
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
نوشکی: بلوچستان کے ضلع نوشکی میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خدشات اور حساس تنصیبات کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر حکومت بلوچستان نے ضلع بھر میں تین روز کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد شہریوں کے جان و مال کا تحفظ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مؤثر کارروائی کا موقع فراہم کرنا اور ممکنہ دہشت گرد حملوں کو روکنا بتایا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق کرفیو 28 جولائی کی رات 8 بجے سے 31 جولائی کی رات 8 بجے تک ضلع نوشکی کی تمام حدود میں نافذ رہے گا۔ اس دوران بغیر اجازت کسی بھی شہری کو گھر سے باہر نکلنے یا ضلع کے اندر نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ ہر قسم کے عوامی اجتماعات، سیاسی سرگرمیوں، جلوسوں اور غیر ضروری سفر پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔
سکیورٹی خدشات اور کرفیو کی وجوہات
حکام کے مطابق ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی جانب سے حکومت کو پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 28 جولائی کو نوشکی کے ویسٹرن بائی پاس پر فرنٹیئر کور (ایف سی) کی ایک چوکی پر دہشت گرد حملہ کیا گیا، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وسیع پیمانے پر سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔ اس کارروائی کے دوران علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال مزید حساس ہو گئی، جس کے باعث شہریوں کی حفاظت اور آپریشن کی کامیابی کے لیے کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
انٹیلی جنس رپورٹس میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ضلع نوشکی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں دہشت گرد عناصر دوبارہ حملوں کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اگست کے مہینے میں بھی حساس سرکاری تنصیبات، قانون نافذ کرنے والے اداروں، قومی شاہراہوں اور اہم حکومتی مقامات کو نشانہ بنانے کے خدشات موجود ہیں، جس کے پیشِ نظر سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
قومی شاہراہ این-40 بھی خطرات کی زد میں
نوٹیفکیشن کے مطابق دہشت گردی کے ممکنہ خطرات صرف سرکاری دفاتر یا سکیورٹی فورسز تک محدود نہیں بلکہ قومی شاہراہ این-40 کو بھی ممکنہ ہدف قرار دیا گیا ہے۔ یہ شاہراہ بلوچستان کے اہم تجارتی اور سفری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں روزانہ بڑی تعداد میں مسافر، مال بردار گاڑیاں اور تجارتی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ شاہراہ پر کسی بھی ممکنہ تخریبی کارروائی سے نہ صرف انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے بلکہ تجارتی سرگرمیاں اور صوبے کے مختلف اضلاع کے درمیان آمدورفت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
شہریوں پر عائد پابندیاں
کرفیو کے دوران:
- کسی بھی شہری کو مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
- ضلع کے اندر اور باہر ہر قسم کی غیر ضروری نقل و حرکت معطل رہے گی۔
- عوامی اجتماعات، جلسے، جلوس اور دیگر اجتماعی سرگرمیوں پر مکمل پابندی ہوگی۔
- بازاروں، تجارتی مراکز اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی کرفیو کے اوقات کے مطابق پابندیاں لاگو رہیں گی۔
- قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف مقامات پر ناکہ بندیاں اور گشت بڑھائیں گے۔
ضروری خدمات کو استثنیٰ
محکمہ داخلہ کے مطابق شہریوں کی بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض شعبوں کو کرفیو سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر نوشکی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مشاورت کے بعد سرکاری ملازمین، طبی عملے، ایمبولینس سروسز، ریسکیو اداروں، یوٹیلیٹی سروسز، بجلی، گیس، پانی، ٹیلی کمیونیکیشن اور دیگر ضروری خدمات سے وابستہ اہلکاروں کو خصوصی اجازت نامے جاری کر سکیں گے۔
اس کے علاوہ ہنگامی طبی صورتحال میں مریضوں اور ان کے ساتھ موجود افراد کو بھی متعلقہ حکام کی ہدایات کے مطابق سہولت فراہم کی جائے گی۔
سکیورٹی اداروں کو سخت ہدایات
محکمہ داخلہ بلوچستان نے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں، ضلعی انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز کو ہدایت کی ہے کہ کرفیو پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
سکیورٹی اداروں نے ضلع کے داخلی اور خارجی راستوں پر نگرانی مزید سخت کر دی ہے جبکہ حساس مقامات، سرکاری عمارتوں اور اہم شاہراہوں پر اضافی نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے۔
شہریوں سے تعاون کی اپیل
ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کرفیو کے دوران حکومتی احکامات پر مکمل عمل کریں، غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی یا مشتبہ شخص کی فوری اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ عوام کا تعاون دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے اور امن و امان کی بحالی میں نہایت اہم کردار ادا کرے گا۔
بلوچستان میں سکیورٹی چیلنجز
حالیہ برسوں میں بلوچستان کے مختلف اضلاع، خصوصاً سرحدی علاقوں میں دہشت گردی، تخریب کاری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کے متعدد واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ حکومت اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے ان خطرات سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز، نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے اور حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات کرنے جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ نوشکی میں نافذ کیا گیا کرفیو ایک عارضی اور احتیاطی اقدام ہے، جس کا بنیادی مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، دہشت گرد عناصر کی نقل و حرکت محدود کرنا اور سکیورٹی فورسز کو مؤثر کارروائی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ سکیورٹی صورتحال بہتر ہونے کے بعد معمولات زندگی بحال کر دیے جائیں گے۔



