پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

لیسکو کی مؤثر حکمتِ عملی سے گردشی قرضے میں تاریخی کمی، مالی نظم و ضبط اور آپریشنل اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آگئے

ترجمان لیسکو کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران کمپنی نے متعدد اصلاحاتی اقدامات کے ذریعے اپنی مالی پوزیشن کو مستحکم بنایا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے مالی نظم و ضبط، مؤثر گورننس، بجلی چوری کے خلاف سخت اقدامات، لائن لاسز میں نمایاں کمی اور ریکوری کے بہتر نظام کے ذریعے گردشی قرضے میں تاریخی کمی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران کمپنی کی مجموعی مالی اور آپریشنل کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ کمپنی کے مطابق ان اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف گردشی قرضہ کم ہوا بلکہ بجلی کی خریداری کے واجبات کی بروقت ادائیگی، شفاف مالیاتی نظم و نسق اور صارفین کو بہتر خدمات کی فراہمی بھی ممکن ہوئی۔

یہ بات چیف ایگزیکٹو آفیسر لیسکو انجینئر محمد رمضان بٹ نے کمپنی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہی، جس میں بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحات، گردشی قرضے کی صورتحال اور آئندہ کے اہداف پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔

گردشی قرضہ ایک قومی مسئلہ قرار

چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر محمد رمضان بٹ نے کہا کہ گردشی قرضہ پاکستان کے توانائی کے شعبے کا ایک پیچیدہ اور قومی نوعیت کا مسئلہ ہے، جس پر صرف بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی ہی اثرانداز نہیں ہوتی بلکہ اس کے پس منظر میں مالی، انتظامی، ریگولیٹری، پالیسی اور آپریشنل عوامل بھی شامل ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گردشی قرضے کو صرف ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن (T&D) لاسز یا لائن لاسز سے جوڑنا درست تجزیہ نہیں ہوگا، کیونکہ بجلی کے شعبے میں ایندھن کی قیمتیں، سبسڈیز، ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، واجبات کی ادائیگی، وصولیوں کی شرح اور دیگر حکومتی پالیسی فیصلے بھی اس پر نمایاں اثر ڈالتے ہیں۔

مالی استحکام کی جانب اہم پیش رفت

ترجمان لیسکو کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران کمپنی نے متعدد اصلاحاتی اقدامات کے ذریعے اپنی مالی پوزیشن کو مستحکم بنایا۔

کمپنی کے مطابق اہم کامیابیوں میں شامل ہیں:

  • لائن لاسز میں مسلسل کمی۔
  • تقریباً سو فیصد بلوں کی وصولی۔
  • بجلی کی خریداری کے واجبات کی بروقت ادائیگی۔
  • مالی نظم و ضبط کو مضبوط بنانا۔
  • انتظامی شفافیت میں اضافہ۔
  • آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانا۔

لیسکو کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں کمپنی کی مالی صحت بہتر ہوئی اور قومی بجلی کے شعبے پر مالی دباؤ کم کرنے میں بھی مدد ملی۔

گردشی قرضے میں 136 ارب روپے کی تاریخی کمی

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2023-24 میں لیسکو سے متعلق گردشی قرضہ 339 ارب روپے تھا، جو مالی سال 2025-26 میں کم ہو کر 203 ارب روپے رہ گیا۔

اس طرح صرف دو برسوں کے دوران گردشی قرضے میں 136 ارب روپے کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جسے کمپنی نے اپنی تاریخ کی اہم ترین مالی کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔

لیسکو کے مطابق یہ کامیابی مربوط منصوبہ بندی، سخت مالی نگرانی، ریکوری میں بہتری اور انتظامی اصلاحات کا براہِ راست نتیجہ ہے۔

آڈٹ شدہ اعداد و شمار کی وضاحت

پریس ریلیز میں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی کہ مالی سال 2021-22 اور 2022-23 سے متعلق گردشی قرضے کے بعض اعداد و شمار ابتدائی اور عبوری نوعیت کے تھے۔

کمپنی کے مطابق بعد ازاں آڈٹ شدہ مالیاتی حسابات کی روشنی میں ان اعداد و شمار پر نظرثانی کی گئی، جس کے بعد موجودہ اعداد و شمار کو حتمی تصور کیا جا رہا ہے۔

لیسکو نے کہا کہ کمپنی اپنے تمام مالیاتی معاملات میں شفافیت، احتساب اور درست رپورٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

