
آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان یورینیم سپلائی کا تاریخی معاہدہ
جوہری توانائی، دفاعی تعاون اور معدنیات میں شراکت داری مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
By Voice of Germany Urdu News Team
کینبرا / میلبرن: بھارت اور آسٹریلیا نے دوطرفہ تعلقات کو ایک نئی بلندی پر پہنچاتے ہوئے جوہری توانائی، دفاع، خلائی تعاون اور اہم معدنیات کی سپلائی چین کے شعبوں میں کئی اہم معاہدوں کا اعلان کیا ہے۔ آسٹریلیا کے دورے پر موجود بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان یورینیم سپلائی کا اہم معاہدہ طے پا گیا ہے، جسے بھارت کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات اور صاف توانائی کے مستقبل کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک بھارت میں بجلی کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے اور حکومت آئندہ برسوں میں جوہری توانائی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
یورینیم سپلائی سے بھارت کے جوہری منصوبوں کو تقویت ملے گی
کینبرا میں آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جوہری توانائی کے شعبے میں ایک اہم معاہدہ طے پایا ہے۔
انہوں نے کہا:
"آج ہم نے جوہری توانائی کے حوالے سے ایک اہم معاہدہ کیا ہے، جو آسٹریلیا سے بھارت کو یورینیم کی مستقل فراہمی کی راہ ہموار کرے گا اور ہمارے صاف توانائی کے اہداف کو نئی رفتار دے گا۔”
مودی نے کہا کہ بھارت توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے، کاربن اخراج میں کمی لانے اور صنعتی ترقی کے لیے جوہری توانائی کو مستقبل کی اہم ضرورت سمجھتا ہے۔
آسٹریلیا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے یورینیم ذخائر
آسٹریلیا دنیا کے یورینیم کے سب سے بڑے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق دنیا کے تقریباً 28 فیصد یورینیم وسائل آسٹریلیا میں موجود ہیں، تاہم کئی برسوں تک سیاسی حساسیت، قانونی پابندیوں اور جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق خدشات کے باعث بھارت کو یورینیم کی برآمد محدود رہی۔
دونوں ممالک کے درمیان 2015 میں ہونے والے سول نیوکلیئر تعاون کے معاہدے نے پہلی مرتبہ آسٹریلیا سے بھارت کو یورینیم برآمد کرنے کا راستہ کھولا تھا، جبکہ حالیہ معاہدے سے اس تعاون کو مزید وسعت ملے گی۔
صرف پُرامن مقاصد کے لیے استعمال ہوگا
دونوں ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا سے برآمد ہونے والا یورینیم صرف پُرامن جوہری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
بیان کے مطابق:
- تمام برآمدات بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں ہوں گی۔
- یورینیم صرف سول نیوکلیئر ری ایکٹرز میں استعمال کیا جائے گا۔
- دونوں ممالک جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق عالمی اصولوں کی پابندی جاری رکھیں گے۔
آسٹریلیا کا مؤقف
آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا بھارت کے ساتھ اپنی اسٹریٹیجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورینیم کی فراہمی سے بھارت کو غیر فوسل فیول توانائی کے ذرائع بڑھانے میں مدد ملے گی جبکہ ماحولیاتی اہداف کے حصول میں بھی تعاون ملے گا۔
ان کے مطابق دونوں ممالک صاف توانائی، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے لیے مل کر کام کریں گے۔
دفاعی تعاون مزید مضبوط ہوگا
دورے کے دوران دونوں رہنماؤں نے دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا۔
بیان کے مطابق دونوں ممالک:
- مشترکہ فوجی مشقیں بڑھائیں گے۔
- بحری تعاون کو فروغ دیں گے۔
- بحر ہند میں سکیورٹی تعاون مضبوط کریں گے۔
- انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے میں اضافہ کریں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بحر ہند اور بحرالکاہل کے خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات کے تناظر میں اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
