
رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان نے چین کی پشت پناہی اور حمایت سے ایک نیا ممکنہ راستہ تلاش کرنے کی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق، اس سلسلے میں ابتدائی اور غیراعلانیہ مشاورت کا آغاز ہو چکا ہے، جس کی تصدیق کم از کم تین مختلف باخبر سفارتی و حکومتی ذرائع نے کی ہے۔
ایران کے وزیرِ داخلہ کا دورۂ پاکستان اور اعلیٰ سطح پر ملاقاتیں
ذرائع کے مطابق اس سفارتی پیش رفت کا آغاز ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی کے حالیہ دورۂ اسلام آباد کے دوران ہوا۔ گذشتہ 10 روز کے اندر اندر سکندر مومنی کا یہ دوسرا دورۂ پاکستان تھا، جس میں انہوں نے پاکستانی حکومت کے اعلیٰ حکام کے علاوہ آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی اہم ملاقاتیں کیں۔

پاکستانی حکومتی بیانات میں ان دوروں اور ملاقاتوں کی باقاعدہ تصدیق کی گئی ہے، جن میں دو طرفہ سکیورٹی امور کے ساتھ ساتھ خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال اور امریکہ کے ساتھ تعطل کے شکار مذاکرات کو دوبارہ پٹڑی پر لانے کے امور زیرِ بحث لائے گئے۔
چین کا کردار اور بیجنگ کی تحفظات
یہ سفارتی متحرک کاری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے کے اندرونی حالات انتہائی پیچیدہ اور تشویشناک شکل اختیار کر چکے ہیں۔ رواں ہفتے ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان نے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ سعودی عرب نہ صرف پاکستان کا دیرینہ اور قریبی اتحادی ہے بلکہ گذشتہ برس دونوں برادر ممالک کے درمیان ایک اہم باہمی دفاعی معاہدہ بھی طے پایا تھا۔
پاکستانی حکام کے مطابق، چین مشرق وسطیٰ کی اہم تجارتی گزرگاہوں کی بحالی اور سلامتی کے لیے ایک فوری سفارتی حل کا خواہاں ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور خلیجی ممالک بالخصوص توانائی کے تنصیبات پر حملوں کی وجہ سے چین کے معاشی مفادات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گذشتہ ہفتے اپنے دورۂ چین کے دوران چینی حکام سے خصوصی ملاقات کی تھی جس میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ بحرانی صورت حال اور ممکنہ سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایک پاکستانی حکومتی عہدیدار کا کہنا ہے کہ چینی حکام اس صورت حال پر سخت ناخوش ہیں کیونکہ ایران کی طرف سے خلیجی ممالک پر حملے اور آبنائے ہرمز کی بندش براہ راست ان کی معیشت اور تجارت کو متاثر کر رہی ہے۔ مزید برآں، بحیرہ احمر کے راستوں میں رکاوٹیں بھی چین کی بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔
دوسری جانب، چین کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں واضح کیا ہے کہ "چین پاکستان اور دیگر تمام فریقین کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے”۔ بیجنگ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ خلیجی خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی جلد از جلد بحالی کے لیے اپنا فعال اور مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ واضح رہے کہ چین اس سے قبل بھی پاکستان کی سفارتی کاوشوں کی پشت پناہی کرتا رہا ہے اور اس سلسلے میں مارچ کے مہینے میں اس نے اپنے خصوصی ایلچی کو مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک کے دورے پر بھی روانہ کیا تھا۔
ماضی کی کوششیں اور موجودہ زمینی حقائق
یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ماہِ جون میں ایک عبوری مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں فریقین کے درمیان ایک مستقل اور جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دن کی مذاکراتی مدت مقرر کی گئی تھی۔
تاہم، بدقسمتی سے یہ بالواسطہ مذاکرات کسی بھی عملی پیش رفت سے محروم رہے اور دونوںممالک نے ایک دوسرے پر معاہدے کی پاسداری نہ کرنے اور اس کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے، جس کے نتیجے میں ایک بار پھر تنازع نے شدت اختیار کر لی۔ جمعرات کے روز یمنی حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کے دعوے نے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے اس اہم ترین روٹ کو مزید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، جس سے سفارتی راہ تلاش کرنے کی کوششیں اور زیادہ دشوار ہو گئی ہیں۔
مذاکرات کی بحالی کی بنیادی شرط
تمام تر سفارتی سرگرمیوں کے باوجود، تمام متعلقہ ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ واشنگتن اور تہران کے درمیان براہ راست یا بلاتعطل مذاکرات کی راہ میں اب بھی بہت بڑے اور پیچیدہ سیاسی چیلنجز حائل ہیں۔
ایک ذمے دار پاکستانی حکومتی عہدیدار نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ:
"سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر حملوں کا مکمل خاتمہ ہی امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی نئے مذاکرات کی بحالی کے لیے پہلی اور بنیادی شرط ہوگی۔”
عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے اپنا یہ دوٹوک مؤقف اور خطے کے زمینی حقائق ایرانی حکام تک بھی پہنچا دیے ہیں، تاکہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کے لیے سفارتی ڈیڈلاک کو توڑا جا سکے۔ اس معاملے پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے فی الوقت کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔




