
وفاق المدارس کے انتخابات۔۔۔ ایک منفرد اور باوقار روایت
وفاق المدارس کے اکابر نے ہمیشہ عہدوں سے زیادہ ذمہ داریوں کو اہمیت دی ہے۔ اسی لیے یہاں کبھی عہدوں کے لیے کشمکش یا مقابلہ آرائی کی روایت پیدا نہیں ہوئی
(عبدالروف محمدی)
2 جولائی 2026ء کو جامعہ دارالعلوم کراچی میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عمومی کے 1623 افراد جن میں وفاق المدارس کی مجلس شوری کے 358 افراد بھی شامل ہیں اگلے پانچ سال کے لیے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر اور ناظم اعلٰی کا انتخاب کریں گے_یاد رہے کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی قیادت اور عہدیداران ہوں یا مجلس عاملہ،مجلس شوری اور مجلس عمومی کے اراکین وہ کوئ عام لوگ نہیں ہوتے بلکہ نامی گرامی علماء کرام،منتظمین مدارس ،شیوخ الحدیث اور ایسی ہستیاں ہیں جن میں سے ہر ایک اپنی ذات میں ایک جماعت،ایک ادارہ،ایک تحریک اور ایک جہان ہے وہ وفاق المدارس کی قیادت کا انتخاب کرتے ہیں_
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے انتخابات عام سیاسی انتخابات یا دیگر تنظیموں اور جماعتوں کے انتخابات کی طرح کی کوئی ایسی سرگرمی نہیں جس میں عہدوں کے حصول کی دوڑ، ذاتی مفادات، گروہ بندی، لابنگ یا ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششیں ہوتی ہوں۔ بلکہ وفاق المدارس کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہاں قیادت کو خدمت کی ایک بھاری امانت سمجھا جاتا ہے_
وفاق المدارس کے اکابر نے ہمیشہ عہدوں سے زیادہ ذمہ داریوں کو اہمیت دی ہے۔ اسی لیے یہاں کبھی عہدوں کے لیے کشمکش یا مقابلہ آرائی کی روایت پیدا نہیں ہوئی، بلکہ ہر دور میں اہلِ علم و تقویٰ نے ایک دوسرے کو آگے بڑھانے اور ذمہ داری قبول کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دستوری مدت مکمل ہونے یا کسی بزرگ کی رحلت کے باعث ہونے والے انتخابات ہمیشہ پرامن طریقے سے خوش اسلوبی، باہمی اعتماد اور اتفاقِ رائے کے ساتھ انجام پاتے رہے ہیں۔
وفاق المدارس کی تقریباً سات دہائیوں پر محیط تاریخ اس اعتبار سے بھی منفرد ہے کہ اکابر مدارس نے ہمیشہ اپنی قیادت پراعتماد کا اظہار کیا ہے اور وفاق المدارس کی صدارت اور نظامت کے منصب پر فائز ہونے والی شخصیات اپنے دور کی صرف وطن عزیز ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کی نامور شخصیات رہی ہیں اور ان میں سے اکثر حضرات اپنی زندگی کے آخری دم تک خدمات سرانجام دیتے رہے اور ان کے وصال کے بعد ہی نئی قیادت کا انتخاب عمل میں آیا۔ یہ روایت اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ ہمارے اکابر میں عہدوں کی خواہش نہیں بلکہ خدمت کا جذبہ غالب رہا، جبکہ وفاق المدارس کے عاملہ،شوری اور عمومی کے اراکین نے بھی ہمیشہ اپنے قائدین پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔
وفاق المدارس کی تاریخ میں متعدد ایسی شخصیات گزری ہیں جنہیں ان کی علمی، انتظامی اور دینی خدمات کے اعتراف میں ایک سے زائد مرتبہ قیادت کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ متعدد بار ناظمِ اعلیٰ منتخب ہوئے، حضرت مولانا ادریس میرٹھی رحمہ اللہ پہلے ناظمِ اعلیٰ اور بعد ازاں دو مرتبہ صدر منتخب ہوئے، حضرت مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ دو مرتبہ ناظمِ اعلیٰ اور پانچ مرتبہ صدر منتخب ہوئے، جبکہ حضرت مولانا حبیب اللہ مختار شہید رحمہ اللہ بھی دو مرتبہ ناظمِ اعلیٰ منتخب ہوئے۔ اسی طرح موجودہ ناظمِ اعلیٰ حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری دامت برکاتہم 1998ء سے اب تک مسلسل چھ مرتبہ ناظمِ اعلیٰ منتخب ہو چکے ہیں، جو ان پر اکابر اور وابستگانِ وفاق کے غیر معمولی اعتماد کا مظہر ہے۔بلکہ اکثر حضرات کی زندگی نے جب تک وفا کی وہ اپنے منصب پر فائز رہے اور کئ حضرات ایسے بھی ہیں جو پہلے ناظم اعلٰی کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے اور بعد میں صدارت کے منصب پر فائز رہے_
آئندہ انتخابات کے حوالے سے بھی عمومی تاثر اور توقع یہی ہے کہ وفاق المدارس اپنی اسی روشن روایت کو برقرار رکھے گا۔ صدر کے منصب کے لیے حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم جیسی عالمِ اسلام کی ممتاز علمی و فقہی شخصیت کی موجودگی وفاق کے لیے باعثِ سعادت ہے۔ آپ کی علمی بصیرت، فقہی مقام، اعتدال، حکمت اور بین الاقوامی سطح پر خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔
اسی طرح ناظمِ اعلیٰ کے منصب کے لیے حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری دامت برکاتہم کی طویل انتظامی خدمات، اکابرِ وفاق کے ساتھ کئی دہائیوں پر محیط رفاقت، وفاق المدارس کے نظام پر گہری گرفت، حکومتی اداروں، تعلیمی حلقوں اور مختلف طبقات کے ساتھ مؤثر روابط، اور مدارس کے مسائل کے حل میں ان کا وسیع تجربہ اس امر کی توقع کو مضبوط بناتا ہے کہ انہیں ایک مرتبہ پھر اس اہم ذمہ داری کے لیے منتخب کیا جائے گا۔
وفاق المدارس کی اصل طاقت یہی ہے کہ یہاں افراد سے زیادہ ادارے، عہدوں سے زیادہ ذمہ داریاں اور خواہشات سے زیادہ مشاورت اور اعتماد کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی وہ مبارک روایت ہے جس نے وفاق المدارس کو استحکام، وقار اور اتحاد کی علامت بنایا ہےاور امید ہے کہ آئندہ بھی یہ ادارہ اسی اخلاص، اتفاق اور باہمی اعتماد کے ساتھ اپنی دینی و ملی خدمات کا سفر جاری رکھے گا۔ ان شاء اللہ



