اے ایف پی، ڈی پی اے، روئٹرز کے ساتھ
یوہان واڈے فیہول نے بھی کہا، ”استعمال کیے گئے ذرائع، مثلاً ڈرون کی ساخت، اس کے پرزے، دھماکا خیز مواد اور دھماکا کرنے کے نظام، روس کی دیگر ہائبرڈ کارروائیوں اور یوکرین کے خلاف اس کی جنگ میں استعمال ہونے والے طریقوں سے مماثلت رکھتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یہ حملہ یورپ کے خلاف ”عدم استحکام پیدا کرنے والی کارروائیوں کے ایک طویل سلسلے‘‘ سے مطابقت رکھتا ہے۔
حکام نے 4 اگست کی شام لائپزگ/ہالے ایئرپورٹ کے سکیورٹی زون میں یوکرینی مال بردار طیاروں کے درمیان دھماکا خیز مواد اور دھماکا کرنے کے نظام سے لیس ایک ڈرون دریافت کیا۔ ان کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر ایک دوسرے ڈرون کی قریب ہی موجود ڈی ایچ ایل کے ایک طیارے سے ٹکر بھی ہوئی تھی۔
گزشتہ ہفتے جرمن میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایئرپورٹ پر ایک تیسرا ڈرون بھی ملا تھا، جس میں دھماکا خیز مواد موجود تھا۔
وزیر داخلہ ڈوبرنٹ نے منگل کو کہا، ”مجموعی طور پر پولیس کی تحقیقات، جرم کے طریقۂ کار اور انٹیلی جنس سے حاصل ہونے والی معلومات لائپزگ ایئرپورٹ پر حملے کی کوشش میں روس کی ذمہ داری کو ثابت کرتی ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ”ہم لائپزگ کے واقعے کو کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے دیگر ہائبرڈ کارروائیوں کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ہمیں خدشہ ہے کہ روس کی جانب سے مزید ہائبرڈ حملوں کا ہدف جرمنی بن سکتا ہے۔‘‘

جرمنی کا ردعمل کیا ہو سکتا ہے؟
ڈوبرنٹ نے زور دے کر کہا کہ جرمنی ” حالت جنگ میں نہیں ہے‘‘ تاہم وہ ”ہر روز ہائبرڈ وار فیئر کا نشانہ‘‘ بن رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی لیے جرمنی لائپزگ میں ہونے والے ہائبرڈ حملے کا ”متناسب، محتاط لیکن پُرعزم انداز‘‘ میں جواب دے گا۔
وزیر خارجہ واڈے فیہول نے کہا کہ جرمنی کا ردعمل یورپی یونین اور نیٹو کے شراکت داروں کے ساتھ مشورے اور تعاون سے طے کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا، ”ہم روسی شہریوں کے داخلے پر کنٹرول سخت کر رہے ہیں اور برلن مزید روسی افراد کو یورپی یونین کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز دے گا۔‘‘
اندرونی سکیورٹی مضبوط بنانے کے علاوہ وزیر خارجہ نے مزید اقدامات کا بھی اعلان کیا، جن میں 18 ستمبر سے مغربی شہر بون میں روسی قونصل خانے کی بندش اور برلن میں روسی ثقافتی مرکز ‘رشین ہاؤس‘ چلانے سے متعلق معاہدہ ختم کرنا شامل ہے۔
جرمن وزیر خارجہ نے کہا، ”روسی قیادت کے لیے ہمارا پیغام واضح ہے۔ ”ہم اپنی سکیورٹی پالیسی پر قائم ہیں۔‘‘ لائپزگ پر حملہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ پالیسی ضروری ہے۔ ہم روسی حملوں کے ذریعے اپنے معاشرتی اتحاد کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔ جب ہماری آبادی کے تحفظ کا تقاضا ہوگا، ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کارروائی کے لیے تیار رہیں گے۔‘‘
نیٹو اور یورپی یونین کا ردعمل
نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک رُٹے نے کہا، ”14 اگست کو لائپزگ میں روس کے ہائبرڈ حملے کے بعد نیٹو جرمنی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اتحاد اپنے ارکان کو لاحق خطرات کے خلاف انہیں روکنے اور ان کے خلاف دفاع کرنے کی صلاحیت مزید مضبوط کرتا رہے گا۔
یورپی کمیشن کی صدر اُرزولا فان ڈیر لاین نے کہا، ”ہم روسی جارحیت کے خلاف کھڑے ہونے کے عزم میں متحد ہیں۔ ہم ہر اس شخص کو روکیں گے جو ہماری آزادی اور سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ روس ہمارے معاشروں میں عدم اعتماد اور خوف پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن وہ ناکام ہوگا۔ جب تک ضرورت ہو گی، ہم یوکرین کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔‘‘
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس نے منگل کو اس سے قبل کہا تھا کہ یہ واضح ہے کہ ڈرون کے واقعے میں روس ملوث تھا۔
کالاس نے کہا کہ روس مسلسل زیادہ اشتعال انگیز اقدامات کر رہا ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ماسکو کو کشیدگی مزید بڑھانے سے روکنے کے لیے کیسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے برلن کے الزامات مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جرمن قیادت اس واقعے کو اپنی ناکامیوں اور ووٹرز میں پائی جانے والی بے اطمینانی کی طرف سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور اسے ”جارح روس کا مقابلہ کرنے کی ضرورت‘‘ کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
پوٹن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ روس کو جان بوجھ کر اس معاملے میں پھنسایا جا رہا ہے۔
انہوں نے بدھ کو کرغزستان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”ثبوت کہاں ہے؟ ‘‘
دریں اثنا یوکرین نے لائپزگ ایئرپورٹ پر ناکام ڈرون حملے کے بعد روس کے خلاف برلن کے اقدامات کا خیرمقدم کیا۔



