پاکستاناہم خبریں

غزہ امن منصوبے میں اہم پیش رفت، وزیرِ اعظم شہباز شریف کا حماس کے غیر مسلح ہونے کے عمل کا خیرمقدم، آزاد فلسطینی ریاست کی امید کا اظہار

وزیرِ اعظم نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ غزہ امن منصوبے کے تحت کیے گئے تمام وعدوں پر مکمل اور مخلصانہ عملدرآمد کیا جائے گا تاکہ جنگ سے متاثرہ فلسطینی عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے

سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے غزہ امن منصوبے کے تحت حماس کے غیر مسلح ہونے کے عمل میں ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن، استحکام اور فلسطینی عوام کے دیرینہ حقِ خود ارادیت کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت نہ صرف غزہ میں جنگ کے مستقل خاتمے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ بھی ہموار کرے گی۔
وزیرِ اعظم کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ غزہ امن منصوبے کے تحت حماس کے "مکمل غیر مسلح” ہونے کے حوالے سے ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس اعلان کو گزشتہ کئی ماہ سے جاری سفارتی کوششوں میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد غزہ میں دیرپا جنگ بندی، سیاسی استحکام اور نئی انتظامی حکومت کے قیام کو ممکن بنانا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان غزہ امن منصوبے کے تحت بورڈ آف پیس کی نگرانی میں جاری غیر مسلح ہونے کے عمل کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت امن، مذاکرات اور سفارت کاری کی کامیابی کی عکاس ہے اور عالمی برادری کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے کہ پیچیدہ تنازعات بھی بات چیت کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اہم پیش رفت کے حصول میں ثالثی کرنے والے ممالک، خصوصاً امریکہ، مصر، قطر اور ترکی کی مسلسل سفارتی کاوشیں قابلِ تعریف ہیں۔ ان ممالک نے مختلف فریقین کے درمیان اعتماد سازی، مذاکرات اور امن معاہدے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں موجودہ پیش رفت ممکن ہوئی۔
وزیرِ اعظم نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ غزہ امن منصوبے کے تحت کیے گئے تمام وعدوں پر مکمل اور مخلصانہ عملدرآمد کیا جائے گا تاکہ جنگ سے متاثرہ فلسطینی عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف معاہدوں کا اعلان کافی نہیں بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق ایک قابلِ اعتماد، جامع اور وقتی سیاسی عمل کے ذریعے ہی فلسطینی عوام کو ان کا بنیادی حق مل سکتا ہے اور یہی عمل ایک آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کا راستہ ہموار کرے گا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہونا چاہیے۔
دوسری جانب، حماس کے عہدیداروں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ غزہ پر مستقبل میں قائم ہونے والی فلسطینی حکومت کے انتظامی ڈھانچے کے تحت بورڈ آف پیس کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی تنظیم کے ہتھیار جمع کرنے اور انہیں محفوظ رکھنے کے عمل کی نگرانی کرے گی۔ ذرائع کے مطابق اس انتظام کا مقصد جنگ بندی کو مؤثر بنانا، داخلی سلامتی کو یقینی بنانا اور مستقبل کے سیاسی عمل کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔
حماس نے ثالثی کرنے والے ممالک اور بورڈ آف پیس سے توقع ظاہر کی ہے کہ اسرائیل بھی معاہدے کی تمام شرائط پر مکمل عملدرآمد کرے گا۔ تنظیم کے مطابق معاہدے کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیلی افواج مرحلہ وار غزہ سے انخلاء کریں، انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں ختم کی جائیں اور متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو کا عمل جلد از جلد شروع کیا جائے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق حماس کا غیر مسلح ہونا اکتوبر 2025 میں نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کا بنیادی جزو تھا، جس پر پیش رفت کو خطے میں امن کی جانب ایک اہم کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار تمام فریقین کی جانب سے معاہدے کی مکمل پاسداری، بین الاقوامی نگرانی اور مسلسل سفارتی تعاون پر ہوگا۔
ادھر مصر کے سرکاری نشریاتی ادارے القاہرہ نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ قاہرہ میں جلد جنگ بندی کے ضامن ممالک، جن میں امریکہ، قطر، ترکی اور مصر شامل ہیں، کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوگا۔ اجلاس میں غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے، مستقل جنگ بندی، اسرائیلی افواج کے انخلاء، قیدیوں کے تبادلے، انسانی امداد کی فراہمی، غزہ کی تعمیرِ نو اور مستقبل کے سیاسی انتظامات پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
سفارتی حلقوں کے مطابق اگر مذاکرات کا دوسرا مرحلہ بھی کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو نہ صرف غزہ میں جاری انسانی بحران میں نمایاں کمی آ سکتی ہے بلکہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک جامع سیاسی تصفیے کی جانب بھی پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی برادری اس عمل کو مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن، علاقائی استحکام اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک فیصلہ کن موقع قرار دے رہی ہے۔
پاکستان نے ایک بار پھر اپنے اس دیرینہ مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ، پائیدار اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق حل ہی خطے میں امن و استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے، اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی سفارتی اور سیاسی کوششیں مزید تیز کرے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button