
افغانستان کی لیبر مارکیٹ میں خواتین کا حصہ صرف پانچ فیصد
اقوام متحدہ کے اس ادارے نے 2021 کے بعد افغانستان کی لیبر مارکیٹ میں 'اہم آبادیاتی اور ادارہ جاتی تبدیلیوں‘ کے خلاف خبردار بھی کیا ہے
مارک ہالم
آئی ایل او نے اس صورت حال کے تدارک کے لیے فوری اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنا افغان معیشت کی مجموعی مضبوطی اور مختلف بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کے اس ادارے نے 2021 کے بعد افغانستان کی لیبر مارکیٹ میں ‘اہم آبادیاتی اور ادارہ جاتی تبدیلیوں‘ کے خلاف خبردار بھی کیا ہے، جن میں سے بہت سی تبدیلیاں خواتین کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوئی ہیں۔
بین الاقوامی ادارۂ محنت کی اس رپورٹ کے مطابق خواتین کی لیبر فورس میں شرکت کی شرح 2020 میں 16.5 فیصد سے کم ہو کر 2026 میں صرف 5.1 فیصد رہ گئی۔ یہ دنیا میں دوسری کم ترین قومی شرح ہے، جبکہ سب سے کم شرح جنگ زدہ عرب ملک یمن میں پائی جاتی ہے۔

اہم وجہ خواتین کے لیے روزگار کے مواقع کی شدید کمی
ایسی نوجوان خواتین جو تعلیم، روزگار یا پیشہ وارانہ تربیت سے محروم ہیں، ان کا تناسب 84 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ 2020 میں یہ شرح 76 فیصد اور 2019 میں 68 فیصد تھی۔ ایسے نوجوان مردوں کی شرح 30 فیصد سے کم بنتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے کے مطابق خواتین کی ملکیت والے کاروبار ان چند شعبوں میں شامل ہیں، جن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے کاروباروں کی تعداد میں تقریباً دس گنا اضافہ ہوا، تاہم اس کی ایک بڑی وجہ خواتین کے لیے روزگار کے دیگر مواقع کی شدید کمی بھی ہے۔
افغانستان میں آئی ایل او کے دفتر کے سربراہ کا کہنا ہے، ”افغانستان اس وقت تک ایک مضبوط اور بحرانوں کا مقابلہ کرنے والی لیبر مارکیٹ تشکیل نہیں دے سکتا، جب تک اس کی آبادی کا اتنا بڑا حصہ معاشی سرگرمیوں سے باہر ہے۔‘‘

افغان معیشت بھی شدید دباؤ میں
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے پانچ سال بعد بھی افغانستان کی لیبر مارکیٹ ”شدید دباؤ‘‘ کا شکار ہے اور 2021 کے معاشی بحران کے بعد سے صرف معمولی حد تک ہی بحال ہوئی ہے۔
افغانستان کے اندر آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے واپس آنے والے افغان شہریوں کی تعداد نے بھی روزگار کی طلب بڑھا دی ہے۔ نتیجتاً کام کرنے والے افراد کا تناسب مجموعی آبادی کے تقریباً ایک تہائی سے بھی کم سطح پر تقریباً جمود کا شکار ہے۔
رپورٹ میں لیبر فورس سے متعلق اعداد و شمار جمع کرنے میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ آئی ایل او نے خبردار کیا کہ اس کے بعض اعداد و شمار ماڈلنگ کے تخمینوں پر مبنی ہیں، جن میں ”کافی غیر یقینی صورت حال‘‘ پائی جاتی ہے اور انہیں مناسب احتیاط کے ساتھ سمجھا جانا چاہیے۔
آئی ایل او کی اس رپورٹ کے مطابق بیرون ملک سے افغان شہریوں کی بڑے پیمانے پر واپسی، خاص طور پر ایران اور پاکستان سے آنے والے افراد، ”افغانستان کو درپیش لیبر مارکیٹ کے اہم ترین چیلنجز میں سے ایک‘‘ بن چکی ہے۔
2023 سے رواں سال مئی کے اختتام تک 60 لاکھ سے زائد افغان شہری ایران اور پاکستان سے واپس جا چکے ہیں۔
رپورٹ میں عالمی بینک کے تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مہاجرین کی واپسی سے افغانستان کی معیشت میں بیرون ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر کا اثر کم ہو کر تقریباً نصف ہو سکتا ہے۔ یہ شرح 2020 میں جی ڈی پی کے تقریباً 4 فیصد سے کم ہو کر 2025 تک تقریباً 2 فیصد تک رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔
آئی ایل او نے خبردار کیا پے کہ ایران جنگ افغانستان کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ ان خطرات میں عمومی مہنگائی، خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، تجارت اور نقل و حمل میں رکاوٹیں اور ایران سے مزید افغان شہریوں کی ممکنہ واپسی شامل ہیں۔



