
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
راولاکوٹ: آزاد جموں و کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں پیش آنے والے پرتشدد واقعے میں ایک رینجرز اہلکار شہید ہو گیا، جبکہ سکیورٹی فورسز اور پولیس نے علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے کارروائیاں شروع کر دیں۔ حکام کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسلح افراد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم ہوا۔
رپورٹس کے مطابق راولاکوٹ کے متیال میرہ بس ٹرمینل کے قریب حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب بعض مسلح افراد اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ پولیس اور بعد ازاں معاونت کے لیے پہنچنے والی رینجرز پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک رینجرز اہلکار شہید ہوگیا۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق علاقے میں کشیدگی کے بعد پولیس امن و امان برقرار رکھنے کے لیے موقع پر پہنچی۔ بعد ازاں صورتحال مزید خراب ہونے پر رینجرز کی نفری بھی طلب کی گئی۔
حکام کے مطابق جیسے ہی سکیورٹی اہلکار علاقے میں پیش قدمی کر رہے تھے، ان پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔ جوابی کارروائی کے دوران ایک رینجرز اہلکار شدید زخمی ہوا، جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا۔
سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا تاکہ حملے میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جا سکے۔
شہری آبادی میں خوف و ہراس
عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے باعث متیال میرہ بس ٹرمینل اور ملحقہ علاقوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ دکانیں بند ہو گئیں جبکہ شہری محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو گئے۔
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں۔
حملے کے حوالے سے مختلف مؤقف
حکام کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے منسلک مسلح افراد اس حملے میں ملوث تھے۔
دفاعی اور سکیورٹی امور کے بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کسی گروہ کی جانب سے جدید اسلحہ اور منظم انداز میں ریاستی اداروں پر حملے کیے گئے ہوں تو ایسے واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک سنگین سکیورٹی چیلنج بن جاتے ہیں۔
ان کے مطابق ایسے واقعات کی مکمل تحقیقات، ذمہ دار عناصر کی نشاندہی اور قانون کے مطابق کارروائی ریاستی رٹ برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
تحقیقات کا آغاز
حکام کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ حملے میں ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں سرچ اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے گا۔
شہید اہلکار کو خراجِ عقیدت
سرکاری حکام نے شہید رینجرز اہلکار کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملکی امن و سلامتی کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے اہلکار قوم کے ہیرو ہیں۔
حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاستی اداروں پر حملوں اور امن خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو قانون کے مطابق ناکام بنایا جائے گا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔



