
سید عاطف ندیم-ادارت
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار 24 سے 28 اگست تک برطانیہ کا پانچ روزہ سرکاری دورہ کریں گے، جہاں وہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے ساتھ ساتھ صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی بحری عملے کی محفوظ اور جلد رہائی کا معاملہ بھی برطانوی اور بین الاقوامی قیادت کے سامنے بھرپور انداز میں اٹھائیں گے۔
وزارت خارجہ کے مطابق دورے کے دوران اسحاق ڈار برطانوی حکومت کے اعلیٰ حکام، اراکین پارلیمنٹ، دولت مشترکہ کی قیادت اور بین الاقوامی میری ٹائم اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، عالمی و علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون، سمندری سلامتی اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
تاہم اس دورے کے ایجنڈے میں MT Honour 25 کے پاکستانی عملے کی رہائی کا معاملہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس جہاز پر سوار 10 پاکستانی شہریوں سمیت مجموعی طور پر 17 رکنی عملہ 21 اپریل 2026 سے صومالی قزاقوں کے قبضے میں ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ پہلے ہی اس معاملے کو انتہائی اہم قرار دے چکی ہے اور صومالی حکام، جہاز کے مالکان اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
برطانیہ میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا اہم مرحلہ
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اپنے دورے کے دوران برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ اور وزیر مملکت برائے پاکستان اسٹیفن ڈاؤٹی سمیت برطانوی حکومت کے سینئر حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔
ان ملاقاتوں میں پاکستان اور برطانیہ کے باہمی تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی، دفاعی، سکیورٹی اور عوامی سطح پر روابط کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تاریخی تعلقات کے باعث لندن کا اسلام آباد کی خارجہ پالیسی میں اہم مقام ہے۔ برطانیہ میں ایک بڑی پاکستانی کمیونٹی بھی آباد ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اسحاق ڈار کی برطانوی قیادت سے ملاقاتیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب عالمی سطح پر سلامتی کے چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے اور سمندری راستوں کی حفاظت، بحری تجارت اور جہاز رانی کی سلامتی بین الاقوامی ایجنڈے کا اہم حصہ بن چکی ہے۔
MT Honour 25 کا معاملہ دورے کا مرکزی نکتہ
دورے کا سب سے حساس اور فوری نوعیت کا معاملہ MT Honour 25 کے یرغمال پاکستانی عملے کی رہائی ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ آئل ٹینکر 21 اپریل کو صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں چلا گیا تھا۔ جہاز پر 17 افراد کا عملہ موجود تھا، جن میں 10 پاکستانی شہری شامل تھے۔ پاکستان نے اس واقعے کے فوراً بعد صومالی حکام سے رابطہ کیا اور عملے کی سلامتی اور جلد رہائی کے لیے سفارتی کوششیں شروع کیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق جہاز بعد ازاں صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ کے ساحل کے قریب لنگر انداز ہوا۔ پاکستانی سفارت خانے اور صومالی حکام کے درمیان اس معاملے پر رابطے جاری رہے ہیں۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے اپریل میں بتایا تھا کہ صومالی حکومت نے صورتحال کی نگرانی اور عملے کی حفاظت کے حوالے سے تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اسلام آباد کو اس وقت یہ بھی بتایا گیا تھا کہ صومالی حکام قزاقوں اور مقامی متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
یرغمالیوں کی حالت پر بڑھتی ہوئی تشویش
بحری عملے کی طویل حراست نے پاکستان میں ان کے خاندانوں کی تشویش میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔ اگست کے اوائل میں سامنے آنے والے پیغامات میں یرغمال پاکستانیوں نے حکومت سے فوری مداخلت اور رہائی کے لیے اقدامات کی اپیل کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق عملے کے ارکان نے خوراک، صاف پانی اور طبی سہولیات کی کمی کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا۔ بعض یرغمالیوں کے بیمار ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
جون میں پاکستانی وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی تھی کہ یرغمالیوں کی رہائی ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی اور حکومت صومالی حکام، جہاز کے مالک اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس معاملے پر صومالی وزیر خارجہ سے بھی رابطہ کیا تھا اور یرغمالیوں کی خیریت، رہائی اور محفوظ وطن واپسی پر زور دیا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ اسحاق ڈار کے برطانیہ کے دورے کو پاکستان کی سفارتی کوششوں کے اگلے اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن سے خصوصی رابطہ
