پاکستاناہم خبریں

پاکستان نے بھارت کے دہشت گردی سے متعلق الزامات مسترد کر دیے، بھارتی دعوے بے بنیاد قرار

پہلگام واقعہ: فوری ایف آئی آر اور بھارتی بیانیے پر سنجیدہ سوالات، عطاء اللہ تارڑ

سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پہلگام واقعے کے فوری بعد پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے، تاہم پاکستان نے ہر الزام کا عملی، مدلل اور شواہد پر مبنی جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے صرف آدھے گھنٹے بعد ایف آئی آر کا اندراج کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے اور اس پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ پہلگام واقعے کے فوراً بعد پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش کی گئی، لیکن پاکستان نے اشتعال انگیزی کے بجائے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کیا اور اپنے مؤقف کو ٹھوس دلائل کے ساتھ پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی بڑے اور حساس واقعے میں تحقیقات کا بنیادی تقاضا شواہد، فرانزک مواد اور غیر جانب دارانہ تفتیش ہے، تاہم پہلگام واقعے کے محض آدھے گھنٹے بعد ایف آئی آر کا اندراج متعدد سوالات پیدا کرتا ہے۔ اتنے مختصر وقت میں کسی واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا اور ذمہ داروں کا تعین کرنا کس حد تک ممکن تھا، یہ ایک اہم سوال ہے۔

عطاء اللہ تارڑ کے مطابق پاکستان نے ابتدا ہی سے الزام تراشی کے بجائے شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات پر زور دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر شفاف تحقیقات کی پیشکش اسی ذمہ دارانہ پالیسی کا حصہ تھی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے غیر جانب دار بین الاقوامی تحقیقات کی پیشکش نے پاکستان کے مؤقف کو مزید مضبوط کیا، کیونکہ پاکستان کسی بھی ایسے عمل سے گریزاں نہیں جو حقائق سامنے لانے میں مدد دے۔ ان کے بقول اگر کسی واقعے کے بارے میں پاکستان پر الزام عائد کیا جا رہا ہے تو اس کی تصدیق قابلِ اعتماد اور غیر جانب دار شواہد کے ذریعے ہونی چاہیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے ہر الزام کا جواب جذباتی انداز میں دینے کے بجائے حقائق اور دلیل کی بنیاد پر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ایسے حساس واقعات کو سیاسی مقاصد یا منفی پروپیگنڈے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

بھارتی بیانیے پر سوالات

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد سامنے آنے والے بعض دعوؤں اور تحقیقات کے طریقہ کار نے خود کئی سوالات کو جنم دیا۔ خصوصاً واقعے کے فوری بعد ایف آئی آر کا اندراج اس امر کا متقاضی ہے کہ پورے معاملے کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔ کسی بھی واقعے کی بنیاد پر بغیر قابلِ تصدیق شواہد کے کسی ملک کو موردِ الزام ٹھہرانا نہ صرف تحقیقات کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے بلکہ اس سے خطے میں کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے۔

پاکستان کا ذمہ دارانہ مؤقف

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے پہلگام واقعے کے معاملے پر واضح اور مستقل مؤقف اختیار کیا۔ پاکستان نے نہ صرف الزامات کو مسترد کیا بلکہ حقائق جاننے کے لیے شفاف بین الاقوامی تحقیقات کی پیشکش بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے مذاکرات، شفاف تحقیقات اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی منفی بیانیے کا جواب حقائق، دلیل اور شواہد کے ذریعے دیا جائے گا، جبکہ عالمی برادری کو بھی ایسے معاملات میں غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کی حمایت کرنی چاہیے۔

بھارتی وزیر داخلہ کے دعوے

پاکستان کا ردعمل بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارتی سیکیورٹی اداروں نے تقریباً 200 مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔

امیت شاہ کے مطابق گرفتار کیے جانے والے افراد کے مبینہ طور پر پاکستان سے روابط تھے اور وہ بھارت میں تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

بھارتی وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی گئیں جب بھارتی حکام کو خدشہ تھا کہ ملک کے یوم آزادی کے موقع پر سیکیورٹی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

