
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاک بحریہ (پاکستان نیوی) اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (PMSA) نے ایک بروقت، مربوط اور کامیاب سمندری ریسکیو آپریشن کے دوران بلوچستان کے ساحلی علاقے اورماڑہ کے مشرق میں شدید خراب موسمی حالات کے باعث ڈوبنے والے ایک کارگو ڈھو (روایتی مال بردار کشتی) میں سوار تمام 20 پاکستانی عملے کے ارکان کو بحفاظت بچا لیا۔
ریسکیو آپریشن کو سمندر میں انسانی جانوں کے تحفظ کے حوالے سے پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ مہارت، فوری ردعمل اور مؤثر رابطہ کاری کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
ہنگامی کال موصول ہوتے ہی ریسکیو آپریشن شروع
پاک بحریہ کے مطابق واقعے کی اطلاع جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈینیشن سینٹر (JMICC) کو ایک ہنگامی کال کے ذریعے موصول ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ اورماڑہ کے مشرق میں ایک پاکستانی کارگو ڈھو شدید سیلابی لہروں اور خراب موسم کے باعث ڈوبنے کے خطرے سے دوچار ہے۔
اطلاع ملتے ہی صورتحال کا فوری جائزہ لیا گیا اور ریسکیو کارروائی کے لیے پاک بحریہ کے جنگی جہاز پی این ایس حنین (PNS Hunain) کو فوری طور پر متاثرہ مقام کی جانب روانہ کر دیا گیا۔
اس کے ساتھ ہی فضائی نگرانی اور امدادی کارروائیوں کے لیے بحریہ کے فضائی اثاثے بھی متحرک کیے گئے تاکہ ریسکیو آپریشن کو تیز، مؤثر اور محفوظ بنایا جا سکے۔
خراب موسم اور بلند لہروں کے باوجود کامیاب کارروائی
ذرائع کے مطابق حادثے کے وقت سمندر میں موسم انتہائی خراب تھا اور تیز ہواؤں کے ساتھ بلند لہریں کارگو ڈھو کے لیے خطرہ بن چکی تھیں۔
ڈھو میں پانی بھرنے کے باعث کشتی کے ڈوبنے کا خطرہ بڑھ گیا تھا جبکہ عملے کے ارکان زندگی بچانے کے لیے مدد کے منتظر تھے۔
ریسکیو ٹیموں نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرہ کشتی تک رسائی حاصل کی اور مرحلہ وار تمام 20 افراد کو بحفاظت جہاز سے نکال لیا۔
تمام ملاح محفوظ، طبی امداد فراہم
پاک بحریہ کے مطابق ریسکیو کیے گئے تمام 20 پاکستانی ملاح محفوظ ہیں اور انہیں فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔
طبی عملے نے تمام افراد کا معائنہ کیا جبکہ ضرورت کے مطابق مزید طبی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
حکام کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جو اس آپریشن کی بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔
پاک بحریہ اور میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کا مشترکہ آپریشن
اس ریسکیو مشن میں پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (PMSA) نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔
دونوں اداروں کے درمیان مربوط رابطے، فوری فیصلوں اور جدید سمندری نگرانی کے نظام نے آپریشن کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
بحری ماہرین کے مطابق ایسے مشترکہ آپریشن اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کے بحری سیکیورٹی ادارے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔
انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح
پاک بحریہ کے ترجمان کے مطابق سمندر میں انسانی جانوں کا تحفظ، محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا اور کسی بھی بحری ہنگامی صورتحال میں فوری امداد فراہم کرنا بحریہ کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک بحریہ نہ صرف ملکی بحری سرحدوں کا دفاع کرتی ہے بلکہ قومی اور بین الاقوامی سمندری قوانین کے تحت سرچ اینڈ ریسکیو (Search and Rescue) کی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں انجام دیتی ہے۔
جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈینیشن سینٹر کا کردار
بحری ذرائع کے مطابق جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈینیشن سینٹر پاکستان کے سمندری علاقوں میں ہنگامی اطلاعات، جہاز رانی کی نگرانی، بحری سیکیورٹی اور ریسکیو آپریشنز میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
یہ ادارہ مختلف بحری اداروں کے درمیان فوری رابطہ، معلومات کے تبادلے اور مشترکہ کارروائیوں کو یقینی بناتا ہے، جس سے ہنگامی حالات میں بروقت ردعمل ممکن ہو جاتا ہے۔
پاکستان کی ساحلی حدود میں مسلسل نگرانی
پاکستان کے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحلی علاقے میں روزانہ بڑی تعداد میں تجارتی جہاز، ماہی گیر کشتیاں اور دیگر بحری سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔
اسی لیے پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی چوبیس گھنٹے ساحلی علاقوں، تجارتی بحری راستوں اور کھلے سمندر کی مسلسل نگرانی کرتی ہیں تاکہ کسی بھی حادثے، غیر قانونی سرگرمی یا ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی جا سکے۔
ماہرین کی رائے
بحری امور کے ماہرین کے مطابق سمندر میں خراب موسم، بلند لہریں، تیز ہوائیں اور تکنیکی خرابیاں اکثر چھوٹے بحری جہازوں اور کارگو ڈھوز کے لیے خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں جدید مواصلاتی نظام، بروقت ہنگامی سگنل اور تربیت یافتہ ریسکیو فورسز انسانی جانوں کے تحفظ میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔
کامیاب آپریشن پر اطمینان
ریسکیو آپریشن کی کامیابی کو ملکی بحری اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، مربوط حکمت عملی اور فوری ردعمل کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
پاک بحریہ نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی پاکستان کے سمندری حدود میں سفر کرنے والے تمام شہریوں، ماہی گیروں اور تجارتی جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر وقت تیار رہے گی اور کسی بھی بحری ہنگامی صورتحال میں فوری اور مؤثر امدادی کارروائیاں جاری رکھے گی۔



