پاکستاناہم خبریں

نوشکی میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن، مبینہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا، آٹھ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات

قانون نافذ کرنے والے اداروں، سرکاری تنصیبات اور اہم شاہراہوں کو نشانہ بنانے کی مبینہ کوششوں کے پیش نظر انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

نوشکی: بلوچستان کے ضلع نوشکی میں سیکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر ایک انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کے ایک مشتبہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کارروائی کے دوران آٹھ مبینہ بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) سے وابستہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے، جبکہ ان کا مبینہ بنکر مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق یہ کارروائی انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، جن میں بتایا گیا تھا کہ نوشکی کے ایک دور افتادہ علاقے میں مبینہ عسکریت پسند موجود ہیں اور وہاں سے تخریبی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اطلاعات موصول ہونے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کیا اور کارروائی کا آغاز کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران فورسز کو مبینہ مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا، جس کے بعد محدود نوعیت کا فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں موجود مبینہ عسکریت پسندوں کے بنکر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم ان ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

کارروائی کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہاں مزید کوئی مشتبہ فرد یا اسلحہ موجود نہ ہو۔ ذرائع کے مطابق بنکر سے ممکنہ طور پر اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر سامان بھی برآمد ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم اس حوالے سے سرکاری طور پر تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں حالیہ عرصے کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں، سرکاری تنصیبات اور اہم شاہراہوں کو نشانہ بنانے کی مبینہ کوششوں کے پیش نظر انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایسے آپریشنز کا مقصد دہشت گردی کے خطرات کو کم کرنا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

دوسری جانب ضلع نوشکی میں پہلے سے نافذ سیکیورٹی اقدامات اور کرفیو کے باعث علاقے میں نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ اہم داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل جاری ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے حساس مقامات پر گشت بھی بڑھا رہے ہیں۔

تاحال اس کارروائی کے حوالے سے متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے تفصیلی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت اور کارروائی کی مکمل تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

مقامی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں، غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ حکام کے مطابق علاقے میں سرچ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سیکیورٹی صورتحال کو مکمل طور پر قابو میں نہیں لایا جاتا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button