پاکستاناہم خبریں

آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات نے وفاقی اتحادیوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا، مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی

پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ ہوئی۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے 9 جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی نے 4 نشستیں حاصل کیں۔

رپورٹ وائس آف جرمنی اردو نیوز

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے غیر حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد پاکستان کی دو بڑی اتحادی جماعتوں، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی، کے درمیان سیاسی کشیدگی ایک مرتبہ پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ وفاق میں ایک ہی حکومتی بندوبست کا حصہ ہونے کے باوجود دونوں جماعتوں کے قائدین نے ایک دوسرے پر سخت سیاسی تنقید کرتے ہوئے انتخابی شفافیت، ریاستی کردار اور حکومتی کارکردگی سے متعلق سنگین الزامات اور جوابی بیانات دیے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق کشمیر کے انتخابات محض 13 نشستوں کا انتخابی معرکہ نہیں رہے بلکہ انہوں نے وفاقی سطح پر قائم سیاسی مفاہمت کو بھی نئی آزمائش سے دوچار کر دیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے حالیہ بیانات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ حکومت سازی کے لیے تعاون کے باوجود ان کی روایتی سیاسی رقابت برقرار ہے۔

پہلے مرحلے کے نتائج اور تنازع کا آغاز

آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات تین مرحلوں میں منعقد ہو رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ ہوئی۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے 9 جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی نے 4 نشستیں حاصل کیں۔

نتائج سامنے آنے کے بعد پیپلزپارٹی نے متعدد حلقوں میں انتخابی بے ضابطگیوں، پولنگ کے دوران تشدد، بعض مقامات پر انٹرنیٹ سروس کی بندش اور مبینہ ریاستی مداخلت پر اعتراضات اٹھائے، جبکہ مسلم لیگ (ن) نے نتائج کو عوامی مینڈیٹ قرار دیتے ہوئے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔

انتخابی مہم کے دوران ہی تلخی شروع ہو چکی تھی

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان موجودہ تنازع نتائج کے اعلان کے بعد نہیں بلکہ انتخابی مہم کے آخری ہفتے میں ہی شدت اختیار کر چکا تھا۔

21 جولائی کو مظفرآباد میں مسلم لیگ (ن) کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے ہلکے انداز میں کہا تھا کہ انہیں کشمیر سے اتنی محبت ہے کہ ان کا دل چاہتا ہے وہ کشمیر کے وزیراعظم بن جائیں۔

اگرچہ یہ بیان انتخابی جلسے میں ایک غیر رسمی جملہ سمجھا جا رہا تھا، تاہم اگلے ہی روز میرپور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ایک ایسے شخص کو کشمیر کا وزیراعظم بنانا چاہتی ہے جو پہلے ہی تین مرتبہ پاکستان کا وزیراعظم رہ چکا ہے۔

انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) کشمیر کے آئینی انتظام میں ایسی تبدیلی چاہتی ہے جس سے پاکستان کے وزیراعظم کو کشمیر کا وزیراعظم مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہو جائے۔

"یہ کشمیر ہے، کشمور نہیں”

24 جولائی کو میرپور میں مسلم لیگ (ن) کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے بلاول بھٹو کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا:

"بلاول برخوردار، یہ کشمیر ہے، کشمور نہیں، یہ میرپور ہے، میرپورخاص نہیں۔”

اس بیان کو سیاسی حلقوں میں پیپلزپارٹی کے سندھ میں سیاسی اثر و رسوخ پر طنز قرار دیا گیا۔

اسی جلسے میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں، جدید انفراسٹرکچر، الیکٹرک بسوں، موبائل ہسپتالوں اور پنجاب طرز کی ترقی کے وعدے بھی کیے۔

دوسری جانب پیپلزپارٹی نے ان اعلانات کو انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کشمیر الیکشن کمیشن سے رجوع کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری وسائل کے ذریعے ووٹرز کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو کا سخت مؤقف

پولنگ کے بعد مظفرآباد میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے انتخابی نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض پولنگ اسٹیشنوں پر حملے ہوئے، ووٹ چرانے کی کوشش کی گئی، انٹرنیٹ بند رکھا گیا اور انتخابی عمل کو شفاف نہیں رہنے دیا گیا۔

