پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اُمتِ مسلمہ کی وحدت و اتحاد کا مظہر ہے، مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی پالیسی خوش آئند: طاہر محمود اشرفی

اسلامی ممالک کو مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی، پاکستان کی سلامتی اور استحکام سب سے عزیز ہے: چیئرمین پاکستان علما کونسل

سید عاطف ندیم-ادارت

پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ امن اور اُمتِ مسلمہ کے اتحاد و وحدت کا مظہر ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاہدے کو مزید وسعت دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ اسلامی ممالک اس کا حصہ بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یورپی ممالک اپنے مشترکہ مفادات کے لیے اتحاد قائم کرسکتے ہیں اور نیٹو جیسے دفاعی اتحاد وجود میں آسکتے ہیں تو اسلامی دنیا بھی باہمی تعاون، دفاع اور سلامتی کے لیے متحد ہوسکتی ہے۔

انہوں نے مدارس کو قومی تعلیم اور ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کی پالیسی کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس ملک کے تعلیمی نظام کا اہم حصہ ہیں اور ان کی رجسٹریشن، تعلیمی بہتری اور طلبہ کے لیے سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے مؤثر اور قابلِ عمل نظام ضروری ہے۔

طاہر محمود اشرفی نے ان خیالات کا اظہار اتوار کے روز لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں متحدہ مدارس کونسل پاکستان کے اہم اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں مختلف مدارس کے نمائندگان اور مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ امن کا معاہدہ ہے

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طاہر محمود اشرفی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ یہ معاہدہ محض دفاعی تعاون تک محدود نہیں بلکہ مسلم دنیا کے اتحاد، باہمی اعتماد اور مشترکہ سلامتی کے تصور کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں اسلامی ممالک کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہوکر مشترکہ مفادات کے لیے ایک دوسرے کے قریب آنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ”اگر نیٹو بن سکتا ہے اور یورپی یونین اکٹھی ہو سکتی ہے تو اسلامی دنیا کیوں اکٹھی نہیں ہو سکتی۔“

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کوشش کی جائے گی کہ زیادہ سے زیادہ اسلامی ممالک اس معاہدے کا حصہ بنیں اور مسلم دنیا کے درمیان دفاعی، سیاسی اور سفارتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

معاہدے کے دروازے تمام اسلامی ممالک کے لیے کھلے ہونے چاہئیں

طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مکہ مکرمہ میں ہونے والے دفاعی معاہدے کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اور اس کے دائرہ کار کو وسیع کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے اور توقع ہے کہ یہ معاہدہ مستقبل میں اسلامی دنیا کے ایک مضبوط اور مؤثر اتحاد کی بنیاد بن سکتا ہے۔

ان کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں مسلم ممالک کو اپنے مشترکہ مفادات، خودمختاری، دفاع اور سلامتی کے تحفظ کے لیے باہمی تعاون بڑھانا ہوگا۔

فلسطین اور خطے کے حالات میں مسلم اتحاد کی اہمیت

پاکستان علما کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ مسلم دنیا کو آج پہلے سے کہیں زیادہ اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ سمیت مختلف خطوں میں جاری تنازعات نے یہ واضح کردیا ہے کہ اسلامی ممالک کے درمیان مشترکہ حکمت عملی اور مؤثر سفارتی تعاون ناگزیر ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلامی ممالک باہمی اختلافات کو کم کرکے مشترکہ مسائل کے حل کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں گے۔

طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مسلم دنیا کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط آواز بننا ہوگا اور کسی بھی سازش یا بیرونی دباؤ کا مقابلہ اتحاد اور دانش مندی کے ذریعے کرنا ہوگا۔

پاکستان کی سلامتی اور استحکام سب سے مقدم

طاہر محمود اشرفی نے پاکستان کی قومی سلامتی اور استحکام کو تمام سیاسی و مذہبی اختلافات سے بالاتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی سلامتی کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا استحکام، دفاع اور سلامتی ہر پاکستانی کے لیے انتہائی عزیز ہونی چاہیے اور ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ اتحاد و اتفاق سے ہی ممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذہبی اور سیاسی قوتوں سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو ملکی مفاد کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔

پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی اور سفارتی کردار کا ذکر کرتے ہوئے طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ قیادت نے عالمی سطح پر اپنا ایک منفرد مقام پیدا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران، سعودی عرب، ترکیہ اور امریکہ سمیت مختلف اہم ممالک پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان کو اس اعتماد کو قومی مفاد، خطے کے امن اور بین الاقوامی سطح پر مثبت کردار ادا کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

مذاکرات مسائل کے حل کا بہترین راستہ ہیں

طاہر محمود اشرفی نے ملک میں سیاسی اور مذہبی اختلافات کے حوالے سے کہا کہ تشدد کے ذریعے مسائل حل نہیں کیے جاسکتے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات مسائل کے حل کا بہترین راستہ ہیں اور ملکی مذہبی و سیاسی قوتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کا حل باہمی مشاورت، مذاکرات اور اتفاقِ رائے میں ہے۔

