
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
بلوچستان کے ضلع زیارت میں پولیس چیک پوسٹ پر بزدلانہ حملے کے بعد پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور بھارت کی فنڈڈ کٹھ پتلی تنظیموں (فتنہ الہندوستان/بی ایل اے) کے خلاف اس انسدادِ دہشت گردی آپریشن میں اب تک 38 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے، جبکہ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ "کھیل ابھی شروع ہوا ہے” اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ آپریشن جاری رہے گا۔
زیارت واقعہ اور سیکیورٹی فورسز کا فوری جواب
تفصیلات کے مطابق، دہشت گردوں نے زیارت میں ایک ڈیم کی حفاظت پر مامور پولیس چیک پوسٹ پر کثیر الجہتی (Multidirectional) حملہ کیا تھا۔ فرض شناس پولیس اہلکاروں نے بہادری سے لڑتے ہوئے موقع پر ہی کئی حملہ آوروں کو ڈھیر کر دیا، تاہم اس جھڑپ میں 9 پولیس اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے۔
حملے کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج، فرنٹیر کونسٹیبلری (FC) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تازہ دم دستے فوری طور پر زیارت کے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں پہنچے اور پورے علاقے کو محاصرے میں لے لیا۔
آپریشن کے اب تک کے نتائج:
ہلاک دہشت گرد: زیارت، خاران اور دالبندین کے علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کے دوران مجموعی طور پر 38 سے زائد سفاک دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔
اسلحہ کی برآمدگی: ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید ترین خودکار اسلحہ، دستی بم، خودکش جیکٹس اور مواصلاتی آلات برآمد ہوئے ہیں۔
افغانستان میں بیٹھے ہینڈلرز کے خلاف بڑے ‘انتقامی آپریشن’ کی تیاری
انتہائی معتبر سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، سرحد پار افغانستان میں پناہ گزین ان دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈز اور ہینڈلرز کے خلاف ایک وسیع پیمانے پر "Retaliatory Operation” (انتقامی آپریشن) کی مکمل منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔
سیکیورٹی حکام کا اہم بیان: "تمام دہشت گرد اور ان کے سہولت کار اپنی سیٹ بیلٹ باندھ لیں، کیونکہ آنے والے دنوں میں ان پر عبرت ناک تباہی نازل ہونے والی ہے۔ ہم مادرِ وطن کے ایک ایک شہید کے خون کا حساب لیں گے، چاہے اس کے لیے ہمیں سرحد پار جا کر ان کے محفوظ ٹھکانوں کو ہی کیوں نہ نشانہ بنانا پڑے۔”
فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا گٹھ جوڑ بے نقاب
پاکستانی انٹیلی جنس اداروں نے واضح کیا ہے کہ فتنہ الخوارج (TTP) اور قوم پرست دہشت گرد تنظیمیں (BLA وغیرہ) دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں جنہیں سرحد پار سے ‘فتنہ الہندوستان’ (را اور دیگر دشمن ایجنسیاں) فنڈنگ اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کر رہا ہے۔ ان کا مقصد سی پیک (CPEC) اور بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے مطابق، بلوچستان کے عوام سیکیورٹی فورسز کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں، اور دہشت گردوں کو چھپنے کے لیے اب کوئی جگہ نہیں ملے گی۔ صوبے بھر میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشنز انتہائی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔



