
قریب ہیں دن خوشحالی کے !……ناصف اعوان
ایران امریکا جنگ رکوانے میں ہمارے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے بڑا مثبت کردار ادا کیا ہے انہوں نے پوری سنجیدگی سے دونوں ممالک کو مزاکرات کی میز پر بٹھایا ہے
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب سیاسی منظر نامہ تبدیل ہونے جا رہا ہے جس میں وہ چہرہ جو تین برس سے زنداں میں ہے ابھر کر سامنے آ نے والا ہے کیونکہ یہ بات محسوس کر لی گئی ہے کہ اس کے بغیر الجھے ملکی معاملات سلجھ نہیں رہے ۔ یہ بات درست ہے کہ موجودہ حکومت ملک کی معیشت بہتر طور سے نہیں چلا سکی اور اس نے دو تین برسوں میں آئی ایم ایف سے اتنا قرضہ لے لیا ہے کہ جسے اتارنے کے لئے کئی برس لگ جائیں گے؟ موجودہ حکومت سے یہ بھی توقع کی گئی کہ وہ ملک میں سرمایہ کاروں کو لے کر آئے گی صنعت کاری کو فروغ دے گی کیونکہ یہ صنعت کے معاملات کو خوب سمجھتی ہے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا اور وہ اپنی ذات کے لئے ہی سر گرم عمل ہو گئی ۔ اس کے وزیروں نے یہ سمجھ لیا کہ چونکہ انہیں ضرورتاً لایا گیا ہے لہذا بہتی گنگا میں جتنا چاہے ہاتھ دھو لیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہ ان کی خوش فہمی تھی جس کا اندازہ انہیں فیصل واؤڈا اور سوشل میڈیا کے شور سے ہوگیا ۔
لوٹ کھسوٹ ہر دور میں ہوتی رہی ہے ۔ کوئی زیادہ کرتا ہے تو کوئی کم۔ مگر اگر قومی سرمائے پر ہاتھ صاف کرنے والوں کو پکڑ کر ان سے لوٹا ہوا پیسا واپس خزانہ میں جمع کروایا جائے تو یقیناً لوٹ مار میں بڑی حد تک کمی آجاتی ہے۔
بہرحال ہمیں اچھے دنوں کی امید رکھنی چاہیے کیونکہ ایران امریکا جنگ رکوانے میں ہمارے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے بڑا مثبت کردار ادا کیا ہے انہوں نے پوری سنجیدگی سے دونوں ممالک کو مزاکرات کی میز پر بٹھایا ہے جس سے جہاں ان کو فائدہ ہوا ہے تو وہاں ہمیں بھی فائدہ پہنچنے کی پوری امید ہے کیونکہ ایران پر عائد پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں اب اس سے دل کھول کر تجارت کی جا سکتی ہے۔ تیل گیس جو انتہائی سستا ہے لیا جا سکتا ہے۔ یوں ملک میں جو توانائی کا بحران ایک عرصہ سے چلا آرہا تھا ختم ہو جائے گا۔ اب جب تیل سستا ہو گا تو ظاہر ہے عوام کو بہت سے ریلیف بھی ملیں گے۔ گیس کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی۔ رہی بات بیرونی سرمایہ کاری کی اس کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی عدم استحکام کی فضا کو ختم کیا جائے اور دنیا بھر کو یہ پیغام جائے کہ ہم سب ایک ہیں۔ اس حوالے سے بعض تجزیہ نگار دعویٰ کر رہے ہیں کہ اب پی ٹی آئی کے بُرے دن ختم ہونے جا رہے ہیں۔ اہل اختیار نے یہ عندیہ دے دیا ہے کہ خان کو بھی سیاسی عمل میں شریک کیا جائے کیونکہ آزمائے ہوؤں کو آزما لیا گیا ہے وہ چلے ہوئے کارتوس ہی ثابت ہوئے ہیں لہذا خان کی ملک میں بھی اور اس سے باہر بھی مقبولیت ہے۔ ایسا اس لئے بھی سوچا جارہا ہوگا کہ خان کی رہائی میں جہاں یورپ و مغرب دلچسپی لے رہے ہیں تو وہاں ایران بھی دلچسپی رکھتا ہے لہذا مبینہ طور سے ایران کی حکومت نے خان کی رہائی کی بات کی ہے خیال ظاہر کیا جارہا کہ صدر ایران دیگر معاملات کے علاوہ خان کے بارے میں بھی بات کریں گے لہذا امید کی جارہی ہے کہ دونوں طرف کی برف پگھل سکتی ہے ایران اب اس خطے میں ایک ہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آچکا ہے پھر اس کے ساتھ جو تجارت ہونے والی ہے اس سے معاشی استحکام ہی نہیں ایک انقلاب برہا ہو سکتا ہے اور ہمیں اس وقت جن مسائل کا سامنا ہے ان سے چھٹکارا مل سکتا ہے ۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا اگر ہمارے کرتا دھرتاؤں نے بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ کیا تو ہمارے نوجوانوں کو باہر کے ملکوں میں جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی لہذا ہمیں مایوس بالکل نہیں ہونا کیونکہ ہمارے بڑے معیشت کی بہتری کے لئے سوچ بچار کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں واقعتاً غریب عوام کے دن پھرنے والے ہیں مگر اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ جو بڑی سیاسی جماعت ہے اس کو غیر اہم نہیں سمجھا جا سکتا بیرونی دنیا اس کے سربراہ پر اندھا اعتماد کرتی ہے اور وہ ملک کو معاشی پسماندگی سے نجات دلا سکتے ہیں۔ جن پر ناز تھا وہ تو اپنی ہی ذات میں محو ہو گئے اور پی ٹی آئی کو نکڑے لگانے کے لئے اپنی ساری توانائیاں صرف کرنے لگے مگر لوگوں نے تہیہ کرلیا کہ وہ خان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ اس ثابت قدمی سے وہ ہر طرح کا اپنا نقصان بھی کروا چکے ہیں مگر آنے والے دنوں میں صورت حال بدل جائے گی کیونکہ جس طرح علاقائی سیاسی منظر نامہ تبدیل ہونے جا رہا ہے اسی طرح ملکی سیاست بھی بدل رہی ہے۔ اس کا اندازہ اس امر سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ محمود قریشی چھے سات کیسوں میں بری ہو چکے ہیں ۔ اس طرح دوسرے لوگوں پر سے بھی مقدمات ختم ہو سکتے ہیں مگر یہ بھی عجیب ہے کہ چند روز پہلے پی ٹی آئی کے اہم سیاسی رہنماؤں کو ایک کیس میں دس دس سال کی سزائیں سنا دی گئی ہیں مگر انہیں اپیلوں کا بھی حق ہو گا۔
بہر کیف کہا جا رہا ہے کہ خان نے تھوڑی بہت لچک دکھائی ہے انہیں لچک دکھانی بھی چاہیے کیونکہ ایک تو ان کی صحت کا مسلہ پیدا ہو گیا ہے دوسرے ان کے چاہنے والے تھک چکے ہیں انہوں نے بہت کچھ برداشت کیا ہے کب تک لوگ جلسے کر سکتے ہیں اور جلوس نکال سکتے ہیں پھر یہ بھی ہے کہ ان تمام سرگرمیوں کا اہل اقتدار پر ذرا بھر بھی اثر نہیں ہو سکا لہذا خان کو اپنے کارکنوں ہمدردوں اور ملک کے وسیع تر مفاد کی خاطر اپنے دل میں نرمی پیدا کرنا ہو گی کیونکہ ہماری معیشت انتہائی کمزور ہو چکی ہے جس کو توانا بنانے کے لئے حکومت کو ٹیکسوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے ۔ صرف یہی نہیں آئی ایم سے بھاری قرضے بھی لینا پڑ رہے ہیں جو کسی آکاس بیل کی مانند بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں ان پر سود ہی اتنا ہو چکا ہے کہ ہماری اگلی نسلیں بھی اسے ادا کرنے سے قاصر ہوں گی اگرچہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی کوششوں سے ہم بہت جلد معاشی بحران سے باہر نکل آئیں گے مگر کیا وہ سرمایہ آئی ایم ایف کی قسطوں کے اتارنے کے لئے ہو گا ہمیں اپنے دیرینہ گمبھیر مسائل کو حل نہیں کرنا لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر چلیں کوئی بھی تنہا سیاسی جماعت یا فرد واحد ملک کو معاشی اعتبار سے مستحکم نہیں کر سکتا لہذا سیاسی منظر کی متوقع تبدیلی کے پیش نظر عوام کو امید ہو چلی ہے کہ وہ خوشحالی سے ہم کنار ہونے والے ہیں کیونکہ اٹھہتر برس سے وہ اُس نظام کی خواہش کرتے آئے ہیں کہ جس میں انہیں بھوک افلاس اور بیماری سے واسطہ نہ پڑے مگر ہماری قیادتوں نے محض اقتدار کے لئے عوامی امنگوں کی پروا نہیں کی۔ آج ہمارے اوپر چڑھنے والے قرضوں نے ہماری مت مار دی ہے۔ جن کی ادائی کے لئے بڑے بڑے ادارے فروخت کیے جا رہے ہیں وہ بھی اونے پونے مگر بات پھر بھی نہیں بن رہی کیونکہ بنیادی سرمایہ اندرون سے نہیں حاصل ہو رہا مگر اب حالات ایک نئی کروٹ لینے جا رہے ہیں جس سے چہروں پرچھائی خزاں بہار میں تبدیل ہو جائے گی

