کا شکار” ملک نہیں بلکہ "امن کا معمار” ہے۔صدر زرداری نے کہا کہ یہ دورہ "دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے”۔ پاکستان نے بندوق کے بجائے مذاکرات کی میز سے وہ کام کر دکھایا جو بڑی طاقتیں نہ کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں پاکستان کی سفارتی اہمیت کو تسلیم کیا جا رہا ہےایرانی صدر کا یہ ایک روزہ دورہ صرف رسمی نہیں تھا۔ اس کے پاکستان، ایران اور پورے خطے کے لیے 7 بڑے نتائج سامنے آ سکتے ہیں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل تیز ہو گا۔ایرانی صدر پزشکیان نے خود کہا کہ دورے کا مقصد "معاہدے پر بین الاقوامی قانون کے تحت مکمل عملدرآمد یقینی بنانا” ہے۔ اس کا مطلب 60 دن میں حتمی معاہدہ، 12 ارب ڈالر کے ایرانی فنڈز کی بحالی، اور 21 اگست تک تیل کی پابندیاں نرم ہونا ہے۔ پاکستان اس پورے عمل کا "ضامن” بن گیا ہے۔علاوہ ازیں پاک ایران دونوں ملکوں نے تجارت کا حجم موجودہ 2.5 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر کرنے پر اتفاق کیا ہے امریکی پابندیوں میں نرمی سے بارٹر ٹریڈ، سرحدی منڈیوں، اور زرعی اجناس کے تبادلے میں اضافہ ہو گا۔ ایران سے سستی ایل پی جی، بجلی اور پٹرول کی درآمد آسان ہو گی۔ 2013 سے رکا ہوا منصوبہ دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے۔امریکہ کی عارضی چھوٹ کے بعد پاکستان کو پابندیوں کے خوف کے بغیر ایرانی حصے پر کام مکمل کرنے کا موقع ملے گا۔ اس سے پاکستان کو سالانہ 750 MMCFD سستی گیس مل سکتی ہے۔ ایران نے CPEC کو یورپ تک رسائی کا ذریعہ قرار دیا ہے امن کے بعد گوادر-چابہار کو "سسٹر پورٹس” بنانے اور ریلوے-روڈ لنکس پر بات ہو گی۔ اس سے بلوچستان میں ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلوچستان -سیستان بارڈر پر مشترکہ گشت اور انٹیلی جنس شیئرنگ بڑھے گی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں "علاقائی امن اقدامات” پر بات ہوئی۔ دونوں ملک جیش العدل اور بی ایل اے جیسی تنظیموں کے خلاف کارروائی پر متفق ہیں۔ دنیا کی 30% تیل کی گزرگاہ آبنائے ہرمز کھلی رہے گی۔ MoU میں اس پر اتفاق ہوا ہے۔ اس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مستحکم رہیں گی اور پاکستان جیسے درآمدی ممالک کو فائدہ ہو گا پاکستان "ثالث” سے بڑھ کر "علاقائی لیڈر” بن کر ابھرا ایران نے پاکستان کے "تعمیراتی کردار” کو سراہا۔ سعودی عرب، چین، قطر اور امریکہ بھی پاکستان کے کردار کو تسلیم کر رہے ہیں۔ اس سے FATF، IMF اور دیگر عالمی فورمز پر پاکستان کی پوزیشن بہتر ہو گی۔ سوئٹرز لینڈ میں مذکرات اور جنگ بندی کے فورا” بعد ایرانی صدر کے دورۀ پاکستان پر دنیا خوشگوار حیرت کا شکار ہے یہ دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے دنیا کے امن کو بچانے کے لئے بے مثال اور جاندار سفارتکاری کی اور ثالثی کی نئی مثال قائم کی اس دورہ سے یہ بھی ظایر ہوتا ہے پاکستان کی سفارتی کوششیں رائیگان نہیں جائیں بلکہ دنیا میں دیرپا امن قائم ہو گا اور ایران امریکہ میں جنگ بندی باآور ثابت ہوئی ہیں یہ بھی قوی امید ہے کہ ایران امریکہ کے مابین ٹھوس بنیادون پر تاریخی متوازن ڈیل ہوگی ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دورہ پاکستان واقعی "خوشگوار حیرت” کا باعث بنا ہے یہ دورہ پاکستان کی سفارتکاری کی جیت کا اعلان ہےپاکستان نے "ثالثی کی نئی مثال” قائم کی 1947 کے بعد پہلی بار پاکستان نے دو بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان جنگ رکوا کر "ضامن” کا کردار ادا کیا۔اس سے ثابت ہوا کہ پاکستان کی "نیوٹرل مگر فعال” سفارتکاری کام کر گئی۔ پہلی بار "بارٹر ڈیل” ہو رہی ہے: ایران یورینیم افزودگی کم کرے گا، امریکہ ڈالر جاری کرے گا۔ دونوں کو فوری فائدہ ہے۔ پاکستان جیسا ثالث موجود ہے جو دونوں کا اعتماد رکھتا ہے۔ یہ دورہ ثبوت ہے کہ پاکستان نے دنیا کا امن بچایا۔ یہ "خوشگوار حیرت” دراصل پاکستان کی 20 سال کی "دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے بعد پہلی بڑی اور تاریخی سفارتی فتح ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button