اہم معدنیات کی سپلائی چین پر بھی اتفاق
بھارت اور آسٹریلیا نے لیتھیم، کوبالٹ، نکل اور دیگر اہم معدنیات کی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
یہ معدنیات الیکٹرک گاڑیوں، بیٹریوں، سیمی کنڈکٹرز اور جدید ٹیکنالوجی کی صنعت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں۔
دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ان شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری اور تحقیق کو فروغ دیا جائے گا۔
خلائی شعبے میں نئی شراکت داری
مشترکہ اعلامیے کے مطابق آسٹریلیا کے کوکوس (کیلنگ) جزائر میں ایک عارضی اسپیس ٹریکنگ ٹرمینل قائم کیا جائے گا۔
یہ سہولت بھارت کے خلائی پروگرام، سیٹلائٹ مشنز اور مستقبل کی خلائی سرگرمیوں میں معاون ثابت ہوگی۔
ماہرین کے مطابق خلائی تعاون دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک شراکت داری کا ایک نیا باب ثابت ہو سکتا ہے۔
بھارت اور آسٹریلیا کے تعلقات کیوں مضبوط ہو رہے ہیں؟
سیاسی مبصرین کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں بھارت اور آسٹریلیا کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
اس کی چند اہم وجوہات میں شامل ہیں:
- بحرالکاہل اور بحر ہند میں اسٹریٹیجک تعاون
- چین کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ کے تناظر میں مشترکہ مفادات
- تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ
- دفاعی اور ٹیکنالوجی تعاون
- کواڈ (QUAD) جیسے علاقائی فورمز میں شراکت
آسٹریلیا میں بھارتی برادری کا بڑھتا اثر
مودی کے دورے کی ایک اہم وجہ آسٹریلیا میں تیزی سے بڑھتی ہوئی بھارتی نژاد آبادی بھی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پہلی مرتبہ آسٹریلیا میں بیرون ملک پیدا ہونے والے افراد میں بھارتی نژاد شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہو گئی ہے، جس نے کئی دہائیوں سے سرفہرست برطانوی نژاد آبادی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
آسٹریلیا انڈیا انسٹیٹیوٹ کی محقق ٹیستا پرکاش کے مطابق:
"2014 میں آسٹریلیا میں بھارتی کمیونٹی نسبتاً چھوٹی تھی، لیکن 2026 تک یہ ملک کی سب سے بڑی تارکین وطن برادری بن چکی ہے، جو ایک بڑی آبادیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔”
میلبرن میں بڑی کمیونٹی ریلی
دورے کے دوران وزیراعظم نریندر مودی میلبرن میں بھارتی نژاد کمیونٹی سے بھی خطاب کریں گے۔
منتظمین کے مطابق اس تقریب میں 20 ہزار سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے، جسے آسٹریلیا میں بھارتی برادری کی سب سے بڑی تقریبات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
احتجاج کی بھی تیاری
دوسری جانب مودی کے دورے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی بھی تیاریاں کی گئی ہیں۔
الائنس اگینسٹ اسلاموفوبیا نامی تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ ریلی کے مقام کے باہر مظاہرہ کرے گی تاکہ بھارت میں اقلیتوں کے حوالے سے اپنے تحفظات اجاگر کیے جا سکیں۔
اس کے علاوہ بعض اینٹی امیگریشن گروپس نے بھی ریلی سے قبل احتجاج کیا، جہاں مظاہرین نے "آسٹریلویوں کو پہلے رکھو” جیسے نعرے درج پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔
مستقبل کی شراکت داری
تجزیہ کاروں کے مطابق یورینیم سپلائی معاہدہ صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں بلکہ یہ بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان اسٹریٹیجک تعلقات، دفاعی تعاون، جدید ٹیکنالوجی، معدنیات، خلائی تحقیق اور علاقائی سلامتی میں بڑھتے ہوئے اشتراک کی علامت بھی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، دفاعی اور سفارتی تعاون مزید وسعت اختیار کر سکتا ہے، جس سے بحر ہند اور بحرالکاہل کے خطے میں طاقت کے توازن اور علاقائی تعاون کے نئے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔




