مشرق وسطیٰتازہ ترین

شام میں حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں، لبنان میں سابق شامی فوجی افسر گرفتار

عہدیدار کے مطابق اس نیٹ ورک کا مبینہ سربراہ شامی فوج کا ایک سابق میجر جنرل بھی ہے، جس کا شمار سابق صدر بشار الاسد کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے اور وہ اس وقت ماسکو میں مقیم ہے۔

لبنان نے ایک سابق شامی فوجی افسر اور اس کے کئی ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ہے جن پر شام کی نئی حکومت کی سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔
ایک لبنانی عدالتی عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ گرفتار افراد میں دو لبنانی اور تین شامی شہری شامل ہیں، جن میں شامی انٹیلی جنس سروس کا ایک سابق کرنل بھی شامل ہے۔ حکام نے ان کے قبضے سے خودکار ہتھیار، دستی بم، سنائپر رائفلیں اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا ہے۔
عہدیدار کے مطابق اس نیٹ ورک کا مبینہ سربراہ شامی فوج کا ایک سابق میجر جنرل بھی ہے، جس کا شمار سابق صدر بشار الاسد کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے اور وہ اس وقت ماسکو میں مقیم ہے۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمان شام کے ساحلی علاقوں میں نئی حکومتی فورسز کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ شام کا یہ علاقہ علوی اقلیت کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ سابق صدر اسد کے خاندان کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔
ذرائع کے مطابق نیٹ ورک کے ارکان نے مشرقی لبنان میں حزب اللہ کے جنگجوؤں سے عسکری تربیت بھی حاصل کی۔ ایران نواز حزب اللہ شامی خانہ جنگی کے دوران بشار الاسد کی حکومت کی اہم حامی رہی تھی، تاہم دسمبر 2024 میں نئی شامی قیادت کے اقتدار میں آنے کے بعد خطے کی سیاسی صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی۔
شام اور لبنان حالیہ برسوں میں تعلقات کا نیا باب کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔گزشتہ ماہ لبنان نے اسد دور کے ایک سابق جنرل کو بھی شام کے حوالے کیا تھا، جس پر قتل اور تشدد سمیت سنگین جرائم کے الزامات عائد ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button