اصلاحاتی اقدامات کا دائرہ کار

لیسکو کے مطابق گردشی قرضے میں کمی کسی ایک اقدام کا نتیجہ نہیں بلکہ متعدد انتظامی اور آپریشنل اصلاحات کی مشترکہ کامیابی ہے۔

ان اقدامات میں نمایاں طور پر شامل ہیں:

  • بجلی چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی۔
  • اوور بلنگ کے خاتمے کے لیے سخت نگرانی۔
  • لائن لاسز میں کمی کے لیے جدید تکنیکی اقدامات۔
  • ریکوری کے نظام کو مزید مؤثر بنانا۔
  • مالی نظم و ضبط پر سختی سے عملدرآمد۔
  • گورننس اور داخلی احتساب میں بہتری۔
  • صارفین کی شکایات کے بروقت ازالے کے لیے مؤثر نظام۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ان اقدامات نے نہ صرف مالی استحکام پیدا کیا بلکہ صارفین کے اعتماد میں بھی اضافہ کیا۔

وزارتِ توانائی اور بورڈ کا کردار

لیسکو نے اپنی کامیابی کا سہرا وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن)، بورڈ آف ڈائریکٹرز اور کمپنی کی انتظامیہ کے باہمی تعاون کو بھی دیا۔

پریس ریلیز کے مطابق وزارتِ توانائی کی رہنمائی، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی مؤثر نگرانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر محمد رمضان بٹ کی قیادت میں نافذ کیے گئے اصلاحاتی پروگراموں نے کمپنی کی مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری پیدا کی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پالیسی سازی، نگرانی اور مؤثر فیصلہ سازی کے امتزاج نے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

آئندہ تین برسوں کا منصوبہ

لیسکو نے مستقبل کے لیے بھی ایک جامع اصلاحاتی منصوبہ تیار کر لیا ہے۔

کمپنی کے مطابق مالی سال 2026-27 سے 2028-29 تک کے لیے ایک طویل المدتی حکمتِ عملی مرتب کی گئی ہے، جس کے تحت گردشی قرضے کو مزید کم کرتے ہوئے 150 ارب روپے سے نیچے لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اس منصوبے میں درج ذیل شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی:

  • بجلی چوری کا مزید مؤثر خاتمہ۔
  • جدید میٹرنگ اور ڈیجیٹل نگرانی۔
  • ریکوری کی شرح کو مزید بہتر بنانا۔
  • لائن لاسز میں مزید کمی۔
  • انفراسٹرکچر کی بہتری۔
  • صارفین کو جدید اور معیاری خدمات کی فراہمی۔
  • شفافیت اور احتساب کے نظام کو مزید مضبوط بنانا۔

صارفین کو بہتر سہولیات کی فراہمی

چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر محمد رمضان بٹ نے کہا کہ لیسکو صرف مالی اشاریوں کو بہتر بنانے پر ہی توجہ نہیں دے رہی بلکہ صارفین کو معیاری، قابلِ اعتماد اور بروقت بجلی کی فراہمی بھی کمپنی کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ شکایات کے ازالے، بلنگ کے نظام میں شفافیت، بجلی کی بلا تعطل فراہمی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے صارفین کا اعتماد مزید مضبوط بنانے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔

قومی بجلی کے شعبے میں کردار

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لیسکو مستقبل میں بھی لائن لاسز میں مزید کمی، بجلی چوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، مالی نظم و ضبط، مؤثر گورننس، شفافیت اور احتساب کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے قومی بجلی کے شعبے کی بہتری میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کا مقصد صرف اپنی مالی کارکردگی بہتر بنانا نہیں بلکہ پورے توانائی کے شعبے کو زیادہ مستحکم، پائیدار اور عوام دوست بنانے میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔

توانائی کے شعبے کے لیے مثبت اشارہ

توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق اگر تقسیم کار کمپنیوں میں مالی نظم و ضبط، مؤثر انتظام، بجلی چوری کے خاتمے اور وصولیوں کے نظام میں اسی نوعیت کی بہتری برقرار رہی تو اس سے نہ صرف گردشی قرضے میں مزید کمی لائی جا سکے گی بلکہ قومی معیشت پر توانائی کے شعبے کا مالی بوجھ بھی کم ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی بہتر کارکردگی سے سرمایہ کاری کے ماحول، صارفین کے اعتماد اور بجلی کی فراہمی کے نظام میں بھی مثبت تبدیلیاں متوقع ہیں، جو مجموعی طور پر پاکستان کے توانائی کے شعبے کے استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button