صحتتازہ ترین

کانگو میں ایبولا قابو سے باہر ہوتا جا رہا ہے

حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں کانگو کے مشرقی علاقے کیوو کے شمال میں بھی وائرس پھیل گیا، جس کے بعد متاثرہ صوبوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔

جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 3,000 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ تصدیق شدہ کیسز 6,100 سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مئی کے وسط میں عالمی صحت کی ایمرجنسی قرار دیے جانے کے بعد سے اب تک 6,186 کیسز اور 3,007 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں کانگو کے مشرقی علاقے کیوو کے شمال میں بھی وائرس پھیل گیا، جس کے بعد متاثرہ صوبوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔
صحت کے کارکن خراب حالات، سکیورٹی خدشات اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ وہ متعدد بار ہڑتالیں بھی کر چکے ہیں۔ مشرقی کانگو میں جاری تنازعات، صحت کے عملے پر حملے، کان کنوں کی مسلسل نقل و حرکت اور کمزور طبی ڈھانچے کو وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ وبا 2014 سے 2016 کے درمیان مغربی افریقہ میں پھیلنے والی ایبولا کی سب سے مہلک وبا کے ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ سکتی ہے،جس میں 11 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ افریقہ سی ڈی سی کے مطابق حقیقی متاثرین کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ وہاں نگرانی اور رابطہ تلاش کرنے کا نظام اب بھی کمزور ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈھانوم گیبریئس نے جنیوا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’جب تک اس مہلک مرض کی تمام کڑیاں نہیں مل جاتیں اور اس زنجیر کو توڑ نہیں دیا جاتا، یہ کانگو کے پڑوسی ممالک سمیت پورے خطے کے لیے خطرہ بنی رہے گی۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button