مذہبی اور سیاسی قوتیں مل بیٹھیں

چیئرمین پاکستان علما کونسل نے کہا کہ ملک کی تمام مذہبی اور سیاسی قوتوں کو قومی مفاد میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کا حصہ ہے لیکن اختلافات کو دشمنی اور تصادم میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق ملک کے موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ سیاسی قیادت، مذہبی رہنما اور دیگر طبقات ایک دوسرے کے مؤقف کو سنیں اور قومی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیں۔

مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر اہم پیش رفت

پریس کانفرنس کے دوران طاہر محمود اشرفی نے مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے کافی حد تک کام ہوچکا ہے اور اس سلسلے میں صوبائی وزیر خواجہ سلمان کے ساتھ متعدد نشستیں بھی ہوچکی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ مدارس کی رجسٹریشن پر انہیں کوئی اعتراض نہیں اور مدارس کے انتظامی و قانونی معاملات کو باقاعدہ نظام کے تحت لانے کے لیے مشاورت جاری رہنی چاہیے۔

22 ہزار مدارس کی رجسٹریشن کا دعویٰ

طاہر محمود اشرفی نے بتایا کہ ان کے مطابق ان کے نمائندہ اداروں کے تحت 22 ہزار مدارس رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مدارس کے 15 بورڈز موجود ہیں اور دینی تعلیم کے مختلف نظاموں کے تحت کام کرنے والے مدارس کے لیے مناسب قانونی اور انتظامی طریقہ کار ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو مدارس موجودہ یا روایتی دینی نظام کے مطابق کام کرنا چاہتے ہیں، انہیں بھی اپنے طریقہ کار کے مطابق کام کرنے کی سہولت حاصل ہونی چاہیے۔

مدارس کے لیے چیریٹی کمیشن رجسٹریشن کی تجویز

طاہر محمود اشرفی نے تجویز پیش کی کہ 22 ہزار مدارس کی چیریٹی کمیشن کے تحت رجسٹریشن کی جائے تاکہ مدارس کے لیے ایک مؤثر اور قابلِ عمل نظام قائم ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے میں ایسی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے جو دینی تعلیمی نظام کو غیر ضروری پیچیدگیوں سے محفوظ رکھتے ہوئے قانونی اور انتظامی تقاضے بھی پورے کرے۔

ان کے مطابق مدارس کے نمائندگان اور حکومتی اداروں کے درمیان مشاورت کے ذریعے ایسا نظام تشکیل دیا جاسکتا ہے جو تمام فریقین کے لیے قابلِ قبول ہو۔

مدارس کے بینک اکاؤنٹس کھولنے کا مطالبہ

پاکستان علما کونسل کے چیئرمین نے مدارس کے بینک اکاؤنٹس کھولنے کے معاملے پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ مدارس کے لیے باقاعدہ بینکنگ سہولیات ضروری ہیں تاکہ مالی معاملات شفاف انداز میں چلائے جاسکیں اور بیرون ملک سے آنے والے طلبہ کے لیے بھی سہولیات پیدا کی جاسکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بینکنگ نظام تک قانونی رسائی مدارس کے انتظامی معاملات کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مالی شفافیت کے لیے بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

مدارس کو دہشت گردی سے جوڑنے کی مخالفت

طاہر محمود اشرفی نے مدارس کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے جوڑنے کے عمومی تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بغیر تحقیق کے مدارس کے بارے میں الزامات عائد نہیں کیے جانے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی مخصوص مدرسے کے بارے میں دہشت گردی یا انتہا پسندی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ مدارس کی نمائندہ قیادت ایسے کسی ادارے کے خلاف کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

’اگر کسی مدرسے پر شک ہے تو نشاندہی کی جائے‘

طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اگر کسی مدرسے کے حوالے سے یہ شک یا ثبوت موجود ہے کہ وہاں دہشت گردی یا انتہا پسندی کی تعلیم دی جارہی ہے تو متعلقہ اداروں کو اس کی نشاندہی کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مدارس کی نمائندہ تنظیموں کا مؤقف واضح ہے کہ دینی تعلیم کے اداروں کو دہشت گردی سے جوڑنے کے بجائے ہر معاملے کو شواہد اور قانون کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 15 مدارس بورڈز کی جانب سے بھی اس حوالے سے متفقہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔

صوبوں میں رجسٹریشن کا مؤثر طریقہ کار ابھی درکار ہے

ایک سوال کے جواب میں طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے مرکزی سطح پر طریقہ کار موجود ہے، تاہم صوبوں میں اس حوالے سے قانونی اور انتظامی میکنزم مکمل طور پر تشکیل پانا ابھی باقی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی سطح پر قانون سازی اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ ضروری ہے تاکہ مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جاسکے۔

