صحتاہم خبریں

پاکستان میں ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز پر تشویش

بڑے شہروں میں ہر ماہ 35 سے 40 نئے مریض سامنے آنے کا انکشاف، حکومت نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

اسلام آباد: پاکستان میں ایڈز کا سبب بننے والے وائرس ہیومن امیونو ڈیفیشنسی وائرس (HIV) کے بڑھتے ہوئے کیسز نے صحت کے شعبے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کے بڑے شہروں، جن میں اسلام آباد، کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور اور دیگر شہری مراکز شامل ہیں، میں ہر ماہ 35 سے 40 نئے ایچ آئی وی کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے ملک میں ایچ آئی وی کی صورتحال کو "انتہائی تشویشناک” قرار دیا اور خبردار کیا کہ رجسٹرڈ کیسز کی تعداد اصل صورتحال کی مکمل عکاسی نہیں کرتی کیونکہ بڑی تعداد میں افراد سماجی بدنامی، خوف اور آگاہی کی کمی کے باعث اپنا ٹیسٹ ہی نہیں کرواتے۔

اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے

سید مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ہر ماہ سامنے آنے والے 35 سے 40 کیسز صرف ان افراد کے ہیں جو علامات ظاہر ہونے کے بعد طبی معائنہ کرواتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماہرین کے مطابق حقیقی متاثرہ افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سے لوگ معاشرتی دباؤ، شرمندگی، امتیازی رویوں اور بدنامی کے خوف سے اپنی بیماری چھپاتے ہیں یا ٹیسٹ کروانے سے گریز کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو مریض نہ صرف اپنی صحت کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ وائرس کی منتقلی کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔

نوجوانوں میں نائٹ پارٹیز اور منشیات کے استعمال پر تشویش

وفاقی وزیر صحت نے پہلی مرتبہ پارلیمانی سطح پر اس بات کا انکشاف کیا کہ ملک کے بڑے شہروں میں نوجوانوں کے درمیان بڑھتا ہوا نائٹ پارٹیز کا کلچر ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی ایک نئی اور سنگین وجہ بن رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان محفلوں میں "آئس” (کرسٹل میتھ) سمیت مختلف خطرناک منشیات استعمال کی جا رہی ہیں، جن کے زیر اثر بعض نوجوان غیر محفوظ جنسی سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں، جس سے ایچ آئی وی سمیت دیگر جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

وزیر صحت نے کہا کہ یہ صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی، اخلاقی اور عوامی صحت کا بحران بنتا جا رہا ہے۔

والدین سے خصوصی اپیل

سید مصطفیٰ کمال نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے نوجوان بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ والدین کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے بچے رات گئے کہاں جاتے ہیں، کن لوگوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں اور کس قسم کی سرگرمیوں میں شریک ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق صرف حکومتی ادارے اس مسئلے پر قابو نہیں پا سکتے بلکہ خاندان، تعلیمی ادارے، مذہبی و سماجی تنظیمیں اور میڈیا سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

روایتی وجوہات اب بھی موجود

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ اگرچہ نئے سماجی رجحانات خطرہ بڑھا رہے ہیں، تاہم پاکستان میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی روایتی وجوہات اب بھی بڑی حد تک برقرار ہیں۔

ان میں شامل ہیں:

  • استعمال شدہ سرنجز کا دوبارہ استعمال
  • غیر جراثیم کش طبی آلات
  • غیر محفوظ طریقے سے خون کی منتقلی
  • منشیات کے عادی افراد میں ایک ہی سرنج کا بار بار استعمال
  • غیر تربیت یافتہ عطائی ڈاکٹروں کی جانب سے غیر محفوظ طبی طریقہ کار
  • جنسی ورکرز کے ذریعے وائرس کی منتقلی

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان عوامل نے گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو تیز کیا ہے۔

حکومت کے ہنگامی اقدامات

وفاقی وزیر صحت نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے چند روز قبل ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا، جس میں وزارت صحت، صوبائی حکومتوں، نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام اور دیگر متعلقہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