اسحاق ڈار اپنے دورے کے دوران انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کے سیکریٹری جنرل سے بھی خصوصی ملاقات کریں گے۔
اس ملاقات کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ MT Honour 25 کا معاملہ صرف پاکستان کے شہریوں کی رہائی تک محدود نہیں بلکہ عالمی بحری سلامتی اور بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ سے بھی جڑا ہوا ہے۔
پاکستان عالمی میری ٹائم اداروں کے ذریعے اس معاملے پر بین الاقوامی تعاون بڑھانے، یرغمالیوں کی سلامتی یقینی بنانے اور ان کی جلد رہائی کے لیے مؤثر سفارتی دباؤ پیدا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
بحری قزاقی کا مسئلہ عالمی تجارت اور جہاز رانی کے لیے ایک دیرینہ چیلنج ہے۔ اگرچہ صومالی قزاقی کے واقعات میں ماضی کے مقابلے میں نمایاں کمی آئی تھی، تاہم 2026 میں MT Honour 25 جیسے واقعات نے ایک بار پھر اس خطرے کی جانب عالمی توجہ مبذول کرائی ہے۔
پاکستانی جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈینیشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق MT Honour 25 کو 21 اپریل کو صومالی ساحل کے قریب قزاقوں نے ہائی جیک کیا تھا۔
پاکستانی خاندانوں کی نظریں حکومت پر مرکوز
MT Honour 25 کے عملے کی طویل قید نے پاکستان میں ان کے خاندانوں کے لیے شدید ذہنی اور جذباتی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
متاثرہ خاندان بارہا حکومت سے اپیل کر چکے ہیں کہ ان کے پیاروں کی جلد از جلد واپسی یقینی بنائی جائے۔ بعض خاندانوں نے احتجاج بھی کیا اور حکومت سے سفارتی کوششیں مزید تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔
اگست میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق یرغمالیوں کے خاندانوں کی پریشانی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب انہیں اپنے عزیزوں کی صحت کے حوالے سے تشویشناک پیغامات موصول ہوئے۔
پاکستانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ معاملہ مسلسل نگرانی میں ہے اور متعلقہ وزارتوں، صومالی حکام، بین الاقوامی اداروں اور دیگر فریقوں کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔
صومالی حکام کے ساتھ مذاکرات میں پیچیدگیاں
MT Honour 25 کے معاملے کی سب سے بڑی پیچیدگی یہ ہے کہ جہاز صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ کے ساحل کے قریب موجود ہے، جہاں مقامی قبائلی، سیاسی اور انتظامی عوامل بھی مذاکرات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جہاز کے مالکان، قزاقوں اور مقامی فریقوں کے درمیان رابطے کا معاملہ بھی اس بحران کو پیچیدہ بناتا رہا ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے ماضی میں اس بات پر زور دیا کہ حکومت تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور یرغمالیوں کی سلامتی کو اولین ترجیح حاصل ہے۔
اسی پیچیدہ صورتحال کے باعث حکومت پاکستان عسکری کارروائی کے بجائے سفارتی رابطوں اور بین الاقوامی تعاون کو ترجیح دیتی دکھائی دیتی ہے، تاکہ یرغمالیوں کی جانوں کو کسی اضافی خطرے سے دوچار کیے بغیر مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔
دولت مشترکہ کی قیادت سے بھی ملاقات
اسحاق ڈار اپنے دورے کے دوران دولت مشترکہ کی سیکریٹری جنرل شرلی ایورکور بوچوے سے بھی ملاقات کریں گے۔
دولت مشترکہ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان عالمی سطح پر اپنے مفادات، شہریوں کے تحفظ اور سمندری سلامتی سے متعلق معاملات کو مزید اجاگر کر سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے دولت مشترکہ کی اہمیت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ اس تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان سیاسی، سفارتی، اقتصادی اور عوامی روابط کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔
نائب وزیراعظم کی دولت مشترکہ کی قیادت سے ملاقات میں عالمی سلامتی، بین الاقوامی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے امکانات زیر بحث آنے کی توقع ہے۔
برطانوی اراکین پارلیمنٹ سے ملاقاتیں
اسحاق ڈار برطانیہ میں مختلف اراکین پارلیمنٹ سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں کے ذریعے پاکستان برطانوی سیاسی حلقوں کو خطے کی صورتحال، عالمی سلامتی اور پاکستان کے خارجہ پالیسی مؤقف سے آگاہ کرے گا۔
MT Honour 25 کے معاملے پر بھی برطانوی قانون سازوں کی حمایت اور عالمی سطح پر توجہ حاصل کرنا پاکستان کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔
برطانیہ کی عالمی سفارتی اور میری ٹائم حیثیت کے باعث لندن کی حمایت پاکستان کی ان کوششوں کو مزید تقویت دے سکتی ہے جو پاکستانی شہریوں کی محفوظ رہائی کے لیے کی جا رہی ہیں۔
پاکستانی کمیونٹی سے بھی اہم رابطہ
پانچ روزہ دورے کے دوران اسحاق ڈار برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