بھارتی حکومت کے مطابق کارروائی کا مقصد مبینہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا اور کسی ممکنہ حملے یا تخریبی سرگرمی کو روکنا تھا۔

14 ریاستوں میں کارروائی کا دعویٰ

امیت شاہ کے مطابق مبینہ گرفتاریوں کا یہ سلسلہ ایک بڑے سیکیورٹی آپریشن کا حصہ تھا، جس میں بھارت کی مختلف ریاستی حکومتوں اور سیکیورٹی اداروں نے حصہ لیا۔

بھارتی وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائیاں تقریباً 14 مختلف ریاستوں میں کی گئیں اور انہیں بھارتی یوم آزادی سے چند روز قبل مکمل کیا گیا۔

ان کے مطابق بھارتی سیکیورٹی اداروں نے کئی برس کی کوششوں کے بعد ایسے مبینہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کی جو ان کے بقول پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کی حمایت یافتہ تنظیموں سے منسلک تھے۔

تاہم ان دعوؤں کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے کسی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کی گئی ہے اور اسلام آباد نے بھارتی مؤقف کو مسترد کر دیا ہے۔

پاکستان پر الزام تراشی کی پالیسی پر سوالات

پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے واقعات کے بعد فوری طور پر پاکستان کا نام لینا ایک ایسے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جس میں کسی واقعے کی مکمل اور غیر جانب دار تحقیقات سے قبل ہی الزام تراشی شروع کر دی جاتی ہے۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کے سدباب کے لیے ریاستوں کے درمیان تعاون، خفیہ معلومات کا تبادلہ اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔

پاکستان نے متعدد مواقع پر اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر بھارت کے پاس پاکستان کے خلاف کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود ہیں تو انہیں مناسب بین الاقوامی فورمز پر پیش کیا جانا چاہیے تاکہ ان کی آزادانہ جانچ پڑتال ممکن ہو۔

الزامات سے خطے کا امن متاثر ہونے کا خدشہ

پاکستان کا کہنا ہے کہ دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان موجود کشیدگی کے تناظر میں ایسے الزامات انتہائی حساس نوعیت کے حامل ہیں۔

اسلام آباد کے مطابق پاکستان اور بھارت دونوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے بیانات سے گریز کریں جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے خود بھی بھاری قربانیاں دی ہیں اور ملک کی سیکیورٹی فورسز مسلسل دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔

اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑنے کے بجائے اس کے خلاف پاکستان کی طویل جدوجہد اور قربانیوں کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

بین الاقوامی برادری کے لیے اہم چیلنج

موجودہ صورتحال میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بھی نئے تنازع کے بڑھنے سے روکنا بین الاقوامی برادری کے لیے بھی ایک اہم چیلنج ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ کسی بھی دہشت گرد حملے یا سیکیورٹی واقعے کی تحقیقات شفاف، غیر جانب دار اور قابلِ اعتماد ہونی چاہئیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور کسی ملک کے خلاف بغیر ثبوت الزام تراشی کا سلسلہ ختم ہو۔

اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی واقعے میں پاکستان سے تعلق ثابت کرنے کے قابل شواہد موجود ہوں تو انہیں مناسب فورمز پر پیش کیا جا سکتا ہے، لیکن محض الزامات کی بنیاد پر پاکستان کو ذمہ دار قرار دینا قابلِ قبول نہیں۔

پاکستان کا امن کے ساتھ دفاع کا عزم

پاکستانی حکام کے مطابق ملک خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے، تاہم قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور خطے میں امن کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن کے لیے الزام تراشی، پروپیگنڈا اور یک طرفہ بیانات کے بجائے حقائق، شفاف تحقیقات اور سفارتی رابطوں کو ترجیح دینا ہوگی۔

موجودہ صورتحال میں بھارتی وزیر داخلہ کے تقریباً 200 گرفتاریوں سے متعلق دعوے اور پاکستان کی جانب سے ان الزامات کی واضح تردید نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود بداعتمادی کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کر دیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ کسی بھی الزام کا فیصلہ سیاسی بیانات یا میڈیا مہم کے ذریعے نہیں بلکہ قابلِ اعتماد شواہد اور غیر جانب دار تحقیقات کے ذریعے ہونا چاہیے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button