اپنی تقریر میں بلاول بھٹو نے کہا:

"ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ پاکستان کا قومی مفاد زیادہ اہم ہے یا مسلم لیگ (ن) کا سیاسی مفاد۔”

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی قومی مفاد میں ہمیشہ ریاست کے ساتھ کھڑی رہے گی، تاہم کسی سیاسی جماعت کے مفادات کے لیے ریاستی اداروں کے استعمال کی حمایت نہیں کرے گی۔

انہوں نے تین مرحلوں میں انتخابات کرانے کے فیصلے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس سے حکمران جماعت کو انتخابی فائدہ پہنچا۔

پیپلزپارٹی نے انتخابی تشدد، انٹرنیٹ بندش اور مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے آزاد انکوائری کمیشن قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

مریم نواز کا جوابی ردعمل

بلاول بھٹو کے بیان کے چند گھنٹوں بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ کشمیر کے عوام نے اپنا فیصلہ ووٹ کے ذریعے دیا ہے اور پیپلزپارٹی کو شکست کو کھلے دل سے قبول کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ:

"رونے دھونے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، پیپلزپارٹی کو اپنی شکست تسلیم کرنی چاہیے۔”

مریم نواز نے مزید کہا کہ جب گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی کامیاب ہوئی تھی تو مسلم لیگ (ن) نے نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے مبارکباد دی تھی، لہٰذا کشمیر میں شکست کے بعد انتخابی عمل پر سوال اٹھانا مناسب رویہ نہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیر میں انتخابات کے وقت مسلم لیگ (ن) کی حکومت موجود نہیں تھی، اس لیے انتخابی عمل پر حکومتی اثراندازی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔

بحث سندھ اور پنجاب کی کارکردگی تک پہنچ گئی

مریم نواز نے اپنے بیان میں پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کی 17 سالہ کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سندھ میں نمایاں ترقیاتی منصوبے موجود ہوتے تو پیپلزپارٹی انہیں کشمیر کی انتخابی مہم میں مثال کے طور پر پیش کرتی۔

بعد ازاں انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر بھی پیپلزپارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ:

"پیپلزپارٹی جو دھاندلی کی باریک واردات کی ماسٹر ہے، آج خود دھاندلی کا رونا رو رہی ہے۔”

دونوں جماعتوں کے رہنما بھی میدان میں آگئے

دونوں مرکزی رہنماؤں کے بیانات کے بعد دیگر سیاسی شخصیات نے بھی سخت ردعمل دیا۔

پیپلزپارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کشمیر کا مینڈیٹ چھیننے کی کوشش کر رہی ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر احسن اقبال نے بلاول بھٹو کے بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی شکست کے بعد ریاستی اداروں پر الزامات لگانا جمہوری روایت نہیں۔

2024 کے بعد ایک بار پھر پرانی سیاسی رقابت

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ فروری 2024 کے عام انتخابات میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے سخت مخالف تھیں۔

بعد ازاں کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت نہ ملنے کے باعث مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے حکومت سازی کے لیے تعاون کیا۔ شہباز شریف وزیراعظم منتخب ہوئے جبکہ آصف علی زرداری صدر مملکت بنے، اور پیپلزپارٹی نے وفاقی کابینہ میں شامل ہوئے بغیر حکومت کو پارلیمانی حمایت فراہم کی۔

اس اتحاد کے باوجود دریائے سندھ کے پانی، نہروں، سیلاب متاثرین، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر معاملات پر دونوں جماعتوں کے درمیان متعدد بار اختلافات سامنے آ چکے ہیں۔

سیاسی تجزیہ

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ لفظی جنگ اپنی نوعیت میں شدید ضرور ہے، تاہم اس کا فوری طور پر وفاقی اتحاد پر اثر پڑنے کا امکان کم دکھائی دیتا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں موجودہ سیاسی نظام میں ایک دوسرے کی پارلیمانی ضرورت بھی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کشمیر کے انتخابات نے دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان اعتماد کی خلیج کو نمایاں کیا ہے، تاہم مستقبل میں اعلیٰ سطحی سیاسی رابطوں کے ذریعے اس کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب، اگر الزامات اور جوابی بیانات کا سلسلہ مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف آزاد کشمیر کی سیاست بلکہ وفاقی حکومت کے سیاسی ماحول پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button