آٹو ڈس ایبل سرنجز لازمی قرار دینے کا فیصلہ

حکومت کی نئی پالیسی کے تحت ملک بھر کے سرکاری اور نجی اسپتالوں، کلینکس اور طبی مراکز میں عام سرنجز کے استعمال کو مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق اب صرف آٹو ڈس ایبل (Auto Disable) سرنجز کے استعمال کو لازمی بنایا جائے گا۔

یہ ایسی سرنجز ہوتی ہیں جو ایک مرتبہ استعمال ہونے کے بعد دوبارہ استعمال نہیں کی جا سکتیں، جس سے ایک ہی سرنج کو متعدد مریضوں پر استعمال کرنے کی خطرناک روایت ختم ہونے کی توقع ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سرنج مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن ہوگی۔

اتائیت کے خلاف کریک ڈاؤن

وفاقی حکومت نے صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشنز کے تعاون سے عطائی ڈاکٹروں کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر صحت نے بتایا کہ غیر رجسٹرڈ کلینکس، غیر معیاری لیبارٹریوں اور غیر قانونی طبی مراکز کی نگرانی مزید سخت کی جائے گی تاکہ غیر محفوظ طبی طریقوں کو روکا جا سکے۔

پاکستان میں ایچ آئی وی کی صورتحال

پاکستان اس وقت ایشیا کے ان چند ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں ایچ آئی وی کے کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق ملک میں ہزاروں رجسٹرڈ مریض موجود ہیں، جن میں سے بڑی تعداد اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (ART) کے ذریعے علاج حاصل کر رہی ہے۔

تاہم صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل متاثرہ افراد کی تعداد رجسٹرڈ کیسز سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سے لوگ بیماری سے لاعلم ہوتے ہیں یا سماجی دباؤ کی وجہ سے ٹیسٹ نہیں کرواتے۔

ماضی کے بڑے ایچ آئی وی سکینڈلز

پاکستان میں ماضی میں بھی استعمال شدہ سرنجوں اور غیر محفوظ طبی طریقہ کار کے باعث متعدد بڑے ایچ آئی وی سکینڈلز سامنے آ چکے ہیں۔

خصوصاً سندھ کے بعض اضلاع اور پنجاب کے کچھ علاقوں میں سینکڑوں بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص نے ملک کے صحت کے نظام پر سنگین سوالات اٹھائے تھے۔

ان واقعات نے محفوظ سرنجوں، جراثیم سے پاک طبی آلات اور مؤثر نگرانی کی ضرورت کو مزید اجاگر کیا۔

آگاہی کی ضرورت

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی ایک قابلِ انتظام بیماری ہے، بشرطیکہ بروقت تشخیص، مناسب علاج اور احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔

انہوں نے زور دیا کہ:

  • عوام میں سائنسی بنیادوں پر آگاہی مہم چلائی جائے۔
  • ایچ آئی وی سے متعلق غلط فہمیوں اور سماجی بدنامی کا خاتمہ کیا جائے۔
  • محفوظ طبی طریقہ کار کو یقینی بنایا جائے۔
  • خون کی منتقلی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
  • نوجوانوں کو صحت، منشیات کے نقصانات اور ذمہ دارانہ رویوں سے متعلق تعلیم دی جائے۔

قومی سطح پر مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت

صحت عامہ کے ماہرین کے مطابق ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی، تعلیمی اور انتظامی چیلنج بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں، طبی ادارے، تعلیمی مراکز، مذہبی و سماجی تنظیمیں اور میڈیا مشترکہ طور پر آگاہی، بروقت تشخیص، محفوظ طبی طریقوں اور مؤثر علاج پر توجہ دیں تو وائرس کے پھیلاؤ کو نمایاں حد تک روکا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بروقت پالیسی سازی، مؤثر نگرانی، جدید طبی سہولیات اور عوامی شعور ہی پاکستان کو ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے خطرے سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button