
سید عاطف ندیم-ادارت
کوئٹہ: آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق زیارت، ہرنائی اور سوراب میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 9 سے زائد دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے، جبکہ دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو بھی مؤثر کارروائی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائیوں کا آغاز خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا، جن میں دہشتگردوں کی موجودگی، نقل و حرکت اور ممکنہ ٹھکانوں سے متعلق معلومات حاصل ہوئی تھیں۔ ان اطلاعات کی بنیاد پر سکیورٹی فورسز نے مختلف علاقوں میں مربوط انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے۔
زیارت اور ہرنائی کے درمیان بڑا آپریشن
سکیورٹی ذرائع کے مطابق زیارت اور ہرنائی کے درمیان واقع پہاڑی سلسلے میں دہشتگردوں کے خلاف ایک بڑا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا۔ کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانے کا سراغ لگا کر اسے گھیرے میں لیا اور مؤثر کارروائی کی۔
ذرائع کے مطابق کارروائی میں 8 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے زیرِ استعمال ٹھکانے کو بھی تباہ کر دیا، جس سے وہاں موجود دہشتگردوں کی سرگرمیوں اور ممکنہ منصوبہ بندی کو شدید دھچکا پہنچا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے انتہائی احتیاط کے ساتھ علاقے کو کلیئر کیا تاکہ دہشتگردوں کے ممکنہ ساتھیوں اور دیگر خطرات کا بھی سراغ لگایا جا سکے۔
سوراب میں ایک دہشتگرد ہلاک
دوسری جانب ضلع سوراب کے علاقے حاجیکہ گاؤں میں بھی سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران ایک دہشتگرد ہلاک ہوا۔
ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے دشت کٹائی اور حاجیکہ کے درمیان مؤثر ناکہ بندی قائم کی، جس کے نتیجے میں دہشتگردوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی گئی اور ان کے ممکنہ فرار کے راستوں کو محدود کیا گیا۔
کارروائی کے بعد علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی کیا گیا تاکہ کسی ممکنہ خطرے یا دہشتگردی کے نیٹ ورک سے وابستہ دیگر عناصر کی موجودگی کا پتا چلایا جا سکے۔
دہشتگردوں سے اہم سامان برآمد
سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائیوں کے دوران ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے ایمونیشن، میگزین، دستی بم، واکی ٹاکی، موٹرسائیکل اور دیگر سامان برآمد کیا گیا۔
برآمد ہونے والا مواصلاتی سامان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشتگرد باہمی رابطے کے لیے مخصوص ذرائع استعمال کر رہے تھے، جبکہ دیگر برآمد شدہ سامان سے ان کی مسلح سرگرمیوں اور نقل و حرکت سے متعلق مزید شواہد حاصل ہونے کی توقع ہے۔
سکیورٹی فورسز نے برآمد شدہ سامان کو تحویل میں لے کر مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ دہشتگردوں کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور ممکنہ معاونین تک پہنچا جا سکے۔
دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حالیہ کارروائیاں اس عزم کا اظہار ہیں کہ سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سکیورٹی ادارے دہشتگرد عناصر کی موجودگی، ان کے ٹھکانوں اور نقل و حرکت سے متعلق معلومات اکٹھی کرکے ہدفی کارروائیاں کر رہے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردی کے خلاف جنگ میں انٹیلی جنس کا کردار انتہائی اہم ہے، کیونکہ بروقت اور قابلِ اعتماد معلومات کی بنیاد پر کارروائیوں سے دہشتگردوں کو منظم ہونے اور شہری علاقوں میں کارروائیاں کرنے سے پہلے ہی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
بلوچستان میں امن کے لیے سکیورٹی فورسز کا عزم
سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے اور دیرپا امن کے قیام تک بلا تعطل کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق صوبے میں امن و امان کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور دہشتگردوں، ان کے سہولت کاروں اور معاون نیٹ ورک کے خلاف بھی مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
سکیورٹی فورسز کا مؤقف ہے کہ بلوچستان کے عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ریاستی ادارے مربوط حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں تاکہ صوبے میں امن، استحکام اور معمولاتِ زندگی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
دہشتگردی کے خلاف قومی عزم
حالیہ کارروائیوں میں دہشتگردوں کی ہلاکت اور ان کے ٹھکانوں کی تباہی کو سکیورٹی اداروں کی انٹیلی جنس صلاحیتوں اور مسلسل انسدادِ دہشتگردی مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ مشکوک سرگرمیوں اور عناصر کے بارے میں متعلقہ اداروں کو بروقت اطلاع دیں۔
ریاستی اداروں کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ایک مسلسل عمل ہے اور اس میں سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کا باہمی تعاون دیرپا امن کے قیام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔



