مشرق وسطیٰتازہ ترین

بھارتی شہریوں کے لیے نیا مسئلہ: پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں؟

مختلف سیاسی رہنما اور شہری یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر پاسپورٹ، آدھار کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ بھی شہریت کا حتمی ثبوت نہیں ہیں، تو پھر اس مقصد کے لیے کون سی دستاویز قابل قبول ہو گی۔

جاوید اختر (نئی دہلی)

گزشتہ روز سے یہ سوال سوشل میڈیا سے لے کر سماجی، سیاسی اور دیگر پلیٹ فارمز پر شدت سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا بھارتی پاسپورٹ کا حامل شخص بھی بھارتی شہری نہیں؟ بھارتی وزارت خارجہ کے ایک حالیہ بیان سے ایسا ہی لگتا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر شدید بحث شروع ہو گئی۔ متعدد صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں، تو پھر بھارتی شہریت ثابت کرنے کے لیے کون سی دستاویز معتبر سمجھی جائے۔

گزشتہ سال بھارتی سپریم کورٹ بھی یہ کہہ چکی ہے کہ آدھار کارڈ بھی شہریت کا حتمی ثبوت نہیں ہے، جب کہ حکومتی اداروں کی جانب سے جاری ہونے والےآدھار کارڈ، پین (پرماننٹ اکاؤنٹ نمبر) کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ، بینک اکاؤنٹ کی دستاویزات، ڈرائیونگ لائسنس جیسے کارڈز کو بھی شہریت کا ثبوت تسلیم کرنے سے انکار کیا جا چکا ہے۔

آدھار کارڈ کا نمونہ
حکومتی اداروں کی جانب سے جاری ہونے والےآدھار کارڈ، پین (پرماننٹ اکاؤنٹ نمبر) کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ جیسے دستاویزات کو بھی شہریت کا ثبوت تسلیم کرنے سے انکار کیا جا چکا ہےتصویر: Aamir Ansari/DW

حکومت پر سخت تنقید

نئی دہلی میں ملکی  وزارت خارجہ کی طرف سے یہ وضاحت ایسے وقت پر سامنے آئی، جب بھارتی الیکشن کمیشن انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کر رہا ہے اور ووٹروں سے ان کی اہلیت ثابت کرنے کے لیے مختلف دستاویزات طلب کی جا رہی ہیں، جن میں شہریت کا ثبوت بھی شامل ہے۔

مختلف سیاسی رہنما اور شہری یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر پاسپورٹ، آدھار کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ بھی شہریت کا حتمی ثبوت نہیں ہیں، تو پھر اس مقصد کے لیے کون سی دستاویز قابل قبول ہو گی۔

سینئر وکیل اور سابق بھارتی وزیر کپل سبل نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں پوچھا کہ آخر کون سی دستاویز بھارتی شہریت کا ثبوت سمجھی جائے گی؟ انہوں نے لکھا، ”بوتھ لیول آفیسر میری شہریت پر شک کر سکتا ہے اور مجھے ووٹ ڈالنے سے روک سکتا ہے۔ ایسی صورتحال کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی انتخابات جیت جائے اور بعد میں معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچ جائے۔‘‘

معروف شاعر اور سماجی کارکن جاوید اختر نے وزارت خارجہ کے اس بیان کو ‘مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ اگر پاسپورٹ بھی شہریت کا ثبوت نہیں، تو کیا حکومت بعض افراد کو ان کی بھارتی شہریت کی مکمل تصدیق کے بغیر ہی پاسپورٹ جاری کر رہی ہے؟

رکن پارلیمان مہوا مؤیترا نے طنزیہ انداز میں کہا، ”ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آج کے بھارت میں شہریت کا واحد ثبوت ہندو ہونا اور حکمران جماعت کے حق میں ووٹ دینا رہ گیا ہے۔‘‘

حکومت کی طرف سے وضاحت

اس تنازعے کے حوالے سے حکومت نے پھر کہا ہے کہ پاسپورٹ نہ تو اب تک شہریت کا حتمی ثبوت رہا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے حالیہ برسوں میں کوئی نئی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 12 برسوں میں نریندر مودی کی حکومت نے پاسپورٹ کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی نیا فیصلہ نہیں کیا۔ حکومت کے مطابق پاسپورٹ بنیادی طور پر ایک سفری دستاویز ہے، جبکہ شہریت کا تعین سٹیزن شپ ایکٹ 1955 اور  شہریت ضوابط 2009   کے تحت کیا جاتا ہے۔

حکومت کے شعبہ اطلاعات و نشریات، پریس انفارمیشن بیورو، کی جانب سے جاری کردہ وضاحت میں کہا گیا ہے کہ بھارتی شہریت حاصل کرنے کے پانچ قانونی طریقے ہیں: پیدائش کے ذریعے، نسب کے ذریعے، رجسٹریشن کے ذریعے، نیچرلائزیشن کے ذریعے اور کسی علاقے کے بھارت میں شامل ہونے کی صورت میں شہریت حاصل کرنا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button