برطانیہ میں مقیم پاکستانی نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان مضبوط انسانی اور ثقافتی رابطے کا ذریعہ ہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
کمیونٹی رہنماؤں سے ملاقات میں برطانیہ میں پاکستانی شہریوں سے متعلق معاملات، دوطرفہ روابط اور پاکستان کی خارجہ پالیسی ترجیحات پر گفتگو متوقع ہے۔
پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات میں نئی جہتیں
اسحاق ڈار کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان برطانیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید وسیع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، دفاع، انسداد دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی اور عوامی روابط سمیت متعدد شعبوں میں تعاون موجود ہے۔
پاکستانی حکومت کی کوشش ہے کہ سیاسی اور سکیورٹی روابط کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو بھی مزید مضبوط بنایا جائے۔
اس دورے میں عالمی سکیورٹی کے معاملات بھی خصوصی اہمیت رکھیں گے، کیونکہ پاکستان اور برطانیہ دونوں مختلف بین الاقوامی بحرانوں، دہشت گردی، بحری سلامتی اور علاقائی تنازعات کے اثرات سے متعلق اپنے اپنے تجربات رکھتے ہیں۔
برطانیہ کے ذریعے عالمی سفارتی حمایت حاصل کرنے کی کوشش
تجزیاتی طور پر دیکھا جائے تو اسحاق ڈار کے دورے کا MT Honour 25 سے متعلق پہلو پاکستان کے لیے سب سے فوری اور حساس معاملہ ہے۔
پاکستان پہلے ہی صومالی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے، لیکن طویل عرصے تک یرغمالیوں کی رہائی نہ ہونے کے باعث اسلام آباد کے لیے بین الاقوامی سطح پر سفارتی تعاون بڑھانا اہم ہو گیا ہے۔
برطانیہ اور عالمی میری ٹائم اداروں کو اس معاملے میں شامل کرنے سے پاکستان کو ایک وسیع سفارتی فریم ورک تشکیل دینے میں مدد مل سکتی ہے، جس کے ذریعے صومالی حکام، جہاز کے مالکان اور دیگر متعلقہ فریقوں پر یرغمالیوں کی محفوظ رہائی کے لیے مزید مؤثر دباؤ ڈالا جا سکے۔
قزاقی کے خلاف عالمی تعاون کی ضرورت
MT Honour 25 کا واقعہ ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ سمندری قزاقی اگرچہ عالمی سطح پر پہلے کے مقابلے میں محدود ہوئی ہے، لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
بحری جہازوں پر حملے نہ صرف عملے کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی سپلائی چینز کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے اس واقعے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ متاثرہ عملے میں 10 پاکستانی شہری شامل ہیں۔ چنانچہ اسلام آباد کی سفارتی کوششیں اب صرف ایک بحری واقعے کے حل تک محدود نہیں بلکہ پاکستانی شہریوں کے بیرون ملک تحفظ اور سمندری شعبے سے وابستہ پاکستانی افرادی قوت کے مستقبل سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔
سفارتی کوششوں کا نیا مرحلہ
اسحاق ڈار کے دورہ برطانیہ سے قبل پاکستانی حکومت نے MT Honour 25 کے معاملے پر سفارتی سرگرمیاں تیز کی ہیں۔ اگست میں نائب وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھی یرغمال پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے سفارتی روابط مزید بڑھانے کی ہدایت دی گئی تھی۔
اب برطانیہ کا دورہ اسی سفارتی مہم کو بین الاقوامی سطح پر مزید وسعت دینے کا موقع فراہم کرے گا۔
اسلام آباد کی بنیادی ترجیح واضح ہے: پاکستانی شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ رکھتے ہوئے ان کی جلد اور باعزت وطن واپسی یقینی بنائی جائے۔
نتیجہ
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا 24 سے 28 اگست تک برطانیہ کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان کو بیک وقت دو اہم سفارتی اہداف کا سامنا ہے—ایک جانب برطانیہ کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور دوسری جانب MT Honour 25 پر صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی بحری عملے کی محفوظ رہائی کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنا۔
10 پاکستانی شہریوں سمیت 17 رکنی عملے کی طویل حراست اور ان کی صحت سے متعلق سامنے آنے والی تشویشناک اطلاعات نے اس معاملے کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔
لندن میں برطانوی حکام، دولت مشترکہ کی قیادت، اراکین پارلیمنٹ اور انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل سے ملاقاتیں پاکستان کو ایک وسیع سفارتی پلیٹ فارم فراہم کریں گی۔ اگر ان کوششوں کے نتیجے میں صومالی حکام، بین الاقوامی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم ہوتا ہے تو پاکستانی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جاری کوششوں کو نئی سمت مل سکتی ہے۔
فی الحال پاکستان کی تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ کئی ماہ سے اپنے خاندانوں سے دور قید پاکستانی ملاح بحفاظت اپنے گھروں کو واپس پہنچیں۔ اسحاق ڈار کا برطانیہ کا دورہ اسی مقصد کے لیے پاکستان کی جاری سفارتی مہم کا ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے۔