ان کے مطابق اس عمل میں مدارس کی نمائندہ تنظیموں کو بھی اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔

مدارس کو قومی تعلیم و ترقی کے دھارے میں شامل کرنا خوش آئند

طاہر محمود اشرفی نے حکومت کی جانب سے مدارس کو قومی تعلیم اور ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کی پالیسی کو خوش آئند قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ دینی مدارس پاکستان کے تعلیمی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں اور ان کے طلبہ کو بھی تعلیم، روزگار اور معاشی ترقی کے وسیع مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔

ان کے مطابق مدارس کے طلبہ کو دینی تعلیم کے ساتھ جدید علوم، فنی تعلیم اور معاشی مواقع سے جوڑنے کے لیے مؤثر پالیسی ملک کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

دینی اور عصری تعلیم میں توازن کی ضرورت

ماہرین تعلیم کے مطابق مدارس کے نظام کو قومی تعلیمی دھارے سے جوڑنے کا مقصد صرف رجسٹریشن تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ طلبہ کے لیے جدید تعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔

طاہر محمود اشرفی کے بیان سے بھی یہ بات سامنے آئی کہ مدارس کی رجسٹریشن، مالی شفافیت، بینکنگ سہولیات اور تعلیمی نظام میں بہتری کے معاملات کو باہمی مشاورت سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

مدارس کی رجسٹریشن پر مشاورت جاری رکھنے پر زور

انہوں نے کہا کہ مدارس کی قیادت اور حکومت کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ ایسے معاملات کا حل تلاش کیا جاسکے جن پر مختلف فریقوں کے تحفظات موجود ہیں۔

ان کے مطابق مدارس کی رجسٹریشن ایک انتظامی ضرورت ہوسکتی ہے، تاہم اس عمل میں مدارس کے دینی تشخص، خودمختاری اور تعلیمی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

اجلاس میں مختلف مدارس کے رہنماؤں کی شرکت

متحدہ مدارس کونسل پاکستان کے اجلاس میں مختلف مدارس اور دینی تعلیمی بورڈز سے وابستہ رہنماؤں نے شرکت کی۔

اس موقع پر اتحاد مدارس عربیہ کے مرکزی رہنما مفتی زبیر فہیم، متحدہ مدارس کونسل کے مرکزی رہنما علامہ توقیر مفتی، عبد اللطیف سمیت دیگر مدارس کے سربراہان اور نمائندگان نے بھی خطاب کیا۔

شرکاء نے مدارس کی رجسٹریشن، تعلیمی نظام میں بہتری، دینی اداروں کے کردار اور ملک کی موجودہ صورتحال سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔

قومی اتحاد اور امن پر مشترکہ زور

اجلاس اور پریس کانفرنس کے دوران ملک میں امن، سیاسی استحکام اور قومی اتحاد کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان کو درپیش مسائل کا مقابلہ کسی ایک سیاسی یا مذہبی جماعت کے ذریعے نہیں بلکہ پوری قوم کے اتحاد سے کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذہبی قیادت کو بھی ملک میں امن، برداشت اور مکالمے کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

مکہ معاہدہ اور مدارس پالیسی، دو اہم موضوعات

طاہر محمود اشرفی کی پریس کانفرنس میں ایک طرف اسلامی دنیا کے اتحاد اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو اہم قرار دیا گیا تو دوسری طرف مدارس کی رجسٹریشن اور انہیں قومی تعلیمی و ترقیاتی نظام میں شامل کرنے کے معاملے کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔

ان کے مطابق مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور پاکستان کے اندر مذہبی و سیاسی قوتوں کے درمیان اتفاقِ رائے دونوں ہی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اسلامی ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط کرے گا جبکہ مدارس کے حوالے سے حکومتی پالیسی دینی اور عصری تعلیم کے درمیان بہتر ربط پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔

نتیجہ

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو مسلم امہ کے اتحاد اور امن کی جانب اہم قدم قرار دیتے ہوئے اس کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہوکر مشترکہ سلامتی اور مفادات کے لیے متحد ہونا چاہیے۔

دوسری جانب مدارس کے حوالے سے انہوں نے رجسٹریشن کے عمل، بینکنگ سہولیات، مالی شفافیت اور قومی تعلیمی دھارے میں شمولیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے جوڑنے کے بجائے ہر الزام کی تحقیق اور شواہد کی بنیاد پر جانچ ہونی چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ملکی استحکام، قومی سلامتی اور امن کے لیے سیاسی و مذہبی قوتوں کا باہمی تعاون اور مذاکرات ہی پائیدار راستہ ہے، جبکہ مدارس کو جدید قومی تعلیمی نظام سے جوڑنے کے لیے حکومت اور دینی قیادت کے درمیان مسلسل مشاورت وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button