پاکستاناہم خبریں

کراچی میں سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، کالعدم لشکر جھنگوی کے انتہائی مطلوب دو دہشت گرد گرفتار، کراچی میں سلیپر سیل دوبارہ فعال کرنے کی کوشش ناکام

سی ٹی ڈی کے مطابق محمد جمیل انصاری عرف شعیب عرف چاچا کالعدم لشکر جھنگوی کے نعیم بخاری گروپ کا انتہائی اہم رکن ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

کراچی: محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کراچی نے انٹیلی جنس اطلاعات اور جدید ٹیکنیکل نگرانی کی بنیاد پر ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی کے ایک خطرناک سلیپر سیل کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کارروائی کے دوران تنظیم کے دو انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا، جو گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھے اور مبینہ طور پر کراچی میں دوبارہ دہشت گرد نیٹ ورک منظم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق گرفتار ملزمان عطاء الرحمان عرف نعیم بخاری گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے خلاف کراچی میں متعدد دہشت گرد حملوں، آئی ای ڈی دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی دیگر سنگین کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔

ریڈ بک میں شامل انتہائی مطلوب دہشت گرد گرفتار

سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار دونوں ملزمان محکمہ کی ریڈ بک (RED BOOK) ایڈیشن نمبر 10 میں شامل انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست کا حصہ تھے اور 2015-2016 سے مسلسل روپوش تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ انٹیلی جنس اطلاعات سے معلوم ہوا تھا کہ دونوں دہشت گرد کراچی میں دوبارہ اپنا سلیپر سیل منظم کر رہے ہیں، نئے سہولت کاروں سے رابطے استوار کیے جا رہے تھے اور مستقبل میں دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی، جس پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

گرفتار ملزمان کی شناخت

سی ٹی ڈی نے گرفتار ملزمان کی شناخت درج ذیل ناموں سے ظاہر کی ہے:

  • محمد جمیل انصاری عرف شعیب عرف چاچا ولد علی محمد انصاری
  • حماد علی انصاری عرف ذرار عرف ببلو ولد محمد جمیل انصاری

افغانستان میں بم سازی کی تربیت لینے کا الزام

سی ٹی ڈی کے مطابق محمد جمیل انصاری عرف شعیب عرف چاچا کالعدم لشکر جھنگوی کے نعیم بخاری گروپ کا انتہائی اہم رکن ہے۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے افغانستان میں آئی ای ڈی (Improvised Explosive Device) اور دھماکہ خیز سرکٹس تیار کرنے کی خصوصی تربیت حاصل کی تھی اور کراچی میں مختلف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے دھماکہ خیز مواد، بم سازی اور لاجسٹک معاونت فراہم کرتا تھا۔

تحقیقاتی حکام کے مطابق وہ گروپ کے سربراہ نعیم بخاری کا انتہائی قریبی ساتھی تھا اور نعیم بخاری کی گرفتاری کے بعد روپوش ہو گیا تھا۔

دوسرے ملزم کے مبینہ روابط

سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار دوسرا ملزم حماد علی انصاری عرف ذرار عرف ببلو متعدد مطلوب دہشت گردوں کا قریبی ساتھی رہا ہے۔

حکام کے مطابق اس کے روابط دلدار عرف چاچا، عمران بھٹی، اسحاق بوبی اور عاصم کیپری جیسے دہشت گردوں سے رہے، جن پر ماضی میں کراچی میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔

سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ حماد علی انصاری ایف آئی آر نمبر 38/2017 میں بھی مفرور اور مطلوب تھا۔

متعدد ہائی پروفائل دہشت گرد حملوں میں مطلوب

تحقیقاتی حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کراچی میں ہونے والی کئی بڑی دہشت گرد کارروائیوں میں مطلوب تھے، جن میں شامل ہیں:

کورنگی میں رینجرز موبائل پر آئی ای ڈی حملہ

سال 2013 میں کورنگی نمبر 5 میں رینجرز کی موبائل کو آئی ای ڈی دھماکے سے نشانہ بنایا گیا تھا، جس کا مقدمہ ایف آئی آر نمبر 152/2013 تھانہ عوامی کالونی میں درج کیا گیا۔

کراچی ایئرپورٹ حملہ

ملزمان پر جون 2014 میں کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں بھی مطلوب ہونے کا الزام ہے، جس کا مقدمہ ایف آئی آر نمبر 87/2014 تھانہ ایئرپورٹ میں درج ہے۔

آر آر ایف ٹرک پر بم حملہ

سی ٹی ڈی کے مطابق سال 2015 میں ریپڈ رسپانس فورس (RRF) کے ٹرک پر موٹر سائیکل کے ذریعے کیے گئے آئی ای ڈی حملے میں بھی ملزمان مطلوب تھے، جس کا مقدمہ ایف آئی آر نمبر 296/2014 تھانہ ابراہیم حیدری میں درج ہے۔

ٹارگٹ کلنگ میں مبینہ کردار

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق نعیم بخاری نے سرکاری افسران، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کے لیے ایک خصوصی بیگ تیار کروایا تھا۔

تحقیقات کے مطابق اس بیگ کی خاصیت یہ تھی کہ فائرنگ کے دوران پسٹل سے نکلنے والے خول بیگ کے اندر ہی محفوظ رہتے تھے تاکہ جائے وقوعہ سے شواہد نہ مل سکیں۔

سی ٹی ڈی کا دعویٰ ہے کہ اسی طرز کے بیگ کو استعمال کرتے ہوئے معروف قوال امجد صابری اور صدر کراچی کے پارکنگ پلازہ کے قریب ایک ملٹری پولیس اہلکار کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ برآمد

سی ٹی ڈی نے کارروائی کے دوران گرفتار ملزمان کے قبضے سے بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد اور دہشت گردی میں استعمال ہونے والا سامان برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

برآمد ہونے والے سامان میں شامل ہیں:

  • چار عدد بارودی مواد (سلیب)
  • پانچ ڈیٹونیٹر
  • دس میٹر پرائما کارڈ
  • ریموٹ کنٹرول ڈیوائس
  • پانچ عدد پسٹل کیچر (کارٹریج کیسنگ کیچر)

حکام کے مطابق برآمد شدہ سامان کو فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

نئے مقدمات درج

سی ٹی ڈی نے گرفتار ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی اور دھماکہ خیز مواد سے متعلق قوانین کے تحت نئے مقدمات درج کر لیے ہیں۔

حکام کے مطابق درج مقدمات میں شامل ہیں:

  • مقدمہ نمبر 60/2026
  • مقدمہ نمبر 61/2026

دونوں مقدمات ایکسپلوسیو سبسٹینس ایکٹ 1908 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی متعلقہ دفعات کے تحت سی ٹی ڈی تھانے کراچی میں درج کیے گئے ہیں۔

مزید تفتیش جاری

سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان سے تفصیلی تفتیش جاری ہے تاکہ ان کے دیگر ساتھیوں، سہولت کاروں، مالی معاونین اور کراچی میں موجود ممکنہ سلیپر سیلز تک رسائی حاصل کی جا سکے۔

اس مقصد کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، جبکہ ملزمان کے انکشافات کی روشنی میں شہر کے مختلف علاقوں میں مزید کارروائیوں کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری

سی ٹی ڈی کے مطابق کراچی میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر میں کسی بھی دہشت گرد تنظیم کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع نہیں دیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر آئندہ چند روز میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں، جبکہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور مالی معاونت فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف بھی کارروائی کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔

نوٹ: یہ خبر سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی دعووں اور سرکاری مؤقف پر مبنی ہے۔ مقدمات کی حتمی حقیقت اور ملزمان پر عائد الزامات کا فیصلہ عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button