
اقوام متحدہ میں پاکستان کا عالمی پولیس تعاون پر زور، محسن نقوی نے دہشت گردی، سائبر کرائم اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کا مطالبہ کر دیا
بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان اعتماد، انٹیلی جنس شیئرنگ، جدید تربیت، تکنیکی معاونت اور مشترکہ آپریشنز کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے
مدثر احمد-امریکہ،وائس آف جرمنی اردو نیوز
نیویارک: پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی، انسانی اسمگلنگ، سائبر کرائم، منظم جرائم اور سرحد پار جرائم جیسے بڑھتے ہوئے عالمی خطرات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی پولیس تعاون کو مزید مؤثر، مربوط اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گرد تنظیمیں جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، انکرپٹڈ مواصلاتی نظام اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے فائدہ اٹھا رہی ہیں، اس لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی جدید ذرائع اور فوری معلومات کے تبادلے کے ذریعے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے یہ بات نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں منعقدہ اقوام متحدہ کے پولیس چیفس سمٹ (UNCOPS) سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس میں دنیا بھر سے پولیس سربراہان، وزرائے داخلہ، وزرائے انصاف، اعلیٰ حکومتی نمائندوں اور اقوام متحدہ کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ کانفرنس کا مقصد عالمی امن، قانون کی حکمرانی، پولیس اصلاحات، امن مشنز اور بین الاقوامی سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا۔
دہشت گردی اب کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ
محسن نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی، انتہا پسندی، منظم جرائم، منشیات کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ اور سائبر حملے ایسے خطرات ہیں جو کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہے بلکہ پوری دنیا کے امن اور استحکام کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے صرف قومی سطح کے اقدامات کافی نہیں بلکہ عالمی سطح پر مربوط تعاون، مشترکہ حکمت عملی اور بروقت معلومات کا تبادلہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان اعتماد، انٹیلی جنس شیئرنگ، جدید تربیت، تکنیکی معاونت اور مشترکہ آپریشنز کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں روکا جا سکے۔
پاکستان دہشت گردی کے خلاف صف اول کا ملک
وزیر داخلہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور مشکل جنگ لڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں بھی پاکستان دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے اور صرف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران چار دنوں میں 42 سکیورٹی اہلکار دہشت گرد حملوں میں شہید ہوئے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دہشت گردی اب بھی پاکستان کے لیے ایک سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے خلاف پوری قوت سے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور عالمی برادری سے توقع رکھتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کرے۔
جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ موجودہ دور میں جرائم پیشہ گروہ اور دہشت گرد جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اپنی کارروائیاں مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، سائبر ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل کرنسی، ڈارک ویب اور انکرپٹڈ کمیونیکیشن پلیٹ فارمز کے ذریعے ہونے والے جرائم سے نمٹنے کے لیے پولیس اداروں کو بھی جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ہوگا۔
انہوں نے تجویز دی کہ عالمی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل فرانزک، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جائے تاکہ مستقبل کے خطرات کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔
اطلاعات کے فوری تبادلے کی ضرورت
محسن نقوی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی اور منظم جرائم کے خلاف کامیابی اسی صورت ممکن ہے جب مختلف ممالک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک دوسرے کے ساتھ بروقت معلومات کا تبادلہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں سرحدوں کی پابند نہیں ہوتیں، اس لیے ان کے خلاف کارروائی بھی سرحدوں سے بالاتر ہو کر مشترکہ تعاون کے ذریعے کی جانی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر ایک ایسا مربوط نظام تشکیل دیا جانا چاہیے جس کے ذریعے حساس معلومات، انٹیلی جنس اور تکنیکی معاونت فوری طور پر متعلقہ ممالک تک پہنچ سکے۔
پاکستان کا مؤقف
وزیر داخلہ نے اس موقع پر پاکستان کے سکیورٹی خدشات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلسل دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بعض دہشت گرد عناصر کو بیرون ملک محفوظ پناہ گاہیں اور معاونت حاصل ہے، جس کے باعث خطے میں دہشت گردی کے واقعات جاری ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری کو بلاامتیاز اور غیرجانبدارانہ رویہ اپنانا ہوگا تاکہ ہر ملک کو یکساں تعاون اور انصاف مل سکے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات
کانفرنس کے موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں عالمی امن، اقوام متحدہ کے امن مشنز، دہشت گردی کے خلاف تعاون، بین الاقوامی سکیورٹی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافے اور دوطرفہ دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
محسن نقوی نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کی دیرینہ خدمات اور قربانیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کے نمایاں امن مشن شراکت دار ممالک میں شامل ہے اور عالمی امن و استحکام کے لیے اپنی ذمہ داریاں آئندہ بھی پوری کرتا رہے گا۔
پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا گیا
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران پاکستان کے حالیہ سفارتی کردار پر بھی گفتگو ہوئی۔ خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے، مذاکرات کی راہ ہموار کرنے اور مفاہمتی عمل میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا گیا۔ اس موقع پر علاقائی امن، مکالمے اور سفارت کاری کے فروغ میں پاکستان کے کردار کو مثبت قرار دیا گیا۔
عالمی تعاون ہی دیرپا امن کی ضمانت
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ دنیا کو درپیش نئے سکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ صرف مشترکہ عزم، باہمی اعتماد، جدید ٹیکنالوجی، معلومات کے فوری تبادلے اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی برادری متحد ہو کر کام کرے تو دہشت گردی، سائبر کرائم، انسانی اسمگلنگ اور دیگر بین الاقوامی جرائم کے خلاف مؤثر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان نہ صرف اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے بلکہ عالمی امن، قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں بھی اپنا فعال اور مثبت کردار جاری رکھے گا۔



